<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/category/politics/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 00:42:56 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبوں کے قیام کیلئے تحریک چلانے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c%d9%88-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%b5%d9%88%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c%d9%88-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%b5%d9%88%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 00:42:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_یونٹس]]></category>
		<category><![CDATA[ایم_کیو_ایم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پی_آئی_بی_کالونی]]></category>
		<category><![CDATA[خالد_مقبول_صدیقی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[شارع_فیصل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فاروق_ستار]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[نئے_صوبے]]></category>
		<category><![CDATA[وسیم_اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c%d9%88-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%b5%d9%88%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے 29 نومبر کو شارع فیصل پر مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک باقاعدہ تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں 29 نومبر کو کراچی میں شارع فیصل کی جانب ایک بڑا قافلہ مارچ کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اعلان ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پی آئی بی کالونی میں منعقدہ جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی سب سے زیادہ ضرورت سندھ کے شہری علاقوں میں ہے، جہاں آبادی کے تناسب سے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم عوامی حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلے گی اور اب اپنی منزل حاصل کر کے دم لے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا اختیار اور اقتدار عام عوام تک پہنچانا ان کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برسوں میں صوبائی حکومت کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور اب ملک کو اندرونی طور پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایم کیو ایم کے سینئر رہنما وسیم اختر نے بھی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام اب اپنے حقوق کے لیے بیدار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کی گونج اسلام آباد تک سنائی دے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے شرکاء نے قیادت کے اس فیصلے کی تائید کی اور نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے پر مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ ایم کیو ایم کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مزید فیصلے بعد میں کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں ماضی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 30 ستمبر 1986 کو حیدرآباد میں مہاجروں کا قتل عام ہوا، تاہم ان مشکلات کے باوجود تحریک نہیں رکی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان میں اپنی زمینیں پاکستان کے نام پر قربان کیں اور اب اپنے حصے کی زمین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایم کیو ایم کے چیئرمین نے مزید کہا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کی چھوڑی ہوئی متروکہ جائیدادیں قانونی طور پر ان کی ہیں اور وہ اپنے حقوق کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 29 نومبر کو نکلنے والا قافلہ شارع فیصل کے تمام راستوں کو مسدود کر دے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاروق ستار نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی 26 کروڑ عوام مسلسل ناانصافیوں کا شکار ہیں اور 18ویں ترمیم کے باوجود ملک کی شرح نمو میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ چار صوبے چند سو خاندانوں کی شراکت داری بن کر رہ گئے ہیں، جس سے موروثی سیاست کو فروغ ملا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاروق ستار نے واضح کیا کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ سندھ کی ثقافت یا زبان کے خلاف نہیں ہے، بلکہ کراچی میں رہنے والے پختون، بلوچ، گلگتی اور بلتی سمیت تمام شہری ایک بہتر انتظامی نظام کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹ بننے کے بعد بھی وہ اپنی ثقافتی شناخت برقرار رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وسیم اختر نے اس موقع پر پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کو آ کر دیکھنا چاہیے کہ یہ صرف ضلع شرقی کے کارکنان کا اجتماع ہے، جبکہ پورا کراچی ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار اگر کردار کا حامل ہو تو کارکن اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایم کیو ایم پاکستان کا مقصد ملک میں موروثی سیاست کا خاتمہ کرنا ہے تاکہ اقتدار عام آدمی تک پہنچ سکے۔ قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ظالموں کے خلاف مظلوموں کی صف بندی کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں ایسی جمہوریت کی ضرورت نہیں جس کے ثمرات عام عوام تک نہ پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو ایوانوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایوانوں کو ان کی ضرورت ہے، اور وہ اپنی منزل حاصل کر کے دکھائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c%d9%88-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%b5%d9%88%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>28 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تاحال موصول نہیں ہوا، سعید غنی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/28-%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d9%88%d8%af%db%81-%d8%aa%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d9%85%d9%88%d8%b5%d9%88%d9%84/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/28-%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d9%88%d8%af%db%81-%d8%aa%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d9%85%d9%88%d8%b5%d9%88%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 12:13:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[28_ویں_آئینی_ترمیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پیپلز_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعید_غنی]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/politics/28-%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d9%88%d8%af%db%81-%d8%aa%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d9%85%d9%88%d8%b5%d9%88%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی مسودے کے جائزے کے بعد ہی اپنا موقف طے کرے گی، جمہوریت اور معیشت کی مضبوطی کے لیے ہر اقدام کی حمایت کریں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ کے صوبائی وزیر برائے لیبر، ہیومن ریسورس اینڈ سوشل پروٹیکشن سعید غنی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو تاحال مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم کا کوئی مسودہ موصول نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعید غنی نے واضح کیا کہ پارٹی قیادت مسودے کی شقوں کا بغور اور تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی اس پر اپنا حتمی موقف اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسودہ سامنے نہیں آتا، اس وقت تک کسی بھی قسم کی حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان تمام ترامیم کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے جو ملک میں جمہوریت کے استحکام اور معاشی بہتری کے لیے معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی کا بنیادی مقصد قومی مفاد اور جمہوری اقدار کا تحفظ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ کراچی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور پورے پاکستان کے لوگوں کو روزگار فراہم کرنے والے اس شہر کو خصوصی توجہ اور حمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی استحکام کے لیے کراچی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعید غنی نے گفتگو کے دوران اس بات کو سراہا کہ کراچی کی کاروباری اور صنعتی سرگرمیاں قومی معیشت کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس شہر کی ترقی کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مزید اقدامات کیے جانے چاہئیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/28-%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d9%88%d8%af%db%81-%d8%aa%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d9%85%d9%88%d8%b5%d9%88%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کو جی 24 کی چیئرمین شپ ملنے پر وزیراعظم کا خیرمقدم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%ac%db%8c-24-%da%a9%db%8c-%da%86%db%8c%d8%a6%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%86-%d8%b4%d9%be-%d9%85%d9%84%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%ac%db%8c-24-%da%a9%db%8c-%da%86%db%8c%d8%a6%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%86-%d8%b4%d9%be-%d9%85%d9%84%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 07:47:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_এম_ایف]]></category>
		<category><![CDATA[جی_24]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارت_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد_اورنگزیب]]></category>
		<category><![CDATA[وزارت_خزانہ]]></category>
		<category><![CDATA[وزیراعظم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%ac%db%8c-24-%da%a9%db%8c-%da%86%db%8c%d8%a6%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%86-%d8%b4%d9%be-%d9%85%d9%84%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم نے بین الحکومتی گروپ آف ٹوئنٹی فور کی صدارت حاصل ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کو عالمی مالیاتی امور کے گروپ G-24 کی صدارت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور اسے عالمی سطح پر ملک کے نمایاں کردار کا اعتراف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی ملک کے سفارتی محاذ پر ایک بڑی پیش رفت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس کامیابی کا کریڈٹ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ان کی ٹیم کی مسلسل محنت کو دیا ہے، جنہوں نے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے دوران بھرپور کوششیں کیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے کے مطابق یہ پلیٹ فارم عالمی مالیاتی نظام میں تبدیلیوں، موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فنڈز کے حصول اور ترقی پذیر معیشتوں کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%ac%db%8c-24-%da%a9%db%8c-%da%86%db%8c%d8%a6%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%86-%d8%b4%d9%be-%d9%85%d9%84%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ عوام اور معیشت کے تحفظ کیلئے کیا، وزیراعظم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 15:19:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[مسلم_لیگ_ن]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[وزیراعظم_پاکستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ناگزیر تھا تاکہ عوام کی جان و مال اور معیشت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام صوبے کے عوام کی جان و مال، معیشت، معاشرے اور ملک کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان مسلم لیگ (ن) کی خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان اور عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ملک اور صوبے کے مفاد کو مقدم رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومت نے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم ان کی جانب سے دی گئی تجاویز کو قبول نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گورننس کی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کے پاس گورنر راج کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا، جس کا مقصد علاقے میں امن کا قیام اور تحفظ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، غیر ملکی اڈے حفاظت نہیں کر سکتے: خواجہ آصف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 09:34:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی_دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[دفاع_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_کامیابیاں]]></category>
		<category><![CDATA[سیالکوٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کانووکیشن]]></category>
		<category><![CDATA[وزیر_دفاع]]></category>
		<category><![CDATA[یو_سی_پی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ سمندر پار فوجی اڈے کسی ملک کی حفاظت کے ضامن نہیں ہوتے، پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا ایک نمایاں اور قابل فخر مقام حاصل کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی اور سفارتی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرتے ہوئے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی ہے۔ کسی ملک کی حقیقی حفاظت غیر ملکی اڈوں کے بجائے اپنے دست و بازو اور قومی صلاحیتوں پر منحصر ہوتی ہے، جبکہ سمندر پار اڈے صیہونی ریاست کی حفاظت اور ذاتی مفادات کے لیے بنائے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیالکوٹ میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان ملکی ترقی و خوشحالی میں بنیادی اور اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے سفارتی امور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام، خاص طور پر ایران اور عرب ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اور سفارتی کامیابیوں کا سفر مسلسل جاری ہے اور پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر اپنا لوہا منوایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے 36 سالہ سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے بتایا کہ انہوں نے اپنے دورِ سیاست میں سختیاں اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی سیاست کبھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتی اور تمام اداروں کو اپنا احتساب خود کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%da%a9%d9%88-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 08:14:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پرویز_رشید]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_ثنا_اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سینیٹر پرویز رشید نے دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ بیان بازی پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں نے خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی حالیہ بیان بازی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس صورتحال کو معمول کی پارلیمانی نوک جھوک قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں بعض اوقات ماحول گرم ہونے پر الفاظ کا چناؤ حدود سے تجاوز کر جاتا ہے، تاہم سیاست دانوں میں اتنی لچک ہونی چاہیے کہ وہ معاملات کو بعد میں بہتر انداز میں حل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ وہ مولانا فضل الرحمان پر خواجہ آصف کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تائید نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف اپنے خیالات کا اظہار دبنگ انداز میں کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور وہ کسی کی ہدایت پر بات نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت کے دوران مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی اچھی یادیں وابستہ ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان تلخیاں رہی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہیں، اس لیے ایسی باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی اہم آئینی ترمیم کی ضرورت پیش آئی تو حکومت مولانا فضل الرحمان سے ضرور تعاون مانگے گی۔ انہیں یقین ہے کہ جب ترمیم ملک اور قوم کے مفاد میں ہوگی تو مولانا فضل الرحمان حکومت کا ساتھ دیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی بحث کو محض پارلیمانی نوک جھوک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو کسی قسم کی کشیدگی یا ٹینشن نہیں سمجھتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پرویز رشید نے کہا کہ دونوں سینئر رہنماؤں نے ایک طویل سیاسی رفاقت گزاری ہے اور ایک ہی جدوجہد میں شامل رہے ہیں۔ آج کل دونوں کی جماعتوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی ہے جس کے باعث کبھی کبھار آمنا سامنا ہو جاتا ہے اور ہمیں کچھ سخت جملے سننے کو ملتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومتی رہنماؤں کی جانب سے ان بیانات کو پارلیمانی نوک جھوک قرار دینا دراصل سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ماضی میں قریبی تعلقات رہے ہیں جنہیں برقرار رکھنے کی خواہش دونوں جانب سے محسوس کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا یہ موقف سامنے آنے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل آتا ہے یا نہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا یہ تلخی مستقبل میں کسی بڑے سیاسی اتحاد میں رکاوٹ بنے گی یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رانا ثنا اللہ نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ سیاست دانوں کے درمیان ہونے والی ایسی بحثوں پر ٹی وی ٹاک شوز میں غیر ضروری تبصرے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاست میں اختلافات عارضی ہوتے ہیں اور جمہوریت میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ترجمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی گفتگو کو ذاتی دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان دونوں ہی ملک کے تجربہ کار سیاست دان ہیں اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ملکی مفاد میں کب اور کیسے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر حکومتی صفوں سے آنے والے ان بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتی۔ آئندہ دنوں میں سیاسی صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ پارلیمانی امور کو احسن طریقے سے چلایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%a2%d8%b5%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مولانا فضل الرحمان کے بیان پر محسن نقوی کا سخت ردعمل، احترام کی گنجائش ختم ہونے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 14:14:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پر تنقید کرنے والے اب سرکاری مراعات اور نوکریوں کی توقع نہ رکھیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مولانا کے ریاست مخالف بیان کے بعد اب ان کے احترام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز ریاست کے حوالے سے انتہائی نامناسب الفاظ استعمال کیے، جس سے ملکی وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اختلاف رائے کا حق سب کو ہے، لیکن ریاست مخالف بیانات کسی بھی سیاستدان کو زیب نہیں دیتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے اپنے دورہ ایران کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں تھا، بلکہ خطے میں جاری حالیہ بحران کو سنبھالنے کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم کی ہدایت پر قومی ذمہ داری نبھانے کے لیے جاتے ہیں، یہ ان کا کوئی ذاتی شوق نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے لیے ریاست اس وقت تک ماں کی طرح ہوتی ہے جب تک انہیں مال اور مراعات ملتی رہیں۔ جب حکومت میں حصہ نہیں ملتا تو یہ لوگ ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ جے یو آئی نے مذہب کو سیاست اور ذاتی کاروبار کے لیے استعمال کرنے کا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہر حد تک جا سکتے ہیں اور مذہب کا نام استعمال کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مزید کہا کہ یہی لوگ ماضی میں ان کے پاس آکر گورنر راج لگانے اور پی ٹی آئی سے جان چھڑانے کی درخواستیں کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ان تمام باتوں کو ثبوت کے ساتھ ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ اجلاس کے دوران جب جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وزیر داخلہ کے بیان پر احتجاج کیا تو محسن نقوی نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ انہیں حقیقت سننا پڑے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ریاست کی طرف سے ان لوگوں کو کوئی نوکری یا مالی مفاد حاصل نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے کہا کہ ریاست کے خلاف غلاظت بھرے بیانات دینے والوں کو اب سرکاری سطح پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ملکی اداروں اور ریاست کی تکریم ہر شہری اور سیاستدان پر لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات کے لیے ریاست کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور اس رویے کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایوان میں وزیر داخلہ کے سخت لہجے اور جے یو آئی پر تنقید کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اس بیان پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جبکہ حکومتی ارکان نے محسن نقوی کے موقف کی تائید کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اقدامات اور دورہ ایران پر تنقید کرتے ہوئے ریاست کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ محسن نقوی نے انہی الفاظ کا جواب دیتے ہوئے یہ سخت موقف اپنایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ کا اجلاس اس معاملے پر کافی ہنگامہ خیز رہا، جہاں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ چیئرمین سینیٹ نے ایوان کا نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ارکان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%b3%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>صادق سنجرانی کے ہاں اکیس سال بعد بیٹے کی پیدائش، مبارکبادیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82-%d8%b3%d9%86%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%db%81%d8%a7%da%ba-%d8%a7%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82-%d8%b3%d9%86%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%db%81%d8%a7%da%ba-%d8%a7%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 09:17:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ایوان_بالا]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[بیٹے_کی_پیدائش]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سابق_چیئرمین_سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_شخصیات]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82-%d8%b3%d9%86%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%db%81%d8%a7%da%ba-%d8%a7%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے گھر طویل انتظار کے بعد بیٹے کی ولادت پر سیاسی شخصیات کی مبارکباد۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے گھر ایک طویل انتظار کے بعد خوشی کا سماں پیدا ہوا ہے۔ ان کے ہاں اکیس سال کے طویل وقفے کے بعد بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے جس پر ان کے تمام رشتہ داروں اور چاہنے والوں میں بے حد مسرت پائی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس خوشی کے موقع پر ملک بھر کے کونے کونے سے سیاسی شخصیات، اہم رہنماؤں، رشتہ داروں اور خیر خواہوں کی جانب سے سابق چیئرمین سینیٹ کو مبارکباد کے پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس نو ولادت پر نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صادق سنجرانی پاکستانی سیاسی منظر نامے میں ایک نمایاں اور جانی پہچانی حیثیت رکھتے ہیں جنہوں نے ملکی پارلیمانی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ملک کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے ایک طویل عرصہ تک نہایت احسن طریقے سے فرائض سر انجام دیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا یہ دورِ وزارتِ عظمیٰ اور سینیٹ کی سربراہی کا سفر مارچ دو ہزار اٹھارہ سے شروع ہوا تھا اور یہ منصب وہ مارچ دو ہزار چوبیس تک کامیابی کے ساتھ سنبھالے رہے۔ اس دوران انہوں نے پارلیمانی روایات کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صادق سنجرانی کا تعلق صوبہ بلوچستان کے پسماندہ لیکن اہم ضلع نوشکی کے علاقے نوکنڈی سے ہے، جہاں ان کے خاندان کی سماجی اور سیاسی حیثیت کافی مضبوط مانی جاتی ہے۔ انہوں نے مقامی سطح سے اٹھ کر ملکی سطح پر اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے ایسے سیاست دان ہیں جنہیں اس اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر فائز ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ بلوچستان کے عوام کے لیے بھی یہ بات فخر کا باعث رہی کہ ان کے خطے کے نمائندے نے ایوانِ بالا کی سربراہی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ ایک اور اہم تاریخی حقیقت یہ ہے کہ وہ محض انتالیس سال کی عمر میں سینیٹ کے چیئرمین کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔ اتنی کم عمر میں اتنی بڑی آئینی ذمہ داری سنبھالنا ملکی پارلیمانی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق چیئرمین سینیٹ کا سیاسی کیریئر محض چند سالوں پر محیط نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ کار کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ہے جس کے دوران انہوں نے مختلف حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ انہوں نے اپنی سیاسی صلاحیتوں کا لوہا مختلف ادوار میں منوایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے طویل سیاسی سفر کے دوران انہوں نے اٹھارہ اور ننانوے کے اواخر میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی ٹیم کے ساتھ بطور کوآرڈینیٹر کے انتہائی اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے انتظامی امور میں گہرا تجربہ حاصل کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے کیریئر کا ایک اور نمایاں دور دو ہزار آٹھ سے لے کر دو ہزار تیرہ تک کا ہے جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت برسرِ اقتدار تھی۔ اس دوران وہ وزیراعظم سیکریٹریٹ کا ایک اہم حصہ بنے رہے اور حکومتی امور میں ہاتھ بٹایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم سیکریٹریٹ کے اندر ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا کیونکہ انہوں نے کٹھن حالات میں بھی اپنے فرائض کو انتہائی دیانت داری اور خوش اسلوبی کے ساتھ نبھانے کی کوشش کی تھی۔ اس تجربے نے انہیں قومی سیاست میں پختہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندانی ذرائع کے مطابق نومولود اور اس کی والدہ کی صحت بالکل تسلی بخش ہے اور گھر میں خوشی کا ماحول دیکھا جا سکتا ہے۔ دوست احباب اور سیاسی اکابرین کی جانب سے مبارکباد دینے کا یہ سلسلہ تاحال مسلسل جاری و ساری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس خوشی کے موقع پر ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی صادق سنجرانی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور اسولہ اور خاندانی خوشیوں کے اس لمحے میں ان کے ساتھ بھرپور مسرت کا اظہار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا اور دیگر ابلاغی ذرائع پر بھی اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سے مبارکباد کے پیغامات کا تانتا بندھا ہوا ہے اور ہر کوئی اس خوبصورت موقع پر سابق چیئرمین سینیٹ کے اہل خانہ کو دعائیں دے رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b5%d8%a7%d8%af%d9%82-%d8%b3%d9%86%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%db%81%d8%a7%da%ba-%d8%a7%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، اہم قرارداد منظور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 19:17:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ترمیم]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمانی_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبات کی منظوری دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، آئینی، امن و امان اور معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد ایک اہم قرارداد منظور کی گئی جس میں پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل اور مطالبات کا احاطہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں بانی چیئرمین عمران خان کی قیادت، فیصلوں اور ان کے وژن پر غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قانونی تقاضوں کے مطابق رہائی یقینی بنائی جائے اور ان کے وکلا و اہلِ خانہ سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمانی پارٹی نے سپریم کورٹ کی اگست 2026 کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا آزادانہ طبی معائنہ کرایا جائے، شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج اور ان کے ذاتی معالج کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ ان کی صحت، عزت و وقار اور قانونی حقوق کا تحفظ ریاستی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو آئین اور صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا گیا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت کو بحال کیا جائے اور وزیراعلیٰ، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر خان سمیت گرفتار رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرارداد میں تحریک انصاف کے گرفتار ارکانِ پارلیمنٹ، رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور انہیں سیاسی انتقام قرار دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمانی پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مذمت کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر منتخب قیادت کو نشانہ بنانا وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلح افواج، پولیس اور شہریوں کی قربانیوں کو سراہا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ تحریک انصاف کی جمہوری جدوجہد کو ریاست دشمنی کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں قومی اتحاد کو کمزور کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں 8 فروری 2024 کے انتخابات کے مینڈیٹ کے احترام یا ملک میں نئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کی واپسی، عدلیہ کی آزادی اور اظہارِ رائے کے حقوق کی بحالی پر زور دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرارداد میں کہا گیا کہ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی قیادت کے حوالے سے اجلاس میں بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ، محمود خان اچکزئی، راجہ ناصر عباس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور جنید اکبر خان سمیت دیگر نامزد عہدیداروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات متعلقہ فورمز پر ہی حل کیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان تحریک انصاف کا 28 ویں آئینی ترمیم کی مشروط حمایت کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7-28-%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7-28-%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 19:16:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ترمیم]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_مینڈیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بشری_بی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمانی_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7-28-%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کی رہائی سے مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے 6 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی نے ایک اہم اجلاس کے دوران 28 ویں آئینی ترمیم کی مشروط حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں شریک ارکان کی اکثریت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس ترمیم کی حمایت صرف عمران خان کی رہائی کی صورت میں ہی ممکن ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران پارٹی کی جانب سے ایک 6 رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی عمران خان تک رسائی اور ان کے علاج معالجے کے معاملات کی نگرانی کرے گی اور حکومت سمیت متعلقہ شخصیات سے مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔ کمیٹی میں دو ارکان قومی اسمبلی اور دو سینیٹرز شامل ہوں گے، جن میں پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ایک ایک نمائندہ بھی شامل کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان کا آزادانہ طبی معائنہ کروایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی صحت اور سیکیورٹی کے حوالے سے تمام تر خدشات کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پارٹی نے اسے آئین اور صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ٹی آئی کی جانب سے منظور کردہ قرارداد میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی نے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ 8 فروری 2024 کے انتخابی مینڈیٹ کو بحال کیا جائے یا ملک میں نئے شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ یہ مطالبہ پارٹی کے سیاسی بیانیے کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرارداد میں 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف شفاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، پارلیمانی پارٹی نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کو واپس لینے پر بھی زور دیا۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ ان ترامیم سے متعلق تحفظات کو دور کرنا ملک میں سیاسی استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کو متحد رہنا ہوگا اور اپنے مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔ تمام ارکان کو ہدایت کی گئی کہ وہ پارٹی پالیسی کے مطابق اپنے حلقوں میں متحرک رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں آئینی اور سیاسی معاملات پر بحث جاری ہے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے اختتام پر پارٹی ترجمان نے کہا کہ اسٹیئرنگ کمیٹی جلد ہی اپنے کام کا آغاز کرے گی اور حکومت کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے پارٹی قیادت کو آگاہ رکھے گی۔ عمران خان کی رہائی پارٹی کی اولین ترجیح برقرار رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7-28-%d9%88%db%8c%da%ba-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
