• ستمبر 8, 2026
  • Last Update ستمبر 8, 2026 9:23 شام
  • Australia

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

اسرائیل نے متعدد برطانوی ممبران پارلیمنٹ پر پابندی لگا دی اور مشرقی یروشلم میں برطانیہ کا قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

منگل کے روز برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کے اعلان کے بعد اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے برطانیہ پر متعدد جوابی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

منگل کی سہ پہر کو ایک تقریر میں سار نے کہا کہ اسرائیل مقبوضہ مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دے گا اور غزہ کے بین الاقوامی امدادی مرکز سے برطانوی نمائندوں کو نکال دے گا۔

انہوں نے فلسطینی افواج کی برطانوی تربیت کے خاتمے اور 11 برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی کا اعلان کیا۔

اس فہرست میں لیبر پارٹی کے سابق رہنما جیرمی کوربن، آزاد رکن پارلیمنٹ زرہ سلطانہ، لیبر ایم پیز ناز شاہ، ڈیان ایبٹ، جان میکڈونل اور رچرڈ برگون اور گرین پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کارلا ڈینیئر، ایڈرین رمسے، ایلی چاؤنز، سیان بیری اور ہننا اسپینسر شامل ہیں۔

اس کے علاوہ، اسرائیل نے وکیل فہد انصاری پر پابندی عائد کر دی، جو برطانیہ میں حماس کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر کالعدم قرار دینے کے مقدمے پر کام کر رہے ہیں۔

اسرائیل کو بڑی شکست، برطانیہ فلسطینیوں کی حمایت میں آگیا

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے