<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.10.4"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آئس_لینڈ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a2%d8%a6%d8%b3_%d9%84%db%8c%d9%86%da%88/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 14 Oct 2026 12:59:30 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>آئس_لینڈ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے عالمی تعاون اور سائنسی تحقیق ناگزیر ہے، مصدق ملک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%86%d9%85%d9%b9%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%aa/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%86%d9%85%d9%b9%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 12:59:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آئس_لینڈ]]></category>
		<category><![CDATA[آرکٹک_سرکل_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پائیدار_ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سائنسی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گلیشیئرز]]></category>
		<category><![CDATA[ماحولیاتی_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[ماحولیاتی_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[مصدق_ملک]]></category>
		<category><![CDATA[موسمیاتی_تبدیلی]]></category>
		<category><![CDATA[موسمیاتی_خطرات]]></category>
		<category><![CDATA[ورچوئل_گرین_یونیورسٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%86%d9%85%d9%b9%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر نے آئس لینڈ میں آرکٹک سرکل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عالمی شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آئس لینڈ میں منعقدہ آرکٹک سرکل اسمبلی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا انتہائی شدید سامنا ہے اور یہ ملک اس عالمی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اس بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے اور کرہ ارض کو تباہی سے بچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات کی واضح نشاندہی کی کہ پاکستان اس وقت گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلاؤ، سمندر کی سطح میں خطرناک حد تک اضافے اور غیر معمولی و شدید موسمی حالات کی براہ راست زد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مسائل کی وجہ سے نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ کروڑوں شہریوں کی زندگی اور روزگار بھی براہ راست خطرے میں پڑ رہے ہیں جن کے سدباب کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ہمالیائی اور آرکٹک خطوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دے کر گلیشیئرز کے پگھلاؤ کے سنگین چیلنجز سے موثر انداز میں نمٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں خطوں کے حالات میں پائی جانے والی مماثلت کی وجہ سے تجربات کا تبادلہ اور مشترکہ حکمت عملی بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے جو کہ ماحولیاتی توازن بحال کرنے میں مدد دے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسمیاتی خطرات کے فوری تدارک کے لیے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس دانوں، محققین اور پالیسی سازوں کے مابین رابطوں کو مزید مستحکم بنایا جائے۔ ان کا ماننا تھا کہ زمینی حقائق کی بنیاد پر پالیسیاں بنانے کے لیے سائنسی تحقیق بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اس کے بغیر ماحولیاتی اہداف کا حصول ناممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس امر کا بھرپور اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی انصاف کے حصول کے لیے تمام پرامن اور دوست ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے حالانکہ اس میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے لہذا عالمی سطح پر انصاف کا تقاضا ہے کہ متاثرہ ممالک کی بھرپور مالی اور تکنیکی مدد کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ موسمیاتی تبدیلی کے پائیدار اور دیرپا حل تلاش کرنے کے لیے تحقیق، مصدقہ معلومات اور جدید ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی انتہائی بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی نابرابری کو ختم کیے بغیر دنیا کا کوئی بھی خطہ اس بحران سے اکیلے محفوظ نہیں رہ سکتا اس لیے علم کا تبادلہ سب کے لیے یکساں طور پر کھلا ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر انہوں نے دنیا بھر کے عالمی محققین، ماہرین اور طلبہ کو آپس میں مربوط کرنے کے لیے ایک ورچوئل گرین یونیورسٹی قائم کرنے کی ایک انتہائی اہم تجویز بھی پیش کی۔ اس تجویز کا مقصد ماحولیاتی علوم کے فروغ کے لیے تعلیمی اداروں کو قریب لانا اور نوجوان ذہنوں کو اس شعبے میں تحقیق کے لیے بہترین مواقع فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ ماحول دوست کاروبار اور گرین ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر سرمایہ کاری انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ پرانے صنعتی طریقے اب مزید قابلِ قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ ماحول دوست منصوبوں کے لیے اپنے سرمائے کے دروازے کھولیں تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف کو مقررہ وقت پر حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے اس بات کی وضاحت کی کہ توانائی کے شعبے، پانی کے قیمتی وسائل اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں موسمیاتی سرمایہ کاری کے وسیع ترین مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان کے ان شعبوں کا رخ کریں جہاں ماحول دوست ٹیکنالوجی اور گرین انرجی پر تیزی سے کام جاری ہے اور حکومت اس ضمن میں تمام سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا ہے اور اس حوالے سے ہمیشہ عملی اور ٹھوس اقدامات کی وکالت کی ہے۔ ملک کے طول و عرض میں موسمیاتی تغیرات کے اثرات اب صاف دکھائی دے رہے ہیں جن میں بے وقت کی بارشیں اور طوفان شامل ہیں جو ملکی زراعت کو متاثر کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا بھر میں مسلسل بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور انتہائی غیر متوقع بارشیں اس بات کا واضح اور دوٹوک تقاضا کرتی ہیں کہ تمام ممالک باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔ ماحولیاتی بحران کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے ایک مشترکہ خطرہ بن چکا ہے جس کا مقابلہ اجتماعی طاقت سے ہی ممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین ماحولیات کے مطابق جنوبی ایشیا کا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے انتہائی حساس اور خطرناک زون میں آتا ہے جہاں فوری اور مربوط اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ حکومتی سطح پر اس امر پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان ماحولیاتی پائیداری کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر مسلسل کام کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ ان کوششوں کا مقصد ملکی سطح پر گرین کور کو بڑھانا اور کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے موثر پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس نوعیت کے عالمی میل جول اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں سے پاکستان کو اپنے سنگین ماحولیاتی مسائل کے حل میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ بین الاقوامی برادری کی طرف سے تعاون میں اضافہ پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کے لیے اس کٹھن جنگ میں ڈھال کا کام دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%86%d9%85%d9%b9%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
