سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل
چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل
دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا
’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)
لاہور(9 ستمبر 2026): قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے لارڈز ٹیسٹ کے اختتام پر سات کھلاڑیوں کو ٹیم سے ڈراپ کرنے سے متعلق اہم بیان دیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد ٹیم میں تبدیلیاں ان کے لیے بھی ایک نئی خبر تھی۔بابر کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں ان کی معلومات، مشاورت یا منظوری کے بغیر عمل میں لائی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے کپتان نے اعتراف کیا کہ انہیں کھلاڑیوں کی تبدیلیوں کا علم بورڈ کے باضابطہ بیان سے ہوا، جبکہ موجودہ سلیکشن کے ڈھانچے کے تحت بطور کپتان اس عمل سے آگاہ ہونا چاہیے تھا۔
انگلینڈ کے خلاف لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر ایجبسٹن ٹیسٹ سے ٹھیک ایک دن قبل قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے پریس کانفرنس بھی کی۔
پریس کانفرنس میں قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ لارڈز ٹیسٹ کے اختتام پر سات کھلاڑیوں کو ٹیم سے ڈراپ کرنے سے متعلق پاکستان کرکٹ بورڈ نے جو بھی فیصلہ کیا ہے، وہ کچھ سوچ کر ہی کیا ہوگا۔
قومی ٹیم میں تبدیلیوں پر حیرانی ہوئی، بابر اعظم
تیسرے ٹیسٹ کی ٹیم کے کمبی نیشن سے متعلق سوال پر بابر اعظم نے بتایا کہ کس کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنا ہے، اس کا فیصلہ تقریباً طے کر لیا گیا ہے اور کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین ٹیم اتاری جائے گی۔
لارڈز ٹیسٹ میں ایک سو چورانوے رنز کی بڑی شکست پر بات کرتے ہوئے قومی کپتان نے اعتراف کیا کہ ٹیم کسی بھی شعبے میں متاثر کن کھیل پیش کرنے میں ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ سیریز ہار چکے ہیں، لیکن ان کی خواہش ہے کہ ٹیم مثبت اور اچھی کرکٹ کھیل کر اس سیریز کا شاندار انداز میں اختتام کرے۔
قومی اسکواڈ میں نئے کھلاڑیوں کو شامل کیے جانے کے سوال پر بابر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ نئے لڑکوں پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے، بلکہ ان کے پاس بین الاقوامی سطح پر خود کو منوانے اور ثابت کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔
