<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آبی_ذخائر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a2%d8%a8%db%8c_%d8%b0%d8%ae%d8%a7%d8%a6%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 21 Oct 2026 01:57:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>آبی_ذخائر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کراچی: ڈملوٹی سے پانی کی فراہمی کا نیا منصوبہ، 10 ملین گیلن یومیہ پانی ملے گا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%88%d9%85%d9%84%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%88%d9%85%d9%84%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 01:57:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آبی_ذخائر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پانی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈملوٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_ایچ_اے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_منصوبہ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ملیر]]></category>
		<category><![CDATA[واٹر_سپلائی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%88%d9%85%d9%84%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی کے تاریخی آبی وسیلے ڈملوٹی سے ڈیفنس اور ملحقہ علاقوں کے لیے 14 ارب روپے کی لاگت سے پانی کی فراہمی کا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کی فراہمی ایک دیرینہ اور اہم مسئلہ رہا ہے، جس کے حل کے لیے اب تاریخی ڈملوٹی کے آبی نظام کو جدید خطوط پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملیر کے تاریخی مقام ڈملوٹی سے ڈیفنس اور اس کے ملحقہ علاقوں کو روزانہ 10 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈملوٹی کا یہ آبی نظام تقریباً ڈیڑھ صدی قدیم ہے، جسے انیسویں صدی کے آخر میں کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انجینئرنگ کے ایک شاہکار کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس وقت کے ماہرین نے ملیر کے قدرتی جغرافیے اور زیر زمین پانی کے ذخائر کو استعمال میں لاتے ہوئے پانی کی فراہمی کا مربوط نظام قائم کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی طور پر ڈملوٹی کے کنوؤں اور فلٹریشن گیلریوں کے ذریعے پانی حاصل کیا جاتا تھا، جس کی ابتدائی صلاحیت 5 ملین گیلن یومیہ تھی اور بعد میں اسے بڑھا کر 20 ملین گیلن تک پہنچایا گیا تھا۔ یہ نظام ملیر کینٹ، جامعہ کراچی اور شہر کے دیگر اہم علاقوں تک پانی پہنچانے کا ایک منظم ذریعہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے منصوبے پر تقریباً 14 ارب روپے کی لاگت آئے گی اور اسے 12 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 38 کلومیٹر طویل نئی پائپ لائن بچھائی جائے گی تاکہ ڈی ایچ اے اور اس سے ملحقہ رہائشی علاقوں کو اضافی پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی موجودہ آبادی اور تجارتی ضروریات کے پیش نظر شہر کو روزانہ ایک ارب گیلن سے زائد پانی کی ضرورت ہے، جبکہ دستیاب پانی کی مقدار اس سے کافی کم ہے۔ اگرچہ 10 ملین گیلن کا یہ اضافہ پورے بحران کا حل نہیں، لیکن یہ شہر کے آبی نیٹ ورک کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈملوٹی کا نظام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ پانی کے مسائل کا حل صرف بڑے ڈیموں میں نہیں بلکہ قدرتی آبی ذرائع اور زیر زمین پانی کے ذخائر کے تحفظ میں بھی پوشیدہ ہے۔ ملیر دریا اس پورے نظام کی بنیاد ہے، جس کے قدرتی ری چارج علاقوں کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حاصل کردہ پانی کو ایک مربوط شہری واٹر گرڈ کا حصہ بنایا جائے اور ترسیلی نقصانات کو کم کیا جائے۔ پرانی لائنوں کی مرمت، غیر قانونی کنکشنز کا خاتمہ اور پانی کی تقسیم میں شفافیت لانا بھی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جدید شہری انتظام میں پانی کی ہر بوند کا حساب رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پانی کس ذخیرے سے آیا اور کس علاقے میں کتنا تقسیم ہوا۔ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے ایک شفاف میٹرنگ اور نگرانی کا نظام اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری مساوات کے اصول کے تحت، نئے منصوبوں کا فائدہ شہر کے تمام حصوں تک پہنچنا چاہیے۔ ڈی ایچ اے کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں کے مکین بھی پانی جیسی بنیادی سہولت کے حق دار ہیں، جس کے لیے ایک جامع شہری حکمت عملی کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے مسائل صرف پانی تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس میں ٹرانسپورٹ، سیوریج اور بجلی جیسے دیگر چیلنجز بھی شامل ہیں۔ کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ کا قیام بھی شہر کی مجموعی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈملوٹی کا یہ تاریخی ورثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دور اندیش منصوبہ بندی سے شہروں کا مستقبل بدلا جا سکتا ہے۔ آج کے دور میں دستیاب جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی معلومات کو بروئے کار لا کر کراچی کے پانی کے بحران کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کو چاہیے کہ ڈملوٹی کے تاریخی کنوؤں اور آبی تنصیبات کی دستاویز بندی کریں اور انہیں ایک آبی ورثے کے طور پر محفوظ بنائیں۔ نئی نسل کو بھی اس بات سے آگاہ کرنا ضروری ہے کہ کراچی کے پانی کا سفر کس طرح ایک منظم نظام کے تحت شروع ہوا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ کراچی کے شہریوں کے لیے پانی کی قلت میں کمی کا باعث بنے گا۔ اگر اس منصوبے کو شفافیت اور بروقت تکمیل کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ شہر کے بہتر مستقبل کی جانب ایک مستحکم پیش رفت ثابت ہو گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%88%d9%85%d9%84%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
