<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاکستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/category/pakistan/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 23:56:40 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پاکستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کراچی: نیو کراچی میں رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی، 2 بھتہ خور گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/52/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/52/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:56:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_آئی_یو]]></category>
		<category><![CDATA[بھتہ_خوری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رینجرز]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[نیو_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/52/</guid>

					<description><![CDATA[نیو کراچی کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو مبینہ بھتہ خوروں کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">شہر قائد کراچی کے علاقے نیو کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس نے ایک کامیاب مشترکہ آپریشن کے دوران بھتہ خوری میں ملوث دو مبینہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان پاکستان رینجرز سندھ کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع ملنے پر عمل میں لائی گئی، جس کا بنیادی مقصد علاقے میں بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث عناصر کا قلع قمع کرنا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آپریشن کے دوران جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیموں نے ملزمان کو ان کے ٹھکانے پر گھیرے میں لیا تو انہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس اور رینجرز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی گئی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں دونوں مبینہ بھتہ خور زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا اور طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان رینجرز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ابتدائی تفتیش کے بعد ان کے نیٹ ورک اور دیگر ساتھیوں کے بارے میں اہم انکشافات متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے رینجرز اور پولیس وقتاً فوقتاً مشترکہ کارروائیاں کرتی رہتی ہیں تاکہ شہر میں پائیدار امن کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح کی ٹارگٹڈ کارروائیوں کا مرکزی مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور شہر میں بھتہ خوری جیسے سنگین جرائم کی روک تھام کرنا ہے جو تاجر برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اور رینجرز کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیان کے مطابق، ملزمان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ ان کے مجرمانہ پس منظر اور ماضی میں کی گئی دیگر وارداتوں کا ریکارڈ بھی اکٹھا کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقہ مکینوں نے اس بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور تاجر سکون سے کام کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کا سابقہ ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ کسی منظم گینگ کا حصہ ہیں یا انفرادی طور پر بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی ٹیمیں اب ان ملزمان سے تفصیلی پوچھ گچھ کر رہی ہیں تاکہ ان کے دیگر ساتھیوں کے ٹھکانوں اور نیٹ ورک کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں اور مستقبل میں ایسی وارداتوں کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے ادا کر رہے ہیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا شہریوں کو دھمکانے والے عناصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد نیو کراچی اور گردونواح میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور پولیس کی جانب سے گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور امن برقرار رہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/52/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین اور بین الاقوامی مسافروں کی ویکسی نیشن کا آغاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/51/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/51/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:37:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بارڈر_ہیلتھ_سروسز]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_سفر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پولیو]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جناح_انٹرنیشنل_ایئرپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سفری_ہدایات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[عمرہ_زائرین]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_ایئرپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[گردن_توڑ_بخار]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ویکسی_نیشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/51/</guid>

					<description><![CDATA[بارڈر ہیلتھ سروسز نے جناح ٹرمینل پر 24 گھنٹے فعال ویکسی نیشن سینٹر قائم کر دیا جہاں مسافروں کو سفری تقاضوں کے مطابق ویکسین لگائی جا رہی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عمرہ زائرین اور بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ویکسی نیشن کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام عارضی رعایت کی مدت ختم ہونے کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بارڈر ہیلتھ سروسز کے زیر انتظام ایئرپورٹ پر ایک خصوصی انٹرنیشنل ٹریولر ویکسی نیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ یہ سینٹر اسٹار گیٹ کے قریب سول ڈسپنسری میں واقع ہے اور مسافروں کو چوبیس گھنٹے طبی سہولیات فراہم کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق عمرہ زائرین کے لیے گردن توڑ بخار اور پولیو کی ویکسین لازمی قرار دی گئی ہے۔ اسی طرح افریقہ اور شمالی امریکہ جانے والے مسافروں کے لیے یلو فیور سمیت دیگر متعلقہ ویکسینیشن کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل عمرہ زائرین کو ویکسی نیشن کے بغیر سفر کرنے کی عارضی رعایت دی گئی تھی جس کی مدت میں دس اکتوبر تک دو مرتبہ توسیع کی گئی تھی۔ اب یہ رعایت ختم ہونے کے بعد تمام مسافروں کے لیے ویکسین لگوانا لازمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بارڈر ہیلتھ حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے تمام مسافروں کے لیے منزل اور ٹرانزٹ کے مطابق ویکسینیشن کروانا ضروری ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ روانگی سے قبل اپنے سرٹیفکیٹس کی تصدیق یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فوکل پرسن بارڈر ہیلتھ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ شاہ نے میڈیا کو بتایا کہ مسافروں کی سہولت کے لیے ویکسین کی دستیابی اور سرٹیفکیٹس کے فوری اجرا کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ویکسی نیشن کے لیے مقررہ فیسوں کے مطابق گردن توڑ بخار (میننجائٹس) کی ویکسین کی فیس دو ہزار سات سو پچاسی روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ انفلوئنزا ویکسین کے لیے ایک ہزار سات سو بیس روپے فیس ادا کرنا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پولیو کے قطرے مسافروں کو مفت فراہم کیے جائیں گے۔ غیر ملکی شہریوں کو متعلقہ ہدایات کے تحت ان ویکسی نیشن کی شرائط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، تاہم پاکستانی مسافروں کے لیے یہ پابندی برقرار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایئرپورٹ ہیلتھ قرنطینہ کے حکام نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنے متعلقہ ممالک کے سفری تقاضوں کو اچھی طرح جانچ لیں۔ ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر بین الاقوامی پروازوں پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ویکسی نیشن سینٹر نہ صرف عمرہ زائرین بلکہ دیگر ممالک کا رخ کرنے والے پاکستانیوں کے لیے بھی ایک اہم سہولت ہے۔ اس مرکز کے قیام سے مسافروں کو شہر کے دیگر مراکز میں جانے کے بجائے ایئرپورٹ پر ہی ویکسین لگوانے کی سہولت میسر ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے یہ اقدامات بین الاقوامی صحت کے معیارات اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ بارڈر ہیلتھ سروسز کی ٹیمیں ایئرپورٹ پر الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی مسافر کو ویکسی نیشن کے حوالے سے دشواری نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پرواز کے وقت سے کافی پہلے ایئرپورٹ پہنچیں تاکہ ویکسی نیشن اور سرٹیفکیٹ کے حصول کا عمل بروقت مکمل ہو سکے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ویکسی نیشن کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل طور پر بھی اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اقدام سے پاکستان سے بیرون ملک جانے والے شہریوں کے لیے سفری دستاویزات کی تکمیل میں آسانی ہوگی۔ محکمہ صحت کے حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مسافروں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/51/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، محسن نقوی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:37:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_وزیر_داخلہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اب ایمرجنسی کے نفاذ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین فیصلے سے گریز کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے یہ گفتگو اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کے گھر آمد کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کی۔ لائبہ اعجاز نے حال ہی میں خودکشی کی تھی جس پر وزیر داخلہ نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحافیوں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سوالات کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایمرجنسی نہ لگانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب اس معاملے کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کے لیے کس حد تک کوششیں کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس معاملے پر صلح کی ہر ممکن کوشش کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مزید کہا کہ انہوں نے اس طرح کے سخت فیصلے سے بچنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاہم اب حالات کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت کے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزراء کا موقف ہے کہ صوبے میں آئینی اور انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں نے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کی ہے اور اسے جمہوری عمل کے منافی قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتوں کے ذریعے معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام اور آئین کی بالادستی ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام تر قانونی اور آئینی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں انتشار کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے اقدامات کا مقصد صرف اور صرف ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں تو حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی پڑتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی بحران کے باعث انتظامی امور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت کا ماننا ہے کہ صوبائی حکومت کی ناکامی کے بعد اب مرکز کو مداخلت کرنی پڑ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ایمرجنسی نافذ کرتی ہے تو اس کے سیاسی اور قانونی اثرات بہت گہرے ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسی بھی صورت میں ملک میں افراتفری کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد: طالبہ سے 93 لاکھ کا فراڈ کرنے والا ملزم گرفتار، ایف آئی اے میں مقدمہ درج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/48/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/48/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:36:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسکالرشپ]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامک_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[فراڈ]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[گرفتاری]]></category>
		<category><![CDATA[لائبہ_اعجاز]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/48/</guid>

					<description><![CDATA[انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ کو امریکا میں اسکالرشپ کا جھانسہ دے کر رقم بٹوری گئی تھی، ملزم تہہ خانے میں چھپا ہوا تھا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم نعمان کو اسلام آباد پولیس نے ایک گھر کے تہہ خانے سے حراست میں لیا، جہاں وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لیے روپوش تھا۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے مقتولہ کے لواحقین کی درخواست پر ملزمان محمد نعمان بدی الزمان اور فاطمہ سرور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 419، 420 اور 109 کے تحت درج کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے ایمیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 18 اور 22 کی بھی خلاف ورزی کی۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے طالبہ کو امریکا کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کا جھوٹا وعدہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزمان نے لائبہ اعجاز کو جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی ایڈمیشن آفر لیٹرز اور فیس کی جعلی رسیدیں دکھا کر دھوکا دیا۔ اس فراڈ کے ذریعے ملزمان نے طالبہ اور ان کے خاندان سے مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے کی خطیر رقم بٹوری۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان نے بتایا کہ 29 لاکھ روپے کی رقم لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منتقل کی گئی تھی، جبکہ باقی رقم ملزمان کو نقد ادا کی گئی۔ یہ رقم جمع کرنے کے لیے خاندان نے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لائبہ کے والد، جو موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کر کے گھر کا خرچ چلاتے ہیں، نے بیٹی کے تعلیمی خوابوں کی تکمیل کے لیے اپنا پلاٹ فروخت کیا اور والدہ کے زیورات بھی بینک میں گروی رکھوائے تاکہ بیرون ملک تعلیم کا بندوبست ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سنگین مالی دھوکا دہی اور اس کے نتیجے میں پہنچنے والی شدید ذہنی اذیت نے لائبہ کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ گزشتہ روز اسلام آباد کے تھانہ رمنا کی حدود سے طالبہ کی درخت سے لٹکی ہوئی لاش برآمد ہوئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خودکشی سے قبل لائبہ کا اپنے ماموں کے موبائل فون پر والد کے نام بھیجا گیا آخری پیغام بھی سامنے آیا ہے۔ اس پیغام میں لائبہ نے التجا کی تھی کہ ان کے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں والد کو نہ بتایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طالبہ نے پیغام میں لکھا تھا کہ والد یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے اور مر جائیں گے۔ لائبہ کے اس آخری پیغام نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر ادارے اس کیس میں متحرک ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اور ایف آئی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم نعمان سے مزید تفتیش جاری ہے جس سے نیٹ ورک کے دیگر ارکان کے بارے میں بھی اہم انکشافات متوقع ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/48/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پمز ہسپتال کی نرس رضیہ نورین کیلئے تمغے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:17:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تمغہ]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رضیہ_نورین]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_خدمات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فرض_شناسی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[نرسنگ]]></category>
		<category><![CDATA[نوزائیدہ_بچہ]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/</guid>

					<description><![CDATA[نرسری میں زیر علاج نوزائیدہ بچے کی بروقت طبی امداد سے جان بچانے پر نرس کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے معروف سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں تعینات نرس رضیہ نورین نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کی ایک شاندار مثال قائم کر دی ہے۔ انہوں نے ہسپتال کی نرسری میں زیر علاج ایک نوزائیدہ بچے کی جان بچا کر انسانیت کی خدمت کا حق ادا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی تفصیلات کے مطابق نرسری میں موجود ایک شیر خوار بچے کی حالت اچانک تشویشناک ہو گئی تھی، جس پر وہاں موجود نرس رضیہ نورین نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے ہنگامی طبی امداد فراہم کی۔ ان کی بروقت مداخلت اور درست طبی اقدامات کے باعث بچے کی سانسیں بحال ہوئیں اور اسے نئی زندگی ملی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں نرس کو انتہائی مستعدی کے ساتھ بچے کو بچاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے نرس کی اس جرات مندانہ اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو بے حد سراہا ہے اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نرس رضیہ نورین کی اس قابل ستائش کارکردگی کے پیش نظر اعلیٰ حکام کی جانب سے ان کے لیے تمغے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ محکمہ صحت کے دیگر عملے کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا تاکہ وہ اپنے فرائض مزید تندہی سے سرانجام دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اکثر مشکل حالات میں کام کرتے ہیں، تاہم رضیہ نورین جیسے افراد اپنی محنت سے اس شعبے کا وقار بلند کرتے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے بھی ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں ایک بہترین نرس قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پمز ہسپتال وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا طبی مرکز ہے جہاں روزانہ ہزاروں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ نرسری اور انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں کام کرنے والا عملہ انتہائی دباؤ میں ہوتا ہے، جہاں ایک لمحے کی غفلت بھی کسی کی جان لے سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رضیہ نورین نے ثابت کیا ہے کہ اگر نرسنگ کے شعبے میں کام کرنے والے افراد خلوص نیت سے اپنے فرائض انجام دیں تو بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ ان کی اس کامیابی پر ہسپتال کے دیگر عملے نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے اور انہیں مبارکباد دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات سے طبی عملے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جو کہ صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے ناگزیر ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ رضیہ نورین کی یہ مثال دیگر ہسپتالوں کے عملے کے لیے بھی مشعل راہ ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نرسنگ کا پیشہ انسانیت کی خدمت کا دوسرا نام ہے، جس میں جذبہ ہمدردی اور صبر و تحمل کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ رضیہ نورین نے جس طرح بحرانی کیفیت میں اپنے اعصاب پر قابو رکھا، وہ نرسنگ کے شعبے کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی ایسے قابل اور فرض شناس افراد موجود ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں رضیہ نورین کو ان کی شاندار کارکردگی پر تمغہ دیا جائے گا۔ اس تقریب میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور ہسپتال کی انتظامیہ کے نمائندے شرکت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے دیگر ہسپتالوں میں بھی اسی طرح کے واقعات کو سراہا جائے گا تاکہ طبی عملے کا مورال بلند رہے۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی حوصلہ افزائی بھی انتہائی اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، رضیہ نورین کی یہ کاوش نہ صرف ان کے خاندان کے لیے باعث فخر ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے کام میں مزید برکت عطا فرمائے اور انہیں اسی طرح انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>برطانیہ: راجہ ناصر محمود کی والدہ کے انتقال پر کمیونٹی کا اظہارِ تعزیت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/44/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/44/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:16:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[برمنگھم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_کمیونٹی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تعزیت]]></category>
		<category><![CDATA[خاندان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راجہ_ناصر_محمود]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_خدمات]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[مذہبی_تقریب]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[یگانگت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/44/</guid>

					<description><![CDATA[برمنگھم سنٹرل مسجد میں مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی، کمیونٹی کی اہم شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے پریس کلب مڈلینڈز کے صدر راجہ ناصر محمود اور جوائنٹ سیکرٹری سیما یعقوب کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر کمیونٹی نے یکجہتی اور ہمدردی کی ایک شاندار مثال قائم کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحومہ کے انتقال کی خبر سنتے ہی برطانیہ بھر میں مقیم پاکستانیوں میں غم کی لہر دوڑ گئی تھی۔ راجہ ناصر محمود اور سیما یعقوب اپنی والدہ کی آخری رسومات اور تدفین کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کے دوستوں اور احباب نے تعزیت کا سلسلہ شروع کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سے واپسی کے بعد برمنگھم کی سنٹرل مسجد میں مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں برطانیہ کے مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور سوگوار خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاتحہ خوانی کے دوران قونصل جنرل فہد امجد، مختلف مساجد کے خطباء، علماء و مشائخ اور کمیونٹی کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ ہائی کمشنر پاکستان عثمان ٹیپو اور دیگر سفارتی حکام کی جانب سے بھی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس کلب کے اراکین نے آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ شرکاء نے مرحومہ کی مغفرت کے لیے خصوصی دعائیں کیں اور سوگوار خاندان کو اس مشکل گھڑی میں صبر و تحمل کی تلقین کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر شرکاء نے کہا کہ ماں کا سایہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ راجہ ناصر محمود کی والدہ کی وفات پر کمیونٹی کا اکٹھا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ دیارِ غیر میں بسنے والے پاکستانی ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا اور غم بانٹنا ہماری ثقافتی اور مذہبی اقدار کا حصہ ہے۔ راجہ ناصر محمود کی شخصیت اور ان کے سماجی روابط نے لوگوں کو ان کے دکھ میں شریک ہونے پر آمادہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران علماء نے والدین کی اہمیت اور ان کی خدمت کے فضائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اولاد کی کامیابی کے پیچھے والدین کی دعائیں اور ان کی بہترین تربیت کا عمل دخل ہوتا ہے جو زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راجہ ناصر محمود نے اپنے ساتھیوں اور کمیونٹی کے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دوستوں اور احباب نے جس محبت کا اظہار کیا ہے، اس نے ان کے غم کو کافی حد تک ہلکا کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے اس موقع پر ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ خوشی اور غم کے ہر موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ اتحاد اور بھائی چارہ ہی بیرونِ ملک پاکستانیوں کی اصل پہچان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحومہ کے لیے دعائیہ کلمات کا سلسلہ تقریب کے اختتام تک جاری رہا۔ شرکاء نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق دے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر موجود افراد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے والدین کی زندگی میں ان کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں گے۔ ماں کی دعائیں ہی انسان کی اصل کامیابی کی ضمانت ہیں اور ان کی قدر کرنا ہر اولاد کا فرض ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے اختتام پر فاتحہ خوانی کی گئی اور مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ برمنگھم کی سنٹرل مسجد میں ہونے والی یہ تعزیتی نشست انسانی ہمدردی اور باہمی احترام کی ایک یادگار مثال ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/44/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شہری اتحاد اور انتظامی کوششوں سے سیوریج کے دیرینہ مسئلے کا حل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/42/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/42/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 22:57:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_اتحاد]]></category>
		<category><![CDATA[سوسائٹی_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیوریج_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_فلاح]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد_مقصود_چوہدری]]></category>
		<category><![CDATA[مقامی_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ملک_سیف_الملوک_کھوکھر]]></category>
		<category><![CDATA[نکاسی_آب]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/42/</guid>

					<description><![CDATA[ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشیوں نے باہمی تعاون اور حکومتی اداروں کی مدد سے سیوریج کے نظام کو بحال کر کے علاقے کو بیماریوں سے محفوظ بنا لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">شہر کی ایک رہائشی سوسائٹی میں سیوریج کے نظام کی خرابی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر بالآخر قابو پا لیا گیا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے نکاسی آب کا نظام معطل ہونے کی وجہ سے گندا پانی گلیوں اور کھلے پلاٹوں میں جمع ہو رہا تھا، جس سے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گندے پانی کے مسلسل جمع ہونے سے نہ صرف علاقے میں شدید تعفن پھیل گیا تھا بلکہ مچھروں کی افزائش اور مختلف بیماریوں کے خدشات نے بھی رہائشیوں کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور شام کی چہل قدمی کرنا محال ہو چکا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سنگین صورتحال کے پیش نظر سوسائٹی کی انتظامیہ نے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ سوسائٹی کے صدر محمد مقصود چوہدری کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی جس نے متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے شروع کیے اور اسے اپنا مشن بنا لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے نہ صرف حکومتی دفاتر کے چکر لگائے بلکہ تکنیکی ماہرین سے مشاورت کے بعد عملی اقدامات بھی اٹھائے۔ اس دوران سوسائٹی کے رہائشیوں نے بھی انتظامیہ کا بھرپور ساتھ دیا اور صبر و تعاون کے ذریعے اتحاد کی ایک بہترین مثال قائم کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک مرکزی سڑک سے گزرنے والی پائپ لائن کا معاملہ تھا۔ یہ 150 فٹ چوڑی سڑک سرکاری ملکیت ہے، جہاں سے پائپ لائن گزارنا ناگزیر تھا تاکہ ہزاروں مکینوں کو صحت اور عزت کا ماحول فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افسوس کی بات یہ ہے کہ کالونی کے کچھ افراد کی جانب سے اس عوامی فلاحی کام میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی گئی۔ معاملہ عدالت تک بھی پہنچا اور حکمِ امتناعی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے کام کی رفتار وقتی طور پر متاثر ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، تمام تر مشکلات کے باوجود سوسائٹی کے رہائشیوں اور انتظامیہ نے ہمت نہیں ہاری۔ قانونی اور انتظامی سطح پر طویل جدوجہد کے بعد بالآخر سیوریج لائن کی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا، جس سے ہزاروں مکینوں کو اذیت سے نجات ملی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مہم میں سوشل میڈیا کے رضاکاروں کا کردار بھی نمایاں رہا، جنہوں نے اس مسئلے کو اجاگر کرنے اور حکام بالا تک آواز پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے مسئلے کی سنگینی کو مسلسل نظروں میں رکھا گیا، جس سے حکومتی مشینری متحرک ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس بحالی کے عمل سے نہ صرف متعلقہ سوسائٹی بلکہ اس سے ملحقہ آبادیاں بھی مستفید ہو رہی ہیں۔ ایک بستی کی اس اجتماعی جدوجہد نے ثابت کیا ہے کہ جب نیت صاف ہو اور ارادے پختہ ہوں تو بڑی سے بڑی رکاوٹیں بھی دور ہو جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوسائٹی انتظامیہ نے اس کامیابی میں تعاون کرنے والے ملک سیف الملوک کھوکھر، متعلقہ سرکاری عملے اور تمام رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک عارضی حل ہے اور مستقل بہتری کے لیے مرکزی ٹرنک لائن کی تکمیل ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیوریج لائنوں میں ٹھوس کچرا نہ پھینکیں اور پانی کے ضیاع سے گریز کریں۔ اس طرح کے ذمہ دارانہ اقدامات سے ہی نظام کو طویل عرصے تک فعال اور بلا رکاوٹ چلایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بستیاں صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد اور اتحاد سے آباد ہوتی ہیں۔ عوامی مسائل کے حل کے لیے منتخب نمائندوں اور عوام کا ایک پیج پر ہونا کامیابی کی ضمانت ہے، جو یہاں دیکھنے میں آئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے باہمی تعاون سے دیگر مسائل کو حل کیا جائے گا۔ علاقے کے مکینوں نے اس بحالی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے جو کئی بستیوں کے لیے رحمت بن گئی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/42/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شیخوپورہ: غربت سے تنگ ماں کا اپنے بچوں پر فائر، بیٹا جاں بحق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/41/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/41/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 22:38:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[احسن_اقبال]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[افسوسناک_واقعہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شیخوپورہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت_کی_کمی]]></category>
		<category><![CDATA[غربت]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[معاشی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/41/</guid>

					<description><![CDATA[شیخوپورہ کے علاقے گھنگ روڈ پر غربت اور مہنگائی سے دل برداشتہ ماں نے اپنے دو بچوں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں سات سالہ بیٹا موقع پر ہی دم توڑ گیا، ماں نے بھی خودکشی کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">شیخوپورہ کے علاقے گھنگ روڈ پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں غربت اور معاشی تنگی سے تنگ آ کر ایک ماں نے اپنے ہی بچوں پر گولی چلا دی۔ اس دلخراش واقعے میں سات سالہ احسن موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ چھ سالہ طیبہ شدید زخمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق گھنگ روڈ کی بستی گلی نمبر ایک میں رہائش پذیر ایک محنت کش ڈرائیور عمران کا گھر اس وقت مقتل گاہ بن گیا جب ان کی اہلیہ شازیہ نے انتہائی قدم اٹھایا۔ بچوں کی جانب سے پھل خریدنے کی ضد پر ماں نے دلبرداشتہ ہو کر یہ اقدام کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد زخمی بچی طیبہ کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک ہے۔ شازیہ نے بھی بچوں پر فائرنگ کے بعد خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اہلِ محلہ کا کہنا ہے کہ عمران کا خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار تھا اور گھر میں اکثر غربت کے باعث تناؤ رہتا تھا۔ شازیہ کافی عرصے سے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار تھی جس کی وجہ سے وہ گھریلو اخراجات پورے نہ ہونے پر پریشان رہتی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے روز جب بچوں نے ماں سے پھل خریدنے کی فرمائش کی تو شازیہ کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدید جذباتی کیفیت میں مبتلا ہو گئی۔ اس تلخ حقیقت نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں غذائیت کی کمی اور غربت کے مسائل پر ماہرین نے بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے حال ہی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ غذائیت کی کمی ریاست کے لیے سیکیورٹی تھریٹ بن چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی نشوونما کے مسائل کا شکار ہیں۔ غذائیت کی کمی سے متاثرہ بچوں کی بڑی تعداد سکول جانے کی صلاحیت سے محروم رہ جاتی ہے، جس سے انسانی وسائل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیسف اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے سکول جانے سے قاصر ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد پنجاب کے بچوں کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی ضروریات تک رسائی کا فقدان عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا رہا ہے۔ خوراک، صحت اور تعلیم جیسی سہولیات کا نہ ملنا معاشرے کے کمزور طبقے کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور معاشی عدم مساوات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے غریب طبقے کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں اور انہیں تحفظ ملے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیخوپورہ کا یہ سانحہ محض ایک خاندانی المیہ نہیں بلکہ یہ ان تلخ حقائق کی عکاسی کرتا ہے جن کا سامنا آج بہت سے خاندان کر رہے ہیں۔ بھوک اور افلاس کی وجہ سے ہونے والی یہ اموات معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ زخمی بچی طیبہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقہ مکینوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب عوام کے لیے ریلیف کے اقدامات کیے جائیں تاکہ کوئی اور ماں غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ ہو۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/41/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پولیس میں اصلاحات اور تھانہ کلچر کی بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈی آئی جی عمران کشور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 22:38:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تفتیشی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[تھانہ_کلچر]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[خود_احتسابی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_جی_ایڈمن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_کشور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_خدمت]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/</guid>

					<description><![CDATA[ڈی آئی جی ایڈمن لاہور عمران کشور نے کہا ہے کہ عوام کو انصاف کی فراہمی اور جرائم کے خاتمے کے لیے تفتیشی نظام کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور نے کہا ہے کہ محکمہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جامع اور منطقی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں امن و امان کے قیام اور جرائم کی بیخ کنی کے لیے سیکیورٹی اداروں کو نئے چیلنجز کے مطابق خود کو تیار کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں سوال اٹھانے کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، جس سے زندگی کے ہر شعبے میں خود احتسابی کا عمل مضبوط ہوگا۔ ان کے مطابق، جب تک تھانے کے ماحول میں بہتری نہیں لائی جاتی، پولیس کے مجموعی تاثر کو بہتر بنانا ایک مشکل ہدف رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی ایڈمن نے کہا کہ عام آدمی کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے تفتیش کے نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس افسران کو دفاتر میں آنے والے شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ پولیس کے محکمے میں نظم و ضبط اور انتظامی امور کی اہمیت مسلمہ ہے، جس کے بغیر کسی بھی ادارے کی فعالیت ممکن نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پولیس کے وقار کو بلند کرنے کے لیے میرٹ پر کام کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان کی بحالی میں اپنا قومی فریضہ ادا کریں اور اپنے اردگرد منشیات فروشوں یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران ڈی آئی جی ایڈمن نے پولیس ملازمین کے مسائل کو براہ راست سنا اور ان کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام عوام کی خدمت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے اندرونی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمے میں ایسے افسران کی کمی نہیں جو اصولوں پر کاربند رہتے ہیں اور میرٹ کو مقدم رکھتے ہیں۔ ایسے افسران محکمہ پولیس کی شان ہیں اور ان کی تعیناتی سے ادارے کا وقار بڑھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ تھانے کا ماحول ہی وہ بنیادی عنصر ہے جو عوام کے ذہنوں میں پولیس کا تاثر قائم کرتا ہے۔ اگر تھانے کی سطح پر بہتری لائی جائے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے اور عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہونا چاہیے تاکہ ایک ایماندار افسر بلا خوف و خطر اپنے فرائض سرانجام دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا اصل ہدف شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی ایڈمن نے کہا کہ دہشت گردی اور دیگر جدید جرائم سے نمٹنے کے لیے پولیس کو اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال تفتیش کے عمل کو شفاف اور تیز تر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کو دفاتر میں آنے والے شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے اور ان کی شکایات کا ازالہ ترجیحی بنیادوں پر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون کے بغیر جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے کہا کہ پولیس کے نظام میں اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ماتحت عملے کو ہمیشہ یہی ہدایت کرتے ہیں کہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس میں بہتری کے لیے وہ پرعزم ہیں اور تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا ہر فرد معاشرے کے امن کے لیے ایک اہم ستون ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے شہری شدید مشکلات کا شکار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/39/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/39/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 22:37:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_مشکلات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_بجلی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[کے_الیکٹرک]]></category>
		<category><![CDATA[کے_ای]]></category>
		<category><![CDATA[لوڈشیڈنگ]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/39/</guid>

					<description><![CDATA[شہر کے مختلف علاقوں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے تجاوز کر گیا، عوام پریشان۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کی طویل بندش نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے متعدد گنجان آباد علاقوں میں بجلی کی فراہمی کا دورانیہ انتہائی کم ہو گیا ہے۔ کئی مقامات پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے بھی تجاوز کر چکا ہے جس سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری طبقہ بھی پریشان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بجلی کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں لائنز ایریا، نیو کراچی، موسیٰ کالونی اور لیاری شامل ہیں۔ ان علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی طویل بندش کے باعث پانی کی فراہمی اور دیگر گھریلو کاموں میں شدید دشواری پیش آ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملیر، لانڈھی اور کورنگی کے رہائشیوں نے بھی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کی شکایات کی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی کے باعث بچوں کی پڑھائی اور بزرگوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اورنگی ٹاؤن، سرجانی ٹاؤن اور قائد آباد کے مکین بھی بجلی کی آنکھ مچولی سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان علاقوں میں بجلی کی بار بار بندش نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے جبکہ طویل لوڈشیڈنگ کے باعث چھوٹے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماڑی پور روڈ، مچھر کالونی اور ہاکس بے کے مختلف حصوں میں بھی بجلی کی فراہمی کا نظام درہم برہم دکھائی دیتا ہے۔ ان علاقوں کے مکینوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان نے صورتحال پر موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ان علاقوں میں کی جا رہی ہے جہاں بجلی چوری کی شرح زیادہ ہے یا جہاں صارفین کی جانب سے بلوں کی ادائیگی بروقت نہیں کی جاتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک کا نظام ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ کرنے پر مجبور ہے جہاں نقصانات کی شرح زیادہ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام اور بلوں کی مکمل وصولی ہی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا واحد حل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور کے الیکٹرک انتظامیہ اس مسئلے کا پائیدار حل نکالے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بلوں کی ادائیگی کرنے والے صارفین کو بھی طویل لوڈشیڈنگ کی سزا دینا کسی طور پر انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں بجلی کے بحران کے باعث صنعتی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بجلی کی عدم فراہمی سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے جو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر میں بجلی کے ترسیلی نظام میں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے۔ پرانی تنصیبات اور تکنیکی خرابیوں کے باعث بھی کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہتی ہے جس کی بروقت مرمت ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر بھی بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کراچی کے عوام امید رکھتے ہیں کہ متعلقہ ادارے اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں گے اور لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی لانے کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں بجلی کی طلب اور رسد میں توازن قائم کرنے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کراچی جیسے بڑے تجارتی مرکز میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی شہریوں کا بنیادی حق ہے جسے یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/39/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
