شہر میں 6 ستمبر سے 9 ستمبر تک 4 روز میں سفاک ڈاکوؤں نے 4 گھرانے اجاڑ دی
کراچی میں ڈاکو راج تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا جہاں ڈاکس ویسٹ وہارف روڈ پر فائرنگ کے انتہائی افسوس ناک واقعے میں ڈاکوؤں نے بیٹے کے سامنے باپ کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور مقتول سے 10 لاکھ روپے چھین کر فرار ہوگئے جبکہ مقتول کا بیٹا حواس کھو بیٹھا اور شہر میں 6 ستمبر سے 9 ستمبر تک 4 روز میں سفاک ڈاکوؤں نے 4 گھرانے اجاڑ دیے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ڈاکس کے علاقے ویسٹ وہارف روڈ پر فائرنگ کے انتہائی افسوس ناک واقعے میں ڈاکوؤں نے جواں سال بیٹے کے سامنے اس کے والد 40 سالہ معین اختر کو 10 لاکھ روپے نقدی چھیننے کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔
اس موقع پراپنی آنکھوں کے سامنے باپ کو بے دردی سے قتل ہوتا دیکھ کر بیٹا اپنے حواس کھو بیٹھا، مقتول کی لاش ایدھی کے رضا کاروں نے سول اسپتال پہنچائی جبکہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقتول کے اہل خانہ بھی سول اسپتال پہنچ گئے جہاں رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے اور ورثا دھاڑیں مار کر روتے ہوئے دکھائی دیے۔
سول اسپتال میں مقتول کے خالہ زاد بھائی نے میڈیا کوبتایا کہ مقتول پرائیویٹ آفس میں ملازمت کرتا تھا جو ویسٹ وہارف روڈ پر قائم نجی بینک سے 10 لاکھ روپے نکلوا کر اپنے بیٹے کے ہمراہ جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل سوار 2 ڈاکوؤں نے محمود اختر کو لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں گولی ان کے سینے پر لگی تھی جس کے باعث وہ جاں بحق ہوگئے اور ڈاکو نقدی چھین کر فرار ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ مقتول کا آبائی تعلق لاہور سے تھا، وہ 2 بیٹوں اور ایک بیٹی کا باپ تھا تاہم پولیس تفتیش کر رہی ہے اور اب جو بھی معاملات ہیں پولیس سے ہی معلوم ہوں گے۔
مقتول کے خالہ زاد بھائی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جس طرح ٹریفک کنٹرول کرنے اور چالان کے لیے جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہیں انہی سے مدد لیں تاکہ ماؤں کی گود اجڑنے سے بچائی جائے اور ان وارداتوں کو فوری سدباب کیا جائے۔
واقعے کے حوالے سے ایدھی کے رضا کار خالد نے میڈیا کو بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی وہ جائے وقوع پر پہنچا اور فائرنگ کا نشانہ بننے والے شخص کو فوری طور پر سول اسپتال پہنچایا اور ابتدائی طور پر لوگوں سے پتا چلا تھا کہ کچھ رقم چھینی گئی ہے جبکہ موقع پر پولیس موجود نہیں تھی۔
ڈسٹرکٹ کیماڑی میں بیٹے کے سامنے ڈاکوؤں کی فائرنگ سے باپ کے جاں بحق ہونے کی اطلاع پر ڈی آئی جی ساؤتھ زون اسد رضا بھی جائے وقوع پر پہنچ گئے اور کہا کہ شہری بینک سے رقم لے کر نکلا تھا جنہیں لوٹا گیا تاہم سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر اہم شواہد حاصل کر لیے ہیں جن کی مدد سے ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور انہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے بھی ڈکیتی مزاحمت پر شہری کے جاں بحق ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ زون اسد رضا سے تفصیلات طلب کیں اور کہا کہ واردات میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری یقینی بنائی جائے، شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔
مقتول معین اختر بلدیہ اتحاد ٹاؤن کا رہائشی تھا اور شہر میں جاری ڈاکو راج کے دوران 4 روز میں ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر 4 گھرانے اجاڑ دیے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شہر میں امن و امان کی صورت حال کس حد تک پولیس کے کنٹرول سے باہر ہے۔
رواں ماہ 6 ستمبر کو لیاقت آباد میں ایل پی جی گیس کی دکان میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 15 سالہ طیب، 7 ستمبر کو پاک کالونی میوا شاہ قبرستان میں مزاحمت پر 30 سالہ عبدالرحمان، 8 ستمبر کو منگھوپیر مہران سٹی میں گھر میں ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 16 سالہ روشم اور 9 ستمبر کو ڈاکس کے علاقے ویسٹ وہارف روڈ پر ڈاکوؤں نے 10 لاکھ روپے چھیننے کے دوران مزاحمت پر 40 سالہ معین اختر سے جینے کا حق چھین لیا۔
پولیس افسران کے شہر میں کرائم کی وارداتیں کم ہونے کے دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق ان کے دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس میں شہری سفاک ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بن کر نہ صرف زخمی ہو رہے ہیں بلکہ زندگی بھی گنوا رہے ہیں۔
