<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.25.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سائنس و ٹیکنالوجی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/category/technology/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 16:33:54 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سائنس و ٹیکنالوجی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز میں سنگین سیکیورٹی خامی کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%86%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%88-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%86%da%af%db%8c%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%86%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%88-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%86%da%af%db%8c%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 16:33:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[اسمارٹ_فون]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_ایم_ایس_آف_ڈیتھ]]></category>
		<category><![CDATA[اینڈرائیڈ]]></category>
		<category><![CDATA[اینڈرائیڈ_صارفین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی_اپ_ڈیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%86%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%88-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%86%da%af%db%8c%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[ایک مخصوص ٹیکسٹ میسج کے ذریعے اینڈرائیڈ فونز کو کریش کرنے والے سیکیورٹی نقص CVE-2026-58882 کی نشاندہی کر دی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز میں ایک سنگین سیکیورٹی خامی سامنے آئی ہے جس کے ذریعے حملہ آور صارف کی مداخلت کے بغیر ڈیوائس کو ناکارہ بنا سکتے ہیں۔ اس سیکیورٹی نقص کو CVE-2026-58882 کا نام دیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی محقق مارک بلاسزک نے اسے &#039;ایس ایم ایس آف ڈیتھ&#039; قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محقق کے مطابق یہ خصوصی ٹیکسٹ میسج صارف کے ان باکس میں ظاہر ہوئے بغیر فون کے کال سسٹم کو متاثر کرتا ہے، جس سے جاری کالز منقطع ہو سکتی ہیں، حتیٰ کہ ایمرجنسی سروسز کی کالز بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ تقریباً 20 ایسے پیغامات فون کو مسلسل کریش یا بوٹ لوپ میں پھنسانے کا سبب بن سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ سیکیورٹی خامی اینڈرائیڈ 12 سے موجود کوڈ میں دیکھی گئی ہے، جس سے گوگل پکسل اور سام سنگ گلیکسی سمیت متعدد اینڈرائیڈ ڈیوائسز متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوگل کے ریکارڈز کے مطابق اس مسئلے کا حل 15 جون کو تیار کر لیا گیا تھا اور جولائی میں سیکیورٹی پری ویوز کے ذریعے فراہم کیا گیا تھا۔ اینڈرائیڈ 14 سے 17 تک کے لیے اکتوبر کی سیکیورٹی اپ ڈیٹس میں بھی یہ حل شامل کیا جا چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز میں تازہ ترین دستیاب سیکیورٹی اپ ڈیٹس فوری طور پر انسٹال کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%86%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%88-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%86%da%af%db%8c%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بائننس ہیکنگ کیس: شمالی کوریا کے ہیکرز ملوث ہونے کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%86%d8%b3-%db%81%db%8c%da%a9%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b4%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%86%d8%b3-%db%81%db%8c%da%a9%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b4%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:28:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[بائننس]]></category>
		<category><![CDATA[بلاک_چین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_اثاثے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%86%d8%b3-%db%81%db%8c%da%a9%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b4%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%db%81%db%8c%da%a9%d8%b1%d8%b2-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس سے 6.3 ارب ڈالر کی چوری میں شمالی کوریا کے ہیکر گروپ 'لازروس' کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کی معروف ترین کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس کو تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس میں 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے چوری کر لیے گئے۔ اس سنگین واردات کی تحقیقات کرنے والی دو بڑی بلاک چین اینالیٹکس فرمز، ٹی آر ایم لیبز اور چینالیسز نے اپنی رپورٹس میں شمالی کوریا کے ریاستی حمایت یافتہ ہیکر گروپ &#039;لازروس&#039; کو اس واقعے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق، اس ہیکنگ میں &#039;لازروس&#039; گروپ، جسے &#039;ٹریڈر ٹریٹر&#039; کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کا ملوث ہونا انتہائی قوی امکان ہے۔ یہ گروپ ماضی میں بھی عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کی بڑی چوریوں میں ملوث رہا ہے، جس کا مقصد شمالی کوریا کی معیشت کو سہارا دینا اور غیر قانونی ذرائع سے فنڈز اکٹھا کرنا بتایا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ ہیکرز انتہائی منظم انداز میں کام کرتے ہیں۔ گزشتہ برس ایف بی آئی نے بھی شمالی کوریا پر &#039;بائی بٹ&#039; ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر کی چوری کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد چوری شدہ اثاثوں کو تیزی سے بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کر کے منتقل کر دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بائننس کے شریک سی ای او رچرڈ ٹینگ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں سیکیورٹی کے کئی اہم مقامات پر نقائص سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں ایک ملازم کے لیپ ٹاپ کے متاثر ہونے کا شبہ تھا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ حملہ کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی ترجمان کے مطابق، بائننس نے اب تک چوری شدہ اثاثوں کا 80 فیصد حصہ بحال کر لیا ہے، تاہم باقی ماندہ رقم کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس واقعے نے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں سیکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ہیکنگ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چینالیسز کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے منی لانڈرنگ کے ایسے نئے طریقے اپنائے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیکرز کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ شمالی کوریا کے ہیکرز کا نام پہلی بار 2014 میں سونی پکچرز پر ہونے والے بڑے حملے کے بعد عالمی سطح پر سامنے آیا تھا۔ تب سے اب تک یہ گروپ مسلسل اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، 2022 میں بھی 620 ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسی چوری کے پیچھے اسی گروپ کا ہاتھ ہونے کے شواہد ملے تھے۔ یہ تمام واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ہیکرز اب مالیاتی اداروں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بائننس کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کرنے کے لیے کام جاری ہے اور کمپنی عالمی ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی برادری اور سائبر سیکیورٹی ایجنسیاں اس بات پر متفق ہیں کہ شمالی کوریا کے ہیکرز کا نیٹ ورک اب انتہائی طاقتور ہو چکا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں، تو یہ تاریخ کی سب سے بڑی سائبر ڈکیتیوں میں سے ایک تصور کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال بائننس کے صارفین کو اپنے اکاؤنٹس کی سیکیورٹی کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کمپنی نے یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے اور تحقیقات کے نتائج جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%86%d8%b3-%db%81%db%8c%da%a9%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b4%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسٹاگرام کا یوٹیوب کو ٹکر دینے کیلئے 90 منٹ طویل ویڈیوز کا فیچر متعارف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%b9%d8%a7%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%b9%db%8c%d9%88%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%b9%d8%a7%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%b9%db%8c%d9%88%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 11:57:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انسٹاگرام]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[تخلیق_کار]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[فیچرز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%b9%d8%a7%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%b9%db%8c%d9%88%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام نے صارفین کو طویل دورانیے کا مواد فراہم کرنے کے لیے نئے فیچر کی آزمائش کا آغاز کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">معروف فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام نے روایتی مختصر کلپس سے آگے بڑھتے ہوئے یوٹیوب کو براہ راست ٹکر دینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں کمپنی کی جانب سے ایک نئے فیچر کی آزمائش کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت صارفین اور کریئیٹرز طویل ویڈیوز اپ لوڈ کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میٹا کی زیر ملکیت اس مقبول ایپلیکیشن نے اپنے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے طویل دورانیے کے مواد پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد صارفین کو تفصیلی اور طویل ویڈیوز دیکھنے کے لیے دیگر پلیٹ فارمز کا رخ کرنے سے روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے متعارف کرائے جانے والے اس فارمیٹ کا نام فیچرز رکھا گیا ہے جس کے ذریعے منتخب کریئیٹرز اب نوے منٹ تک طویل ویڈیوز انسٹاگرام پر شیئر کر سکیں گے۔ یہ ویڈیوز روایتی عمودی ریلز کے برعکس افقی انداز میں ہوں گی تاکہ بڑے اسکرین سائز پر بھی بہترین تجربہ فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری اور نائب صدر برائے پروڈکٹ ٹیسا لیونز نے چھبیس اکتوبر دو ہزار چھبیس کو ایک ویڈیو کے ذریعے اس نئے فارمیٹ کا باضابطہ اعلان کیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ اس فیچر سے تخلیق کاروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مزید وسیع میدان ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسا لیونز نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد مواد تیار کرنے والے افراد پہلے ہی طویل دورانیے کی ویڈیوز بناتے ہیں۔ اس طویل مواد کو وہ مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرکے انسٹاگرام پر شیئر کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسٹاگرام کے نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ریلز بدستور پلیٹ فارم کا انتہائی اہم اور بنیادی حصہ رہیں گی۔ تاہم اس نئے اضافے سے ناظرین کو اپنے پسندیدہ تخلیق کاروں کا تفصیلی اور مکمل مواد بھی ایک ہی جگہ پر دیکھنے کو مل جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے فیچر کی مدد سے پلیٹ فارم پر پوڈکاسٹس، تفصیلی انٹرویوز، کامیڈی شوز اور دیگر معلوماتی پروگرام باآسانی اپ لوڈ کیے جا سکیں گے۔ ناظرین کے لیے یہ سہولت بھی ہوگی کہ وہ مختصر کلپس دیکھنے کے بعد مکمل ویڈیو تک رسائی حاصل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کریئیٹرز اپنی مختصر ریلز کو مکمل طویل ویڈیو کے ساتھ منسلک بھی کر سکیں گے جس سے ناظرین کی دلچسپی برقرار رہے گی۔ اس طرح کی تکنیکی سہولیات کا مقصد ایپ کے اندر ہی صارفین کا طویل مدتی روٹین قائم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسٹاگرام کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ صارفین تفریح اور معلومات کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت اسی پلیٹ فارم پر گزاریں۔ افقی ویڈیوز پر خصوصی توجہ دینے کا مقصد بھی روایتی ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا مقابلہ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے فارمیٹ کو موبائل فونز کے علاوہ انسٹاگرام کی ٹی وی ایپلیکیشن پر بھی چلانے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سے صارفین کو گھر بیٹھے بڑی اسکرین پر بھی طویل مواد سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طویل ویڈیوز کے اس فیچر کی ابتدائی آزمائش سب سے پہلے برازیل میں چند منتخب کریئیٹرز کے ساتھ کی گئی تھی۔ اس تجربے کے بعد چھبیس اکتوبر سے اس کا دائرہ کار امریکہ تک بھی بڑھا دیا گیا ہے جہاں محدود پیمانے پر اس کی جانچ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم یہ اہم نیا فیچر تاحال دنیا بھر کے تمام عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں کیا گیا ہے۔ کمپنی کی طرف سے اسے عالمی سطح پر تمام صارفین کے لیے پیش کرنے سے متعلق تاحال کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو اس سے ڈیجیٹل مارکیٹ میں ویڈیو شیئرنگ کا رجحان یکسر تبدیل ہو جائے گا۔ انسٹاگرام کا شمار دنیا کی بڑی سوشل میڈیا ایپس میں ہوتا ہے اور اس تبدیلی سے اس کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%b9%d8%a7%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%b9%db%8c%d9%88%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سرکاری اور مالیاتی اداروں کے ڈیجیٹل نظاموں پر سائبر حملوں کا خدشہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%88%db%8c%d8%ac%db%8c%d9%b9%d9%84/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%88%db%8c%d8%ac%db%8c%d9%b9%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 12:58:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ای_مدھرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%88%db%8c%d8%ac%db%8c%d9%b9%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے اہم ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی جانب سے ملک کے سرکاری اور مالیاتی اداروں سمیت اہم ڈیجیٹل نظاموں پر ممکنہ سائبر حملوں کے حوالے سے ایک سخت ایڈوائزری جاری کی گئی ہے جس میں متعلقہ اداروں کو فوری طور پر حفاظتی اقداماتن اپنانے کا کہا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ انکشافات کے مطابق ای مَدھرا کے ڈیجیٹل سیکیورٹی سرٹیفکیٹس میں پائے جانے والی تکنیکی خامیوں کی وجہ سے ملک کے اہم انفارمیشن انفرا اسٹرکچر کو شدید خطرات کا سامنا ہے اور سرکاری و مالیاتی نیٹ ورکس خطرے کی زد میں آسکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ای مَدھرا کی سرٹیفکیٹ اتھارٹی کی کل آٹھ نجی سیکیورٹی کیز اس مسئلے سے متاثر ہوئی ہیں جن میں سے چھ کا تعلق ٹی ایل ایس سرٹیفکیٹس سے جبکہ دو کا تعلق کوڈ سائننگ کے عمل سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کمزور اور متاثرہ کیز کی موجودگی کی وجہ سے بدنیتی پر مبنی عناصر کے لیے جعلی ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس کی تیاری کا راستہ کھل سکتا ہے جس سے سیکیورٹی کے معاملات مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سنگین صورتحال کے پیش نظر سرکاری اور نجی نوعیت کی اہم ویب سائٹس اور آن لائن سروسز کی ہو بہو نقل تیار کیے جانے کا خطرہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے جو عام صارفین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ انٹرنیٹ ٹریفک کے اندر غیر مجاز مداخلت کیے جانے، صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور ڈیجیٹل ڈیٹا کے اندر ردوبدل کیے جانے کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل سرٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں متعلقہ تمام اداروں کو اپنے آپریٹنگ سسٹمز، ویب براؤزرز اور دیگر تمام سافٹ ویئر کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کرنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایڈوائزری میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ متاثرہ اور غیر محفوظ سرٹیفکیٹس کو فوری طور پر بلاک کیا جائے اور اداروں کے سیکیورٹی ٹرسٹ اسٹورز کو بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب وہ موبائل ایپلیکیشنز، کمپیوٹر سافٹ ویئر اور دیگر ڈیجیٹل سسٹمز جو اپنے الگ سرٹیفکیٹ اسٹورز استعمال کرتے ہیں، انہیں بھی خصوصی طور پر حفاظتی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ اداروں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورکس پر کسی بھی قسم کے مشکوک سرٹیفکیٹس، غیر معمولی سرگرمیوں اور کنکشن ری ڈائریکشن کے واقعات پر کڑی نظر رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جعلی سرٹیفکیٹس کے استعمال یا ڈیٹا انٹرسیپشن کے کسی بھی مشتبہ واقعے کی فوری اطلاع نیشنل سرٹ پاکستان کو فراہم کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نوعیت کے اقدامات کا مقصد ملکی ڈیجیٹل اثاثوں کا تحفظ کرنا اور کسی بھی ممکنہ بڑے سائبر حملے کو بروقت ناکام بنانا ہے تاکہ سرکاری و مالیاتی تنصیبات محفوظ رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%88%db%8c%d8%ac%db%8c%d9%b9%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گوگل میپس کی ایک عام غلطی جو سمارٹ فون کی بیٹری جلدی ختم کرتی ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%da%af%d9%88%da%af%d9%84-%d9%85%db%8c%d9%be%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%ba%d9%84%d8%b7%db%8c-%d8%ac%d9%88-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%da%af%d9%88%da%af%d9%84-%d9%85%db%8c%d9%be%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%ba%d9%84%d8%b7%db%8c-%d8%ac%d9%88-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 12:38:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[اسمارٹ_فون]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[جی_پی_ایس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیتال_دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس_و_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل_میپس]]></category>
