Breaking News
Home / بلاگ / یو ٹرن وزیراعظم اور عدم تحفظ کی شکار قوم

یو ٹرن وزیراعظم اور عدم تحفظ کی شکار قوم

یو ٹرن وزیراعظم اور عدم تحفظ کی شکار قوم
مظفر جنگ
اس وقت دنیا کو کرونا وائرس نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ترقی پذیر تمام ممالک اس نظر نہ آنے والے وائرس کے سامنے ابھی تک بے بس نظر آ رہے ہیں۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی چینل فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس وقت دنیا ایک نظر نہ آنے والے دشمن کے خلاف تیسری جنگ عظیم لڑ رہی ہے۔ دنیا میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے اور تقریباً کرونا وائرس سے متاثر ممالک میں ایک طرح کی ایمرجنسی لگی ہوئی ہے اور جمہوری ممالک جہاں عمومی طور پر فوج کا سول امور میں دخل نہ ہونے کے برابر ہے وہاں پر بھی فوج کو سول امور سونپے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان میں بھی افواج پاکستان کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں اور جو ہر طرح کی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ کیا ہماری قوم اورحکومت تیار ہے؟ بادی النظر میں ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ ہم نے دیکھا کہ سنگارپور ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس نے کرونا وائرس کی وبا پر کسی حد تک قابو پا لیا ہے۔وہاں کے وزیراعظم لی ہسیئن لونگ نے سی این این کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ جیت لی ہے کیونکہ ابھی بھی کرونا وائرس وبا کے دوبارہ پھیلنا کا خطرہ موجود ہے۔ جب لی ہسیئن لونگ سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کن طریقوں سے کرونا وائرس پر قابو پایا تو انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ حکومت کے پاس مالی وسائل ہوں۔ دوسری بات حکومت موثر کردار ادار کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ذمہ داری کے احساس سے بھی لیس ہو۔آخری اور اہم بات عوام اپنی حکومت پر اعتمادکرتی ہو۔ عوام کو پختہ یقین ہو کہ حکومت جو بھی اقدامات کر رہی ہے وہ ان کی حفاظت اور بہتری کے لیے ہو۔ لی ہسیئن لونگ نے مزید کہا کہ اس اعتماد کے بعد عوام پھر وہی کرتی ہے جو حکومت انہیں کرنے کا کہتی ہے۔ اگر ہم پاکستان کا مقابلہ سنگاپور سے کریں تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہت محسوس نہیں ہو گی کہ ہماری حکومت اور عوام کرونا وائرس وبا پر قابو پانے والی اوپر درج کوئی بھی خصوصیت نہیں رکھتی۔ پاکستانی حکومت قرضوں میں لپٹی ہوئی معاشی زبوں حالی کا شکار ہے جبکہ عوام پچھلی تمام حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ ہماری حکومت میں اگر احساس ذمہ داری ہوتی تو وہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرتی۔ ایک بات روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ پاکستان میں مقامی طور پر کسی میں بھی کرونا وائرس موجود نہیں اور اگر یہ کرونا وائرس آیا بھی تو بیرون ملک میں سے آئے گا ۔ دسمبر اور جنوری کے ابتدائی دنوں میں کرونا وائرس چین کے شہر ووہان میں پھیل چکا تھا اور ووہان چین کا صنعتی علاقہ ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔ قوی امکان تھا کہ دنیا میں اگر یہ وائرس کہیں گیا توووہان شہر اس کا سبب بنے گا۔ چین نے ووہان شہر میں موجود کسی بھی پاکستانی تو واپس نہیں جانے دیا اور ادھر ہماری حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے غیر سنجیدہ حرکتوں میں الجھی ہوئی تھی۔وزیر اعظم، گورنرز، وزراءسمیت تمام لوگ کرونا وائرس کا علاج تجویز کرنے میں لگے رہے جبکہ مذہبی طبقہ اسے کفار پر عذاب الہیٰ قرار دیتا رہا جبکہ ہماری عوام اسے سنجیدہ لینے کی بجائے جگتوں میں لگی رہی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت کے پاس وسائل نہیں اور عوام کو بار بار تاکید کی جا رہی ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے دی گئی گائیڈ لائن پر عمل کریں لیکن اکثریت حکومت کی اس تنبیہ کو سنجیدہ لینے کو تیار نہیں۔ حکومت نے عوام کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکیج کا اعلان کیا لیکن ایک عام پاکستانی کواحساس ہے کہ ریلیف کا زیادہ تر پیسہ حکومتی اراکین اور افسروں کی جیب میں چلے جانا ہے اور عوام کو اپنا بندوبست خود کرنا پڑے گا۔ یہ وہ عدم اعتماد ہے جو حکومت کی تمام احتیاطی تدابیر کو ناکام بنا رہا ہے۔ عوام میں یہ احساس شدت سے موجود ہے اگر وہ گھر میں رہے تو بھوک سے مر جائیں گے اور کام کاج کے لیے باہر نکلے تو کرونا وائرس سے مر جائیں گے۔ جمعہ کے روز سپین میں مزدوروں نے ہرٹال کر دی کہ فیکٹریوں کے مالکان انہیں کام پر واپس بلا رہے ہیں لیکن ہمیں کسی طرح کی حفاظتی کٹیں اور ضروری سامان نہیں دے رہے اگر ہم کام پر واپس لوٹے تو کرونا وائرس کا شکار ہو جائیں گے۔ سپین کی حکومت نے مزدروں کے مطالبات ماننے کی بجائے ان پر لاٹھی چارج کیا۔ پاکستان میں بھی اب ایسے حالات آنے والے ہیں کہ جہاں مزدور کو فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور کیا جائے گا اور ان کو کسی طرح کا بھی جانی اور مالی تحفظ بھی نہیں ملے گا۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

آسٹریلیا نے حزب اللہ کو مکمل طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

آسٹریلیا نے حزب اللہ کو مکمل طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا کینبرا(ڈیلی …

Skip to toolbar