ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی اور ہزاروں مرتبہ دیکھی گئی۔
سابق وزیراعظم و پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے بیٹے سلیمان خان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں انہیں مبینہ طور پر ’فری عمران خان‘ والی ٹی شرٹ پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ ویڈیو حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کی گئی ہے۔
23 اگست 2026 کو ایک ایکس صارف نے سلیمان خان کی ویڈیو شیئر کی جس میں ان کی ٹی شرٹ پر’فری عمران خان‘ لکھا دکھائی دیا جبکہ پوسٹ کے کیپشن میں بھی یہی نعرہ درج کیا گیا۔
Free Imran Khan pic.twitter.com/eRkNS3kqa7 — Khaula Chaudhry (@chaudhry_khaula) August 23, 2026
Free Imran Khan pic.twitter.com/eRkNS3kqa7
یہ منظر واقعی دل چھو لینے والا ہے—سلیمان خان نے پاکستان اور انگلینڈ کے میچ کے دوران شرٹ پر “FREE IMRAN KHAN” لکھ کر اپنی آواز دنیا تک پہنچا دی۔ ❤️🩹🇵🇰 pic.twitter.com/Tt3R2XA1Itgoogletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-story-2'); }); — Digital update (@ZafarItaly) August 23, 2026
یہ منظر واقعی دل چھو لینے والا ہے—سلیمان خان نے پاکستان اور انگلینڈ کے میچ کے دوران شرٹ پر “FREE IMRAN KHAN” لکھ کر اپنی آواز دنیا تک پہنچا دی۔ ❤️🩹🇵🇰 pic.twitter.com/Tt3R2XA1It
Free Imran Khan’s T shirt were by Salman Khan son of Imran Khan is spreading message about 3 billion people around the world. https://t.co/8Nr2sHh87T — S Hussain S (@ChangingCInc) August 24, 2026
Free Imran Khan’s T shirt were by Salman Khan son of Imran Khan is spreading message about 3 billion people around the world. https://t.co/8Nr2sHh87T
فیکٹ چیک کے دوران ویڈیو کے ایک فریم کا ریورس امیج سرچ کیا گیا مگر ایسی کوئی مستند خبر یا اصل تصویر سامنے نہیں آئی جس سے تصدیق ہو سکے کہ سلیمان خان نے حقیقت میں یہ ٹی شرٹ پہنی تھی۔
ویڈیو کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر بھی ایسی کئی بصری خامیاں سامنے آئیں جو اے آئی سے تیار کردہ مواد کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔
ویڈیو کے تقریباً 4 سے 5 سیکنڈ کے درمیان سلیمان خان کی انگلیاں شیشے کے اندر سے گزرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں جبکہ اگلے لمحے ان کا ہاتھ شیشے کی رکاوٹ سے غیر فطری انداز میں اوپر جاتا دکھائی دیتا ہے۔
اے آئی ڈیٹیکشن ٹول نے کیا بتایا؟
ویڈیو کو گلوبل آن لائن ڈیپ فیک ڈیٹیکشن سینٹر کے ذریعے بھی جانچا گیا جس میں ویڈیو اور آڈیو کا تجزیہ متعدد ڈیپ فیک ڈیٹیکشن ماڈلز کے ذریعے کیا گیا۔
نتائج کے مطابق ویڈیو کا جائزہ لینے والے 22 میں سے 14 ماڈلز نے اسے 0.5 سے زیادہ امکان کے ساتھ جعلی یا مصنوعی قرار دیا جبکہ آڈیو کی جانچ کرنے والے 70 میں سے 50 ماڈلز نے بھی اس کے جعلی ہونے کا امکان 0.5 سے زیادہ ظاہر کیا۔
بصری خامیوں اور ڈیپ فیک ڈیٹیکشن کے نتائج کی بنیاد پر ویڈیو کو فیک قرار دیا جاتا ہے۔
یہ وائرل ویڈیو حقیقی نہیں۔ دستیاب شواہد اور ڈیپ فیک تجزیے کے مطابق یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے۔