		<category><![CDATA[لوکیشن_سیٹنگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false"></guid>

					<description><![CDATA[ماہرین کے مطابق گوگل میپس کی ترتیبات میں ایک معمولی سی تبدیلی کر کے فون کی بیٹری کو تیزی سے ختم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسمارٹ فون کا استعمال آج کے دور میں دنیا بھر میں انتہائی عام ہو چکا ہے اور اس میں مختلف نوعیت کی ایپلی کیشنز کا استعمال روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ان میں نیوی گیشن اور راستے تلاش کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایپلی کیشنز کو نمایاں اہمیت حاصل ہے جن میں گوگل میپس سرفہرست ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ کی بنیاد پر اپنے موبائل فونز میں گوگل میپس کا استعمال کرتے ہیں تاکہ نامعلوم مقامات تک رسائی حاصل کی جا سکے اور سفر کو آسان بنایا جا سکے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ شکایت بھی عام پائی جاتی ہے کہ یہ ایپلی کیشن اسمارٹ فون کی بیٹری کو بہت تیزی سے ختم کرنے کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیٹری کے اس تیزی سے زائل ہونے کی بنیادی وجوہات میں جی پی ایس کا مسلسل استعمال، گرافکس کی ریڈرنگ اور نیوی گیشن کے دوران اسکرین کا فعال رہنا شامل ہے۔ یہ عوامل فون کے پاور سورس پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں جس سے بیٹری کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ بھی ایک اور اہم وجہ ہے جس کی بنا پر یہ ایپلی کیشن استعمال نہ ہونے کے باوجود پس منظر میں بیٹری کی بڑی مقدار خرچ کرتی رہتی ہے۔ صارفین کی جانب سے کی جانے والی ایک عام سی غفلت اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وہ بنیادی غلطی گوگل میپس کے لیے لوکیشن تک رسائی کو ہر وقت کے لیے فعال رکھنا ہے جسے اکثر صارفین تبدیل کرنا بھول جاتے ہیں۔ فون میں اس ایپلی کیشن کی لوکیشن پرمیشن بائی ڈیفالٹ ہر وقت کی اجازت پر سیٹ ہوتی ہے جو بیٹری کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ڈیفالٹ سیٹنگ کی وجہ سے جی پی ایس ڈیوائس کے اندر مسلسل فعال رہتا ہے اور گوگل میپس کی جانب سے بار بار صارف کی پوزیشن کی جانچ کی جاتی ہے۔ چاہے وہ ایپلی کیشن مکمل طور پر بند ہی کیوں نہ کی گئی ہو، یہ عمل پس منظر میں جاری رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہی وجہ ہے کہ اگر صارف گوگل میپس کا استعمال نہیں بھی کر رہا ہو تب بھی یہ ایپ پس منظر میں بیٹری پاور کو مسلسل استعمال کرتی رہتی ہے جو کہ فون کی مجموعی کارکردگی اور بیٹری لائف پر اثرانداز ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خوش قسمتی سے اس مسئلے کا حل موجود ہے اور چند آسان اقدامات کی مدد سے اسمارٹ فون کی بیٹری کو اس غیر ضروری خرچ سے بچایا جا سکتا ہے۔ صارفین کو اس ضمن میں صرف اپنے فون کی ترتیبات میں کچھ تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مقصد کے لیے سب سے پہلے اپنے موبائل فون کی مرکزی ترتیبات یعنی سیٹنگز میں جانا ہوگا جہاں تمام ایپلی کیشنز کی فہرست موجود ہوتی ہے۔ اس فہرست میں سے گوگل میپس کو تلاش کر کے کھولنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوگل میپس کی ترتیبات میں داخل ہونے کے بعد پرمیشنز کے سیکشن کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں مختلف اجزاء تک رسائی کی اجازت دی گئی ہوتی ہے۔ پرمیشنز کے اندر لوکیشن کے آپشن پر کلک کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لوکیشن کی ترتیبات میں جا کر &#039;الاؤ آل دی ٹائم&#039; کے آپشن کو تبدیل کرنا لازمی ہے کیونکہ یہی وہ آپشن ہے جو پس منظر میں بیٹری کے زوال کا باعث بنتا ہے۔ اس کے بجائے &#039;الاؤ اونلی وائل زنگ دی ایپ&#039; کے آپشن کو منتخب کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ایک معمولی سی تبدیلی کو نافذ کرنے کے بعد گوگل میپس صرف اسی وقت لوکیشن ڈیٹا تک رسائی حاصل کرے گا جب صارف خود اس ایپلی کیشن کو استعمال کر رہا ہوگا۔ اس سے پس منظر میں ہونے والا غیر ضروری بیٹری کا استعمال رک جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز میں دوسری ایسی ایپس کی ترتیبات کا بھی وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہیں جو بلاوجہ بیٹری کی کھپت کا سبب بنتی ہیں۔ اس طرح فون کی بیٹری نہ صرف زیادہ دیر تک چلتی ہے بلکہ اس کی مجموعی عمر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%da%af%d9%88%da%af%d9%84-%d9%85%db%8c%d9%be%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%ba%d9%84%d8%b7%db%8c-%d8%ac%d9%88-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کو اسکرین کے مسائل کا سامنا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%81%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%81%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 10:57:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_فون]]></category>
		<category><![CDATA[اسکرین_خراب]]></category>
		<category><![CDATA[اسمارٹ_فون]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپل]]></category>
		<category><![CDATA[ایپل_اسٹور]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%81%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی جانب سے پیش کیے جانے والے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کو ابتدائی صارفین کی جانب سے اسکرین میں دراڑیں پڑنے کی شکایات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کی دنیا میں معروف ترین امریکی کمپنی ایپل کی جانب سے حال ہی میں متعارف کروائے جانے والے پہلے فولڈ ایبل اسمارٹ فون کو مارکیٹ میں آتے ہی بعض صارفین کی جانب سے تکنیکی نوعیت کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس نئے فولڈ ایبل ڈیوائس کو خریدنے والے ابتدائی صارفین میں سے کچھ افراد نے فون کی اندرونی فولڈنگ اسکرین میں دراڑیں پڑنے اور ڈسپلے خراب ہونے کے واقعات رپورٹ کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ضمن میں سامنے آنے والی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ فولڈنگ اسکرین کے جوڑ یا اس کے قریب والے حصے میں صارفین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے