• ستمبر 8, 2026
  • Last Update ستمبر 8, 2026 9:50 صبح
  • Australia

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے معاملے کو آئینی بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کی کال کے خلاف کیس میں نوٹس جاری کے 10 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے معاملے کو آئینی بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان سے معاونت طلب کرلی۔

عدالت نے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، آئی جیز کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کرلیا۔ عدالت نےچیف کمشنر اسلام آباد ، ڈی سی اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو بھی پیش ہونے کا حکم دے دیا جبکہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد کو طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج و لانگ مارچ کے خلاف شہری وقاص احمد کی درخواست پر سماعت کی۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست گزار تاجر ہے اور اسلام آباد میں کاروبار کرتا ہوں حالیہ دنوں میں وزیر اعلی خیبرپختونخواہ نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ متاثرہ کس طرح ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ ہم متاثرہ اس لیے ہیں کیونکہ یہ احتجاج اسلام آباد لانے کا پلان ہے ، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ ان کے تمام معاملات پہلے ہی عدالتوں میں زیر التوا ہیں ، عدالتوں نے ان تمام کیسز کو قانون کے مطابق ہی دیکھنا ہے ، اگر ان کی بات کو مان لیا جائے تو پورے پاکستان کے لوگوں کو سڑکوں پر احتجاج کرنا چاہیے جن کے کیسز زہر التوا ہیں۔

وکیل درخواست گزرا نے سوال اٹھایا کیا جیسے جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا اب اڈیالہ جیل پر حملے کا پلان ہے ، یہ احتجاج مکمل طور پر ایک غیر قانونی احتجاج ہے ، وکیل درخواست گزار نے کہا 2024 میں انہوں نے اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی ، ان کے احتجاج کی وجہ سے تین رینجرز اہلکار بھی شہید ہوئے تھے ، اگر یہ کہتے ہیں کہ وہ بغیر کسی اسلحہ کے ہیں تو رینجرز کی ہلاکت کیسے ہوئی تھی؟

اخبار کی خبر کے مطابق 240 ملین روپے کا نقصان پچھلی دفعہ کے پی ٹی آئی احتجاج سے ہوا تھا ، اس سیاسی جماعت پر ہی ایسا الزام کیوں لگتا ہے باقی سیاسی جماعتوں پر ایسا الزام کیوں نہیں لگتا ، وکیل نے کہا کہ دباؤ ڈال کر ریلیف لینا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کہ کیا یہ لوگ چیف منسٹر کے ساتھ سرکاری مشینری کے ہمراہ آرہے ہیں ؟ وکیل نے کہا کہ جی بالکل وہ سرکاری مشینری کے ہمراہ آرہے ہیں ، وکیل درخواست گزار نے 21 نومبر 2024 کا ایک لیٹر وزارت داخلہ کا عدالت کے سامنے پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وزارت داخلہ کے لکھنے کے باوجود انہوں نے سرکاری مشینری 2024 میں استعمال کی تھی۔

وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ جس مقصد کے لیے وہ آرہے ہیں وہ ایک سزا یافتہ قیدی ہیں ، دو مقدمات اس عدالت میں زیر التوا ہیں ، اس عدالت نے ان کو اپیل پر دلائل کے لیے بار بار کہا لیکن وہ اپیل پر دلائل نہیں دے رہے ، یہاں جو لیگل معاملہ ہے وہاں ان کی یہ حالت ہے ، کیا اگر 20 لاکھ لوگ لیکر آجاتے ہیں تو کیا حکومت اپیلوں میں سزا معطل کرنے کی ہداہت عدالت کو کر سکتی ہے؟

عدالت نے معاملے کو آئینی بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کرتے ہویے سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے