• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 5:26 شام
  • Australia

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

اختر شیرانی کی شاعری شباب، اس کے رومان اور اس کے حسین خوابوں اور دلکش یادوں کی شاعری ہے۔ ان کا کلام پڑھ کر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عورت، اس کا حسن اور اس کی محبت ہی اختر کے نزدیک زندگی کا دوسرا نام ہے۔

اختر شیرانی کی شاعری میں سلمیٰ، ریحانہ یا عذرا کا ذکر اس طرح ملتا ہے کہ وہ صرف محبوبہ کے حسن کی تعریف نہیں‌ معلوم ہوتا بلکہ وہ اپنے ساتھ فطرت اور اس کے مناظر و مظاہر کو بھی جوڑ‌ لیتا ہے۔ فطرت کی رعنائی اور اس کے مظہراتی حسن و جمال کا ان کی شاعری میں اپنا ایک مقام ہے۔ اختر شیرانی کے مجموعۂ ہائے کلام صبح بہار، اخترستان، لالۂ طور، طیورِ آوارہ، نغمۂ حرم کے نام سے سامنے آئے۔ ان کا آخری مجموعہ ان کی وفات کے بعد لاہور سے شائع ہوا تھا۔ آج اختر شیرانی کی برسی ہے۔

4 مئی 1905ء کو ریاست ٹونک کے محلّہ مہندی باغ میں اختر شیرانی نے آبائی حویلی میں آنکھ کھولی تھی۔ اس وقت ان کے والد حافظ محمود شیرانی بغرضِ تعلیم لندن میں تھے۔ 1913ء میں وہ اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر اپنے والد کے ترکے کی تقسیم اور دوسرے خاندانی امور کو سلجھانے کی غرض سے ٹونک واپس آئے اور پھر انگلستان نہ جا سکے۔ ان کا اکلوتا بیٹا بڑا ہورہا تھا اور اس کی مروجہ تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کے لیے حفاظ اور اتالیق مقرر کیے۔ محمود شیرانی اعلیٰ پائے کے عالم اور محقق تھے اور یہی وجہ تھی کہ اپنے بیٹے کو بھی علم و فنون اور ذوق و شوق میں منفرد دیکھنا چاہتے تھے۔ مگر اختر کا رجحان شاعری کی طرف زیادہ تھا اور کم عمری میں ہی انھوں نے شعر گوئی شروع کر دی تھی۔ اس زمانے میں وہ صابر علی شاکر سے اصلاح لیا کرتے تھے جو انھیں مروجہ تعلیم بھی دیتے رہے تھے۔

1921ء میں نواب ابراہیم علی خاں کے خلاف ایک شورش برپا ہوئی جس میں محمود شیرانی کا نام بھی آیا اور متعدد لوگوں کے ساتھ ان کو بھی شہر بدری کی سزا دی گئی۔ شیرانی صاحب لاہور چلے گئے۔ یہاں اختر شیرانی نے اوریئنٹل کالج سے منشی فاضل اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے۔ میٹرک کرنے کا ارادہ تھا مگر اس کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے میٹرک بھی کیا تھا۔ بہرحال، تعلیم کے دوران بھی شعر گوئی کا سلسلہ جاری رکھا اور علّامہ تاجور نجیب آبادی سے مشورۂ سخن کرتے رہے۔ تعلیم سے فارغ ہو کر صحافت کی طرف توجہ کی اور ہمایوں کے ادارے سے وابستہ ہو گئے۔ یوں بھی نہ ان پر گھر بار کی کوئی ذمہ داری تھی نہ معاش ان کا مسئلہ تھا، اس لیے ملازمت کی طرف بھی راغب نہ ہوئے۔ ہمایوں سے علیحدہ ہو کر خود یکے بعد دیگرے چار رسالے نکالے۔ اس دوران دوسرے ادبی رسائل و اخبارات سے تعاون بھی جاری رہا۔ لاہور ہی میں قیام تھا کہ عشق کا وہ معاملہ پیش آیا جس نے ان کی زندگی کا رخ متعین کر دیا اور رومان پرور شاعر اختر، سلمٰی کا حوالہ بن گئے۔ انہی دنوں والد محمود شیرانی کو اپنے بیٹے کے بارے میں دو باتیں‌ معلوم ہوئیں کہ ایک تو ان کے بیٹے کا نام بطور شاعر ہر طرف سنائی دے رہا اور دوسری بات یہ کہ وہ شراب نوشی بھی کرنے لگا ہے۔ محمود شیرانی کے نزدیک ان کے بیٹے کا شاعر ہونا کوئی کمال نہ تھا جس پر وہ فخر کرسکیں اور اس پر اختر کی شراب نوشی کی اطلاع ان پر بجلی بن کر گری۔ انھوں نے اپنے بیٹے سے تعلق قطع کرلیا۔ ادھر اختر شیرانی اپنی رومانوی شاعری اور صحافت میں مشغول رہے اور ان کی رومانوی نظمیں لڑکے لڑکیوں کی بیاض میں شامل ہوتی رہیں۔