موبائل کے استعمال میں مشکلات پیدا ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک ابتدائی خریدار نے سوشل میڈیا پر اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے نیا فون خریدنے کے بعد محض چند گھنٹے ہی اسے استعمال کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ صارف کا کہنا تھا کہ اس دوران فون کو بیس مرتبہ سے بھی کم مرتبہ کھولا گیا تھا کہ اچانک اسکرین کے فولڈنگ حصے میں غیر معمولی مزاحمت محسوس ہوئی اور ایک آواز کے ساتھ ڈسپلے متاثر ہوگیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کا یہ قیمتی اسمارٹ فون نہ تو ہاتھ سے گرا تھا اور نہ ہی اس کے بیرونی حصے پر کسی بھی قسم کا کوئی نقصان یا خرچ دکھائی دے رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خوش قسمتی سے متعلقہ ایپل اسٹور نے اس صارف کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے خراب ہونے والا فون تبدیل کرکے اسے نیا ڈیوائس فراہم کر دیا تاکہ صارف کی پریشانی کا ازالہ ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صرف آسٹریلیا ہی نہیں بلکہ چین اور دنیا کے دیگر مختلف ممالک سے بھی ایسی متعدد شکایات اور تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں فولڈنگ اسکرینوں کے درمیان روشن لکیریں یا دراڑیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان اطلاعات کے منظر عام پر آنے کے بعد تکنیکی ماہرین اور صارفین کی جانب سے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ مسئلہ صرف چند ابتدائی یونٹس تک محدود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اسمارٹ فونز تیار کرنے والی دیگر بڑی کمپنیاں بھی ماضی میں اپنے فولڈ ایبل ماڈلز کے آغاز پر ایسے ہی ابتدائی مسائل کا سامنا کر چکی ہیں جنہیں بعد میں بہتر بنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابھی تک کی صورتحال کے مطابق ایپل نے ان تمام حالیہ واقعات اور صارفین کی شکایات کی اصل وجوہات کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان یا تحقیقی نتائج جاری نہیں کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موبائل انڈسٹری سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپل کمپنی اس معاملے کی اندرونی طور پر تحقیقات کر رہی ہوگی تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ خرابی کی نوعیت کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ایپل کے اس پہلے فولڈ ایبل فون کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا کیونکہ کمپنی نے اس شعبے میں دیر سے قدم رکھا تھا تاکہ بہتر مصنوعات پیش کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ابتدائی جھٹکے کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کمپنی نے بروقت اس تکنیکی نقص کو دور نہ کیا تو اس سے دنیا بھر میں اس کے نئے اور جدید ترین فون کی فروخت متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%81%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ناسا کی جانب سے انتہائی سرد موسم میں کارآمد جدید بیٹری تیار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%86%d8%a7%d8%b3%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d8%af-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%86%d8%a7%d8%b3%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d8%af-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 23:16:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹیمس_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[برقی_گاڑیاں]]></category>
		<category><![CDATA[بیٹری_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%86%d8%a7%d8%b3%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d8%af-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک ایسی سالڈ اسٹیٹ بیٹری تیار کر لی ہے جو منفی درجہ حرارت میں بھی اپنی فعالیت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی خلائی ادارے ناسا نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم پیشرفت کرتے ہوئے ایسی جدید بیٹری تیار کر لی ہے جو انتہائی شدید سرد موسم میں بھی کارکردگی دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ایجاد مستقبل میں خلائی مشنز کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئی ٹیکنالوجی کو ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے تناظر میں تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد چاند پر دوبارہ انسانی مشنز بھیجنا ہے۔ یہ بیٹریاں چاند کی سطح پر چلنے والی گاڑیوں، سائنسی آلات اور خلانوردوں کے ہنگامی سامان کو توانائی فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹس کی رپورٹس کے مطابق ناسا کے اسپیئرز پروجیکٹ کے تحت اس بیٹری کے تھرمل ویکیوم ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ان تجربات کے دوران بیٹری نے منفی 170 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے انتہائی سرد درجہ حرارت کو کامیابی سے برداشت کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجرباتی نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ سالڈ اسٹیٹ بیٹری منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ کے شدید سرد ماحول میں بھی کام کرنے کی اہلیت رکھتی ہے، اگرچہ اس دوران اس کی کارکردگی میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق اس بیٹری کی بہترین کارکردگی منفی 60 سے لے کر مثبت 80 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس درجہ حرارت کے دوران بیٹری نے انتہائی مستحکم اور موثر انداز میں توانائی فراہم کرنے کا مظاہرہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال یہ بیٹریاں تجربہ گاہ میں تیار کیے گئے چھوٹے نمونوں کی شکل میں موجود ہیں اور انہیں ابھی خلا میں عملی طور پر نہیں آزمایا گیا ہے۔ تاہم ابتدائی نتائج نے سائنسدانوں میں اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے امیدیں پیدا کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹیکنالوجی کے کامیاب تجربات سے یہ امکان بھی روشن ہو گیا ہے کہ مستقبل میں زمین پر استعمال ہونے والی برقی گاڑیوں کے لیے بھی زیادہ محفوظ اور کارآمد بیٹریاں تیار کی جا سکیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برقی گاڑیوں کے شعبے میں اس ایجاد سے بیٹریوں کی پائیداری اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ سرد موسم میں الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کے مسائل کو حل کرنے میں یہ ٹیکنالوجی ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناسا کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنا کر عملی استعمال کے قابل بنا لیا گیا تو یہ خلائی تحقیق کے ساتھ ساتھ عام انسانی زندگی میں بھی برقی آلات کے استعمال کو آسان اور محفوظ تر بنا دے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئی بیٹری کی تیاری کو خلائی ٹیکنالوجی میں ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ چاند کی سطح پر رات کے وقت درجہ حرارت انتہائی نیچے گر جاتا ہے، جہاں عام بیٹریاں ناکارہ ہو جاتی ہیں، یہ نئی بیٹری وہاں کارآمد ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے وقتوں میں ناسا اس ٹیکنالوجی کو مزید جانچنے کے لیے مزید تجربات کرے گا تاکہ اسے خلائی مشنز میں شامل کرنے سے قبل مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔ اس پیشرفت پر عالمی سائنسی حلقوں میں بھی گہری دلچسپی لی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید بیٹری کی تیاری سے نہ صرف خلائی مشنز کے لیے درکار توانائی کے مسائل حل ہوں گے بلکہ یہ ٹیکنالوجی زمین پر موجود بیٹریوں کی کارکردگی کو بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔ اس کے استعمال سے برقی گاڑیوں کی افادیت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%86%d8%a7%d8%b3%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d8%af-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اینڈرائیڈ فونز میں 2027 کی اپ ڈیٹ تاریخ: صارفین پریشان نہ ہوں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%86%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%88-%d9%81%d9%88%d9%86%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-2027-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%be-%da%88%db%8c%d9%b9-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%86%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%88-%d9%81%d9%88%d9%86%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-2027-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%be-%da%88%db%8c%d9%b9-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 20:16:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[اسمارٹ_فون]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[اینڈرائیڈ]]></category>
		<category><![CDATA[اینڈرائیڈ_اپ_ڈیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیک_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[سافٹ_ویئر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%86%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%88-%d9%81%d9%88%d9%86%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-2027-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%be-%da%88%db%8c%d9%b9-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/</guid>

					<description><![CDATA[گوگل پلے سسٹم اپ ڈیٹ میں نظر آنے والی تاریخ محض ایک تکنیکی غلطی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا بھر سمیت پاکستان میں اینڈرائیڈ اسمارٹ فون استعمال کرنے والے صارفین ان دنوں اپنے فونز کی سیٹنگز میں ایک غیر متوقع اور حیران کن اپ ڈیٹ دیکھ کر شش و پنج میں مبتلا ہیں۔ مختلف کمپنیوں کے فونز میں گوگل پلے سسٹم اپ ڈیٹ کی تاریخ یکم جنوری 2027 ظاہر ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سام سنگ، ون پلس اور موٹرولا سمیت کئی معروف برانڈز کے صارفین نے سوشل میڈیا اور آن لائن فورمز پر اس حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔ صارفین کو یہ گمان ہوا کہ شاید ان کے ڈیوائسز کو مستقبل کا کوئی سافٹ ویئر موصول ہو گیا ہے جو ابھی ریلیز ہی نہیں ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی ماہرین نے اس صورتحال پر وضاحت کرتے ہوئے صارفین کو کسی بھی قسم کی تشویش سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کسی خفیہ فیچر یا تجرباتی سافٹ ویئر سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ ایک معمولی تکنیکی خرابی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ تاریخ گوگل کے سرورز پر موجود بیک اینڈ میٹا ڈیٹا میں پیدا ہونے والی ایک معمولی غلطی کا نتیجہ ہے۔ اس خرابی کے باعث موجودہ اپ ڈیٹ پیکیج کے ساتھ غلط تاریخ ظاہر ہو رہی ہے جو کہ صارفین کے لیے پریشانی کا باعث بنی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ ڈیوائسز پر عام طور پر 90 سے 190 میگا بائٹ تک کا اپ ڈیٹ ڈاؤن لوڈ ہو رہا ہے۔ تاہم، اس اپ ڈیٹ میں کسی بھی قسم کے مستقبل کے آپریٹنگ سسٹم یا خفیہ فیچرز کے بجائے معمول کے سکیورٹی پیچز ہی شامل کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تکنیکی خرابی کا اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کی مجموعی کارکردگی یا سکیورٹی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اپ ڈیٹ انسٹال کرنے والے صارفین نے تاحال کسی قسم کی بڑی فنی خرابی یا ایپس کے کریش ہونے کی شکایت نہیں کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوگل کے سسٹم سروسز کے آفیشل ریلیز ریکارڈز میں بھی جنوری 2027 کے کسی سکیورٹی پیچ کا ذکر موجود نہیں ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سکرین پر نظر آنے والی تاریخ محض ایک نام کی غلطی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین اپنے فون کی اصل سکیورٹی اپ ڈیٹ کی تاریخ جاننے کے لیے سیٹنگز میں جا کر &#039;اباؤٹ فون&#039; اور پھر &#039;سافٹ ویئر انفارمیشن&#039; کا آپشن دیکھ سکتے ہیں۔ وہاں موجود اینڈرائیڈ سکیورٹی پیچ لیول فون کی حقیقی سکیورٹی صورتحال کی زیادہ درست عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل پلے سسٹم اپ ڈیٹ پر دکھائی دینے والی جنوری 2027 کی تاریخ کو فی الحال نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ اس سے فون کے ڈیٹا یا پرائیویسی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، لہذا صارفین کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توقع کی جا رہی ہے کہ گوگل کی جانب سے سرورز پر موجود اس تاریخ کی خرابی کو درست کرنے کے لیے ضروری اصلاحات جلد جاری کر دی جائیں گی۔ اس کے بعد صارفین کو اپنے فونز میں درست تاریخ نظر آنا شروع ہو جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس طرح کی معمولی غلطیاں اکثر سرورز کی اپ ڈیٹ کے دوران پیش آ جاتی ہیں۔ تاہم، صارفین کو ہمیشہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے فونز کو اپ ٹو ڈیٹ رکھیں تاکہ سکیورٹی کے معاملات میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں بھی اینڈرائیڈ صارفین کی ایک بڑی تعداد اس صورتحال سے آگاہ ہوئی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ افواہ پر یقین نہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس طرح کی کسی بھی تکنیکی اپ ڈیٹ کے حوالے سے گوگل کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ صرف گوگل کے آفیشل ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%86%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%88-%d9%81%d9%88%d9%86%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-2027-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%be-%da%88%db%8c%d9%b9-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایپل کا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون &#8216;آئی فون ڈیو&#8217; عالمی مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86-%d8%a2%d8%a6%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86-%d8%a2%d8%a6%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 16:17:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_فون]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_فون_ڈیو]]></category>
		<category><![CDATA[اسمارٹ_فون]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپل]]></category>
		<category><![CDATA[ایپل_اسٹور]]></category>
		<category><![CDATA[جان_ٹرنَس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86-%d8%a2%d8%a6%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون آئی فون ڈیو دنیا بھر کے اسٹورز پر فروخت کے لیے پیش کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے طویل انتظار کے بعد اپنا پہلا فولڈ ایبل اسمارٹ فون &#039;آئی فون ڈیو&#039; باضابطہ طور پر عالمی مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کر دیا ہے۔ یہ فون ایپل کی جانب سے اسمارٹ فونز کی دنیا میں ایک نئی اور اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے آئی فون ڈیو کی قیمت تقریباً 2 ہزار امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے، تاہم ابتدائی مراحل میں اس کی دستیابی کو محدود رکھا گیا ہے۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں واقع ایپل اسٹورز پر اس فون کی فروخت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کے لیے صارفین میں دلچسپی دیکھی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنگاپور، شنگھائی، لندن اور سان فرانسسکو جیسے بڑے شہروں میں ایپل کے اسٹورز پر صارفین کی جانب سے فون کی طلب دیکھی گئی۔ تاہم، ماضی کے آئی فون ماڈلز کی لانچنگ کے مقابلے میں اس بار اسٹورز کے باہر طویل قطاروں اور جوش و خروش کی شدت نسبتاً کم محسوس کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایپل انتظامیہ نے اس بار فروخت کے عمل کو منظم رکھنے کے لیے سخت ضوابط لاگو کیے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے فی صارف زیادہ سے زیادہ دو فونز کے پری آرڈر کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ اسٹورز پر براہ راست خریداری کے عمل کو بھی محدود رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چین، فرانس، ہانگ کانگ، بھارت اور جاپان جیسے ممالک میں یہ فون صرف ان صارفین کو فراہم کیا گیا جنہوں نے پہلے سے آن لائن آرڈر بک کروا رکھے تھے۔ اس حکمت عملی کا مقصد مارکیٹ میں فون کی طلب اور رسد کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایپل اسٹور کے باہر صبح سویرے سے ہی خریداروں کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ وہاں موجود ایک خریدار نے اس ڈیوائس کو ایک لگژری پروڈکٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی قیمت کافی زیادہ ہے لیکن ٹیکنالوجی کے شوقین افراد اسے خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایپل کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر جان ٹرنَس نے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں ایک اسٹور کا دورہ کیا اور وہاں موجود صارفین کا استقبال کیا۔ یہ تقریب نئے سی ای او کے لیے ایک اہم امتحان کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہ حال ہی میں اپنے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایپل کے سابقہ ہارڈویئر سربراہ جان ٹرنَس نے ستمبر میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے کچھ عرصہ بعد ہی اس فون کی رونمائی کی تھی۔ کمپنی کو امید ہے کہ آئی فون ڈیو اپنی منفرد خصوصیات کی بدولت صارفین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسمارٹ فون انڈسٹری میں فولڈ ایبل ڈیوائسز کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ایپل کا اس میدان میں داخلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کمپنی بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق اپنی مصنوعات کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایپل کے مداحوں کی بڑی تعداد اب اس فون کے ریویوز کا انتظار کر رہی ہے تاکہ یہ جان سکیں کہ آیا یہ ڈیوائس ان کی توقعات پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔ کمپنی نے اس فون کے ساتھ جدید ترین فیچرز اور بہترین ڈسپلے فراہم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86-%d8%a2%d8%a6%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چین نے خلا میں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کے دو نئے گروپ روانہ کر