<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آئین_پاکستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86_%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>آئین_پاکستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آئین کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا طریقہ کار: اہم قانونی نکات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹیکل_232]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹیکل_234]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صدر_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/</guid>

					<description><![CDATA[ملک میں ہنگامی صورتحال یا آئینی بحران کے دوران آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وفاقی حکومت کے اختیارات اور پارلیمانی منظوری کا طریقہ کار واضح ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے آئین میں ملک کی سلامتی، داخلی استحکام اور آئینی مشینری کی فعالیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے واضح طریقہ کار موجود ہیں۔ ان میں آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جو وفاقی حکومت کو مخصوص حالات میں خصوصی اختیارات تفویض کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جنگ، بیرونی جارحیت یا کسی صوبے میں قابو سے باہر داخلی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی کا اعلان کر سکیں۔ اگر ایمرجنسی کا نفاذ کسی صوبے میں داخلی انتشار کی بنیاد پر کیا جا رہا ہو، تو اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کا ہونا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمرجنسی کے اعلان کے بعد یہ لازم ہے کہ اسے 10 روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔ اس کے علاوہ، اعلان کے 30 روز کے اندر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا بھی آئینی تقاضا ہے تاکہ اس اقدام کی توثیق کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران وفاقی حکومت کے انتظامی اختیارات میں وسعت آ جاتی ہے۔ وفاق صوبائی حکومت کو انتظامی امور کے حوالے سے ہدایات جاری کر سکتا ہے اور صوبائی حکومت کے بعض یا تمام فرائض اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے یا یہ ذمہ داری گورنر کو تفویض کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دوران پارلیمنٹ کو صوبائی معاملات پر قانون سازی کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی صوبائی قانون وفاقی قانون سے متصادم ہو، تو وفاقی قانون کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم، ایمرجنسی کے دوران بھی وفاقی حکومت ہائی کورٹ کے اختیارات کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر پارلیمنٹ سے ایمرجنسی کی مطلوبہ منظوری نہ مل سکے تو یہ اعلان دو ماہ کے بعد خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران قومی اسمبلی کی مدت میں ایک سال تک کی توسیع کی جا سکتی ہے، لیکن یہ توسیع ایمرجنسی کے خاتمے کے 6 ماہ بعد تک برقرار نہیں رہ سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کا آرٹیکل 233 ایمرجنسی کے دوران بنیادی انسانی حقوق پر اثرات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کے تحت صدر مملکت مخصوص بنیادی حقوق، جیسے نقل و حرکت، پرامن اجتماع، اظہار رائے اور جائیداد کے تحفظ کے حقوق کے نفاذ کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا حق معطل کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق ہے۔ جب کسی صوبے میں آئین کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے، تو گورنر کی رپورٹ پر صدر مملکت صوبے میں خصوصی آئینی اعلان جاری کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر راج کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے الگ الگ قراردادوں کی منظوری لازمی ہے۔ اس عمل کے تحت صدر صوبائی حکومت کے اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو ہدایت کر سکتے ہیں کہ وہ صدر کی جانب سے ان اختیارات کا استعمال کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آرٹیکل 234 کے تحت نافذ کیے گئے گورنر راج کی مدت ہر دو ماہ بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانا ضروری ہے۔ آئینی شقوں کے مطابق، کسی بھی صوبے میں گورنر راج مجموعی طور پر 6 ماہ سے زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر راج کے دوران بھی ہائی کورٹ کے اختیارات کو معطل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی صدر یا گورنر ہائی کورٹ کے کسی اختیار کو اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ یہ آئینی انتظام صوبے میں نظم و نسق کی بحالی تک محدود مدت کے لیے ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر قومی اسمبلی تحلیل ہو تو آرٹیکل 234 کے تحت خصوصی اعلان کے لیے الگ طریقہ کار لاگو ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں سینیٹ کی منظوری کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے تاکہ آئینی عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر، پاکستان کا آئین ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو پارلیمانی نگرانی کے تابع رکھتا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی اقدام کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ کی توثیق اور آئینی حدود و قیود کا پاس رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ حل نہیں، مولانا فضل الرحمان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:46:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[مراد_علی_شاہ]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/</guid>

					<description><![CDATA[سربراہ جے یو آئی نے وفاقی حکومت کو سیاسی مذاکرات پر زور دیا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے مشروط حمایت کا عندیہ دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ آیا وفاقی حکومت کو آئینی طور پر صوبائی معاملات میں مداخلت کرنی چاہیے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات دہشت گردی کے خاتمے کا حل نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل سیاسی بات چیت میں مضمر ہے، جس کے لیے وہ جلد اپنی پارٹی کی کور کمیٹی اور اپوزیشن رہنماؤں کو اعتماد میں لیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں گورنر راج کی مشروط حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ گورنر راج جمہوری طور پر ناپسندیدہ ہے، لیکن آئینی طور پر یہ غلط اقدام نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ سندھ نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی گورنر راج کی خواہشمند نہیں ہے، تاہم ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پی ٹی آئی کو سوچنا ہوگا کہ وہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت کو ملک یا کسی حصے میں داخلی انتشار کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، جبکہ اس اعلان کو پارلیمنٹ سے بھی منظور کروانا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا نفاذ تب کیا جاتا ہے جب صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلنا ممکن نہ رہے۔ اس صورت میں وفاقی حکومت صوبے کے انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے، تاہم یہ اقدام پارلیمانی نگرانی کا پابند ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت صوبائی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔ تاہم یہ اقدامات ہائی کورٹ کے آئینی اختیارات کو ختم نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کا نفاذ وفاقی کابینہ ازخود کر سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کا آرٹیکل 236 ان صدارتی اعلانات کو ایک خاص حد تک تحفظ فراہم کرتا ہے، تاہم سپریم کورٹ ماضی میں پیر صابر شاہ کیس کے فیصلے میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ بدنیتی یا آئینی حدود سے تجاوز پر عدالتی مداخلت ممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ اور گورنر خیبر پختونخوا نے صدر مملکت سے ملاقات کر کے بریفنگ بھی دی ہے۔ اس ملاقات میں صوبے کے انتظامی امور اور سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گورنر راج کا فیصلہ ایک انتہائی اقدام ہوگا جس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت سے معذرت کر لی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے مابین اس حساس معاملے پر تاحال کوئی متفقہ رائے موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ وفاقی حکومت آئینی راستوں کا انتخاب کرتی ہے یا سیاسی مذاکرات کے ذریعے بحران کا حل نکالتی ہے۔ تمام تر نگاہیں اب حکومتی فیصلوں پر مرکوز ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
