<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آئی_جی_اسلام_آباد &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a2%d8%a6%db%8c_%d8%ac%db%8c_%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85_%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 09:49:05 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>آئی_جی_اسلام_آباد &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اسلام آباد ہائیکورٹ: مقدمے سے بری ہونے والوں کے سرٹیفکیٹ میں ایف آئی آر درج نہ کرنے کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/islamabad/4150/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/islamabad/4150/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 09:49:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلام آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_جی_اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کریکٹر_سرٹیفکیٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%92-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے بریت کے بعد ایف آئی آر کا کریکٹر سرٹیفکیٹ میں حوالہ غیر قانونی قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں ہدایت کی ہے کہ عدالت سے مقدمے میں بری ہونے والے شہریوں کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں اس مقدمے یا ایف آئی آر کا حوالہ درج نہ کیا جائے۔ عدالت نے اس حوالے سے آئی جی اسلام آباد کو باقاعدہ طریقہ کار وضع کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ جسٹس ایاز شوکت نے مفاد عامہ کے تحت ایک درخواست پر سماعت کے بعد جاری کیا۔ عدالت نے تھانہ شالیمار کی ایک ایف آئی آر کا حوالہ کریکٹر سرٹیفکیٹ سے ختم کرتے ہوئے شہری کی درخواست منظور کرلی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ پولیس کے لیے یہ قانونی گنجائش نہیں ہے کہ وہ کریکٹر سرٹیفکیٹ میں حتمی بریت پر ختم ہونے والی ایف آئی آر کو ظاہر کرے۔ پولیس اپنا اندرونی ریکارڈ اپنے پاس رکھنے کا حق رکھتی ہے لیکن بیرون ملک جانے والے شہری کے سرٹیفکیٹ میں اس کا اندراج نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے مزید واضح کیا کہ کسی بھی بری ہونے والے شخص کو مجرم کی طرح پیش کرنا آئین کے آرٹیکل 4، 9، 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے۔ قانون شہریوں کو جو حق فراہم کر چکا ہے اس کے حصول کے لیے شہریوں کو بار بار عدالت آنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/islamabad/4150/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کیس: آئی جی اسلام آباد طلب، ایس پی اور ڈی ایس پی کو نوٹس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1092/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1092/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 12:58:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_جی_اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_ریکارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%86%da%be%d9%b9%db%81-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%ac%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف احتجاج اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران تفتیشی افسر کی مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے کارروائی کے دوران تفتیشی افسر کے عدالت میں پیش نہ ہونے اور مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کا سخت نوٹس لیا۔ اس سلسلے میں عدالت نے ایس پی انویسٹی گیشن اور ڈی ایس پی کو طلب کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر دیے، جبکہ آئندہ تاریخ پر آئی جی اسلام آباد کو بھی طلب کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی۔ سماعت کے آغاز پر جب ملزمان کے وکلا اور سرکاری وکیل کمرہ عدالت میں موجود تھے، تو جج نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کہاں ہے اور وہ کیوں غائب ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناپ کورٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تفتیشی افسر اس وقت گلگت بلتستان کے علاقے خپلو گئے ہوئے ہیں اور تاحال واپس نہیں لوٹے۔ اس جواب پر عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ پولیس حکام کو فوری طور پر طلب کرنے کا حکم صادر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل آصف عرفان اور دیگر وکلا نے عدالت کے روبرو مؤقف اپنایا کہ ضمانت کی درخواست دائر کیے ہوئے کافی دن گزر چکے ہیں لیکن تفتیشی افسر کی عدم دستیابی اور ریکارڈ پیش نہ ہونے کے باعث معاملہ لٹکا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکلا نے عدالت کو بتایا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں اگر تفتیشی افسر موجود نہ بھی ہو تو کوئی دوسرا ذمہ دار اہلکار ریکارڈ لے کر پیش ہو جاتا ہے، لیکن اس کیس میں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے عدالتی نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں وقفے کے بعد ایس پی خرم اور ڈی ایس پی نعیم یوسف پیش ہوئے۔ ڈی ایس پی نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر کی واپسی میں مزید دس سے پندرہ دن کا وقت لگ سکتا ہے، جس پر عدالت نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ یہ کیا طریقہ کار ہے کہ عدالت کے تمام فریقین اور خود جج صاحب انتظار کرتے رہیں اور تفتیشی افسر چھٹیوں پر یا باہر موجود ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ سماعت تک مقدمے کا مکمل ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو متعلقہ پولیس افسران کے خلاف جیل بھیجنے کی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے واضح کیا کہ پولیس کی اس سستی اور عدم توجہی کی وجہ سے عام شہریوں اور کارکنان کو طویل عرصے تک غیر ضروری قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی تناظر میں عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران گرفتار کیے گئے اور شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل کیے گئے کارکنان کو بھی متعلقہ مقدمات سے ڈسچارج کرنے کا حکم صادر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب عدالت نے اس کارروائی کے دوران جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرپرسن نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کی ضمانت پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔ وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے اختیارات کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کرے تاکہ انصاف کی فراہمی میں مزید تاخیر نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف زیرِ سماعت مقدمے کی مزید کارروائی آئندہ ماہ کی تین تاریخ تک کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون کے مطابق تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور آئندہ تاریخ پر آئی جی اسلام آباد کی پیشی لازمی ہوگی تاکہ اس تاخیر کا مؤثر جواب حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں اس نوعیت کے کیسز کی سماعت کے دوران اکثر پولیس افسران کی عدم حاضری کا مسئلہ سامنے آتا رہا ہے، جس پر وکلا برادری کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ریکارڈ کی عدم فراہمی سے عدالتی امور بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور ملزمان کے آئینی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی احکامات کی روشنی میں اب تمام نظریں آئندہ ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں اسلام آباد پولیس کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام کو اس غفلت کی وضاحت کرنا ہوگی۔ مقدمے میں شامل دفعات اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ہونے والی کارروائی پر بھی قانونی حلقوں کی گہری نظر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1092/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد میں قواعد کی منظوری تک غیرقانونی شیشہ کیفے بند رکھے جائیں: چیف جسٹس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/416/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/416/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 10:18:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_جی_اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جستس_اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[شیشہ_کیفے]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%82%d9%88%d8%a7%d8%b9%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%86%d8%b8%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%aa%da%a9-%d8%ba%db%8c%d8%b1%d9%82%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں غیرقانونی شیشہ کیفوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو طلب کرلیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ میں وفاقی دارالحکومت کے اندر غیرقانونی شیشہ کیفوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت عالیہ نے سخت آبزرویشن دیتے ہوئے واضح کیا کہ ضابطہ کار اور قواعد کی تیاری تک شہر میں شیشہ کیفے چلانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی کارروائی کے دوران ریمارکس دیے کہ کم عمر بچوں کو شیشہ پینے کی لت میں مبتلا کیا جا رہا ہے، جبکہ قانونی کارروائی کے لیے جانے والے مجاز حکام کو نجی ملکیت کا عذر پیش کرکے اندر داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو دوپہر 2 بجے ذاتی حیثیت میں طلب کیا اور ہدایت کی کہ دونوں اعلیٰ ضلعی افسران عدالت میں یہ بیانِ حلفی جمع کرائیں کہ شہر میں کوئی بھی غیرقانونی شیشہ کیفے فعال نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شیشہ کیفوں کو ضابطے میں لانے کے لیے مسودہ قواعد تیار کرکے حتمی منظوری کے لیے حکومت کو بھجوا دیا گیا ہے، جن کی منظوری جلد متوقع ہے تاکہ اس کاروبار کو ریگولیٹ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جب تک متعلقہ قوانین اور ضوابط کی باقاعدہ منظوری عمل میں نہیں آتی، اس وقت تک تمام شیشہ کیفوں کو فوری طور پر بند رکھا جائے تاکہ اس قبیح فعل کی مزید حوصلہ شکنی کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر چیف جسٹس نے یاد دلایا کہ عدالت کے گزشتہ حکم کا بعض عناصر نے غلط مطلب لیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ جیسے عدالت نے شیشہ کیفے چلانے کی عام اجازت دے دی ہے، جس سے عدالتی احکامات کی ساکھ متاثر ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے واضح کیا کہ قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی میں غیرقانونی سرگرمیوں کو کیسے جاری رہنے دیا جا سکتا ہے، کیونکہ بچوں کو اس جان لیوا عادت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کارروائی سے روکا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پراسیکیوٹر جنرل نے اس موقع پر سپریم کورٹ کے سابقہ ازخود نوٹس کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اعلیٰ عدالت شیشہ کیفوں پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکی ہے، لہذا اس غیرقانونی سرگرمی کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈائریکٹر لیگل آئی جی آفس نے بھی عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ اگر متعلقہ قانون اور قواعد موجود نہیں ہیں تو اس نقصان دہ سرگرمی کو مکمل طور پر روکا جانا چاہیے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات کا بھی حوالہ دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب آئی جی اسلام آباد پولیس کی جانب سے شیشہ کیفوں اور منشیات کے خلاف کارروائیوں پر مبنی تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرا دیا گیا، جس میں پولیس پر لگائے جانے والے غفلت کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 15 جولائی 2026 کے دوران قانون شکنی پر شہر کے 10 تھانوں میں کل 28 مقدمات درج کیے گئے، اور شیشہ نوشی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر پہلے مرحلے میں 119 ملزموں کو نامزد کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 16 جولائی سے 7 ستمبر 2026 کے درمیانی عرصے میں مزید 61 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ عدالتی احکامات کی روشنی میں 13 تھانوں کی حدود میں کارروائیاں کرتے ہوئے 163 ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی جی اسلام آباد کے جمع کردہ جواب میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت میں منشیات اور شیشہ کیفوں کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں، اور اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 26 اپریل 2024 سے نشہ اب نہیں کے عنوان سے آگاہی مہم بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے، جبکہ تعلیمی اداروں، ہاسٹلز، پبلک پارکس اور بس اڈوں کے اطراف انٹیلی جنس بیسڈ گشت میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسپیشل برانچ کو نئے اور پرانے تمام شیشہ کیفوں کی نشاندہی اور معلومات اکھٹی کرنے کی خصوصی ذمے داری سونپی گئی ہے، اور نگرانی کے لیے تھانہ نیز سب ڈویژن کی سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تجارتی مراکز اور اہم مقامات پر لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کو سیف سٹی پروجیکٹ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے، اور شیشہ کیفوں کے خلاف خفیہ گاہکوں کی مدد سے بھی کامیاب آپریشن کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے عدالت کو بتایا کہ عام شہری انفو ون ایپ اور دیگر دستیاب ذرائع کے ذریعے غیرقانونی شیشہ کیفوں کی اطلاع براہ راست فراہم کرسکتے ہیں، اور ان تمام کارروائیوں کی مرکزی سطح پر مؤثر نگرانی کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے عدالت سے استدعا کی کہ محکمہ پولیس پر لگائے جانے والے غفلت اور لاپرواہی کے تمام الزامات حقائق کے برعکس اور بے بنیاد ہیں، اس لیے شیشہ کیفوں سے متعلق دائر کی گئی اس درخواست کو اب نمٹا دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد چیف کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہدایت کی کہ وہ دوپہر کو مقررہ وقت پر پیش ہوں، اور ان کے حلف نامے آنے کے بعد اس اہم معاملے پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/416/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