دیے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%da%86%db%8c%d9%86-%d9%86%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d9%85%d9%88%d9%b9-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%b3%d9%86%da%af-%d8%b3%db%8c%d9%b9%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%b9%d8%b3/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%da%86%db%8c%d9%86-%d9%86%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d9%85%d9%88%d9%b9-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%b3%d9%86%da%af-%d8%b3%db%8c%d9%b9%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%b9%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 09:58:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[جیوکوان]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_مشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[رپورٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%da%86%db%8c%d9%86-%d9%86%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d9%85%d9%88%d9%b9-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%b3%d9%86%da%af-%d8%b3%db%8c%d9%b9%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%b9%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[چین نے جیوکوان لانچ سینٹر سے یاؤگان سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں روانہ کر کے مقررہ مدار میں پہنچا دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">چین نے خلائی تحقیق، زمینی مشاہدے اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کے دو نئے گروپس کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر دیے ہیں۔ یہ خلائی مشن بیجنگ کے وقت کے مطابق ہفتے کی صبح عمل میں لایا گیا، جس کے دوران جدید ترین سیٹلائٹس کو انتہائی کامیابی کے ساتھ ان کے مقررہ مدار میں داخل کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں ملک کے معروف اور انتہائی اہم جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے یہ تمام کارروائی انجام دی گئی، جہاں تمام متعلقہ حکام، خلائی سائنسدان اور تکنیکی ماہرین موجود تھے۔ سیٹلائٹس کی روانگی کا یہ پیچیدہ عمل انتہائی کامیابی کے ساتھ طے شدہ مراحل کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصول ہونے والی تفصیلی رپورٹس کے مطابق خلا میں بھیجے جانے والے ان سیٹلائٹس میں یاؤگان ترپنواں گروپ شامل ہے جس کے سیٹلائٹس سات سے نو تک ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ہی یاؤگان چھپنواں گروپ بھی بھیجا گیا ہے جس کے سیٹلائٹس انیس سے اکیس تک پر مشتمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تمام جدید مصنوعی سیارے بغیر کسی تکنیکی رکاوٹ یا تاخیر کے پوری طرح کامیابی کے ساتھ اپنے مقررہ مدار میں داخل ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنے طے شدہ فرائض کی انجام دہی کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام مصنوعی سیاروں کو خلا میں کامیابی سے پہنچانے کے لیے طاقتور لانگ مارچ فور بی کیریئر راکٹ کا باقاعدہ استعمال کیا گیا، جس نے اس خلائی مشن کو بہترین انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس تسلیم شدہ راکٹ کے ذریعے سیٹلائٹس کو ان کے مطلوبہ مقام پر درستگی کے ساتھ نصب کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، یہ خلائی مشن دراصل معروف لانگ مارچ کیریئر راکٹ سیریز کا مجموعی طور پر چھ سو تہتر واں فلائٹ مشن تھا۔ یہ سنگ میل چینی خلائی پروگرام کی مسلسل کامیابی اور اس کی جدید تکنیکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلا میں بھیجے گئے یہ جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس بنیادی طور پر متعدد کثیر المقاصد سائنسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ ان کا وسیع دائرہ کار سائنسی تجربات کے ساتھ ساتھ اہم زمینی امور کا احاطہ کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان جدید سیٹلائٹس کی مدد سے زمین کے جغرافیائی حالات اور قدرتی وسائل کا تفصیلی سروے کیا جائے گا، جو ملکی ترقی، منصوبہ بندی اور وسائل کے موثر اور بہتر استعمال میں بھرپور مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ یہ جدید خلائی آلات مختلف ماحولیاتی اور موسمیاتی معلومات فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے، جس سے متعلقہ اداروں کو موسمی تبدیلیوں اور دیگر زمینی تغیرات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زراعت کے اہم شعبے میں بھی ان سیٹلائٹس سے بھرپور مدد لی جائے گی، بالخصوص فصلوں کی پیداوار کا درست تخمینہ لگانے اور زرعی معیشت کو بہتر بنانے میں یہ انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔ اس سے کسانوں اور متعلقہ زرعی اداروں کو قبل از وقت درست اور بروقت اعداد و شمار مل سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قدرتی آفات کی بروقت روک تھام اور ان سے ہنگامی حالات میں ہونے والے نقصانات میں کمی لانا بھی ان سیٹلائٹس کے اہم ترین مقاصد میں نمایاں طور پر شامل ہے۔ ہنگامی صورتحال اور ممکنہ قدرتی خطرات کی بروقت نشاندہی سے جانی و مالی نقصان کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چین کا یہ نیا خلائی قدم ٹیکنالوجی کے میدان میں اس کی بڑھتی ہوئی مہارت اور تسلسل کو بخوبی ظاہر کرتا ہے۔ ملک میں خلائی تحقیق کے نئے منصوبے تیزی سے جاری ہیں اور ان جدید سیٹلائٹس کے ذریعے سائنسی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق یہ سیٹلائٹس مستقبل میں اہم خلائی ڈیٹا کے حصول میں بنیادی کردار ادا کریں گے اور ملک کے آئندہ تحقیقی و ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی نئی راہیں ہموار کریں گے۔ لانگ مارچ راکٹ سیریز کی یہ شاندار کامیابی چینی خلائی ادارے کے لیے ایک اور بڑا اعزاز ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%da%86%db%8c%d9%86-%d9%86%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d9%85%d9%88%d9%b9-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%b3%d9%86%da%af-%d8%b3%db%8c%d9%b9%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%b9%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