1946ء میں محمود شیرانی صاحب کا انتقال ہوا تو اختر پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ گھر کی ذمہ داریاں ان پر آن پڑیں اور وہ اس کے عادی نہ تھے۔ انھوں نے نوجوانی میں جو کچھ کمانے کی سعی کی، اسے شراب میں اڑا دیا اور ذمہ داریوں کے بوجھ اور اسی پریشانی نے اختر شیرانی کو زیادہ شراب پینے پر آمادہ کرلیا۔ تقسیمِ ہند نے مزید حالات بگاڑ دیے اور اختر لاہور منتقل ہوگئے۔ مے نوشی اس زمانہ میں ان کے معدہ اور جگر پر اثر ڈال چکی تھی اور 9 ستمبر 1948ء کو اختر شیرانی کا انتقال ہو گیا۔ اختر کی تدفین 11 ستمبر کو عمل میں آئی۔

اختر شیرانی کو اردو فارسی میں دسترس حاصل تھی۔ عربی اور انگریزی سے بھی واقفیت تھی۔ رومانی شاعر کی حیثیت سے انھوں نے اپنے زمانے میں قابلِ رشک شہرت پائی۔ وہ نثر نگار بھی تھے اور مترجم بھی۔ افسانے اور ڈرامے میں ان کی تخلیقی اور مترجمہ کاوشیں کتابی شکل میں موجود ہیں۔ لیکن وجہِ‌ شہرت رومانوی شاعری ہی رہی۔ تحقیقی کھوج ان کو گویا وراثت میں ملی تھی اور زبان و لغت سے بھی گہرا شغف تھا۔ جامع اللغات کی تدوین میں وہ شریک رہے۔ انھوں نے خالص علمی اور تحقیقی کاموں میں اپنے والد اور بہت سے ہم عصروں کے معاون کی حیثیت سے کام کیا۔

اختر شیرانی اردو ادب کی ان گنی چنی شخصیتوں میں سے ہیں جن کے ارد گرد بے شمار جھوٹی بھی من گھڑت، فرضی اور خیالی باتوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا ہے۔ لوگوں نے ذاتی علم اور تجربے کے بغیر محض سنی سنائی باتوں سے خیالات اور تصورات سے اپنے محبوب اور مقبول شاعر کی ذات میں جادو کی تاثیر پیدا کر دی۔ اپنے وقت میں اختر کے کلام سے پیری میں دلوں میں شباب کی حرارت پیدا ہوتی تو جوانوں کے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی۔ اختر نقادوں کی زبان میں شاعرِ رومان ہیں۔ جب اختر شیرانی کا ذکر چھڑتا ہے تو بات محبوب کی گھنی زلفوں اور عارضوں پر جا کر ٹھہرتی ہے۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کا سارا لطف اور سکون کسی حسن آرا کی ہم نشینی میں ہے۔

اختر شیرانی اور اس کی سلمیٰ جیسے کردار نے بیسویں صدی کے شاعر کو عشق اور حسن کا ایک معیار دیا۔ لیکن نہ اختر کا کوئی مقلد عشق کے اُس مقام تک پہنچتا ہے جو شاعر رومان نے اپنے لیے وضع کیا تھا۔ اور نہ ہی کسی کی سلمیٰ کو حسن کی دنیا میں محبوبیت کا وہ رتبہ حاصل ہوتا ہے جو اختر نے سلمٰی کو دیا تھا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے