• ستمبر 8, 2026
  • Last Update ستمبر 8, 2026 9:23 شام
  • Australia

والد کی مدعیت میں مقدمہ درج، پولیس افسران کی مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش، لاش کے ہمراہ دھرنے کو 12 گھنٹے سے زائد ہوگئے

شہر قائد کے علاقے منگھوپیر مہران سٹی کے قریب گھر میں دوران ڈکیتی ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق نوجوان روشم خان کے لواحقین کا قاتلوں کی گرفتاری کیلیے تھانے کے باہر دھرنا جاری ہے جبکہ والد نے ملزمان کی گرفتاری تک بیٹے کی تدفین نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق منگھوپیر کے علاقے مہران سٹی کے قریب گھر میں داخل ہونے والے ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 17 سالہ روشم نامی بچے کی ہلاکت پر لواحقین اور علاقہ مکینوں کی جانب سے قاتلوں گرفتاری کے لیے منگھوپیر تھانے کے سامنے دھرنا جاری ہے۔

پولیس نے مقتول کے والد روائیداد خان کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 528 سال 2026 بجرم دفعات 302 ، 324 ، 457 ، 397 اور 511 چونتیس کے تحت نامعلوم ڈاکوؤں کے خلاف درج کرلیا جسے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا۔

واقعے پر اہلخانہ اور علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پایا گیا اور ان کی جانب سے مقتول نوجوان کی لاش منگھوپیر تھانے کے سامنے احتجاج کیا گیا جسے 12 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے۔

مظاہرین سے بات چیت کرنے کے لیے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ویسٹ اور ایس ڈی پی او منگھوپیر سمیت دیگر پولیس افسران نے مقتول کے ورثا کے ملاقات کی اور انھیں اپنے تعاون اور ڈاکوؤں کی گرفتاری سے متعلق یقین دہائی کرائی۔

اس حوالے سے ڈی ایس پی منگھوپیر سید شاکر نے بتایا کہ مقتول کے ورثا سے بات چیت کا عمل جاری ہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے منگل کی صبح 8 بجے سے دھرنا دیا گیا ہے جو کہ تاحال جاری ہے۔

دھرنے میں موجود مقتول کے ورثا کا مطالبہ ہے کہ روشم خان کے قاتلوں کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے بصورت دیگر احتجاج کا سلسلہ جاری رہیگا۔

مقتول نوجوان روشم خان حافظ قرآن، میٹرک پاس طالب علم ، 8 بہنوں اور 2 بھائیوں میں سب سے بڑا تھا جسے سفاک ڈاکوؤں نے پیر اور منگل کی درمیانی شب منگھوپیر مہران سٹی میں گھر کے اندر ڈکیتی کی واردات کے دوران فائرنگ سے قتل کر دیا تھا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے