Breaking News
Home / بزنس / گوری چمڑی، منی اسکرٹ او ر ترقی یافتہ پاکستان

گوری چمڑی، منی اسکرٹ او ر ترقی یافتہ پاکستان

گوری چمڑی، منی اسکرٹ او ر ترقی یافتہ پاکستان

قمر جبار

ایک پاکستانی فلم “ دبئی چلو “ بہت مشہور ہوئی ادارکار علی اعجاز مرحوم نے اپنی ناقابل فراموش اداکاری کی بدولت دیار غیر میں روزگار کی خاطر جس جدوجہد کی منظر کشی کی وہ فلم بینوں کے ذہنوں میں نقش ہو گئی ہے۔ انیس سو چوہتر میں دوسری عالمی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد پاکستانیوں پر خاس طور پر خلیجی ممالک میں روزگار کے دروازے کھل گئے۔ لاہور کا علامہ اقبال ٹاو¿ن انہیں اوورسیز پاکستانیوں کی بدولت آباد ہوا۔ کرونا وائرس کی دنیا میں تباہ کاریوں کی بدولت اب حالات کچھ بدلتے نظر آرہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی انتخابی مہم کے دوران بڑے جذباتی انداز میں نعرہ لگایا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب دوسرے ممالک سے لوگ پاکستان میں روزگار کے لئے آئیں گے۔ لگتا ہے خان صاحب آپ کی سنی گئی۔ امریکہ جیسی سپر پاور اور اپنے اشاروں پر دنیا کی معیشت چلانے والے ملک میں اب تک کی رپورٹ کے مطابق دو کروڑ ساٹھ لاکھ افراد بیروزگار ہو چکے ہیں۔ جناب کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے دنیا سے بیروزگاروں کا سیلاب پاکستان کی طرف امڈ آئے۔ سو لنگوٹ کس لیں۔ ویسے کتنا مزا آئے گا جب گوریاں اسکرٹ پہن کر پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہوں گی۔
ابھی تو خیر حکومت پاکستان کڑے امتحان سے گزر ہی ہے کہ کرونا وائرس کے ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات سے کس طرح نمٹا جائے؟ انڈسٹری اور چھوٹے پیداواری یونٹ بند ہونے سے بیروزگار افراد کی ایک بڑی تعداد جنم لے رہی ہے تو دوسری طرف کرونا کے خوف سے اورسیز پاکستانی بھی خلیج اور یورپ سے اپنی ہی مٹی کو سجدہ کرنے آرہے ہیں۔ بہرحال عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے قرضوں کی ادائیگی میں رعائت اور دوست ممالک کی طرف سے کرونا جیسی مہلک وباءسے چھٹکارے کی خاطر ملنے والی امداد، عالمی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمت اور دیگر معاملات کی بدولت پاکستانی معیشت شائد دیوالیہ ہونے سے بچ جائے لیکن بے روزگاری کا عذاب نہیں ٹل سکے گا۔
ویسے خان صاحب، آپ ہیں قسمت کے دھنی، اقتدار میں آنے سے پہلے جو کہا وہ کر کے بھی دیکھایا اور اب سابقہ کئے گئے جوشیلے خطابات کا سامنا کرنے کے لئے آپ کو تیار رہنا چاہیئے۔ کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ سب کو اندر کر دوں گا۔ لوٹی ہوئی دولت واپس لاو¿ں گا۔ گرین پاسپورٹ کی قدر بحال ہو گی، وغیرہ وغیرہ۔ خیر کرپشن کرنے والے جیل تو گئے لیکن ایک روپیہ بھی واپس لئے بغیر ضمانتوں پر باہر آ گئے۔ جناب وزیراعظم صاحب یہی وقت ہے کہ لوٹی ہوئی دولت اب بزور شمشیر نکلوائی جائے۔ قرضے معاف کرانے اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اربوں کمانے والوں کی کسی دلیل کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ لوٹی ہوئی دولت برامد کر کے شعبہ صنعت پر لگا دیا جائے۔ ملک میں صنعتی انقلاب آ جائے تو شائد یورپ کا اعتماد بحال ہو اور وہاں کی گوریاں یہاں جاب کی تلاش میں آ جائیں۔
ویسے امریکی اور یورپی بے روزگار نوجوانوں کا پاکستان آنے سے ایک فائدہ ضرور ہو گا کہ شرح خواندگی میں کمی متوقع ہو سکے گی۔ ہمارا ان پڑھ اور جاہل مزدور بھی ان کے ساتھ رہ کر کم از کم انگریزی بولنا سیکھ جائے گا اور اردو کے بھی بین الاقوامی زبان بننے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ اچھے مستقبل کی خاطر فیس بک پر ہونے والی جعلی دوستی اور دھوکہ دہی پر مبنی شادیوں کا رجحان بھی ختم ہو جائے گا۔ دنیا قریب سے پاکستانیوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقعہ بھی پا سکے گی۔ وزیراعظم صاحب چانس اچھا ہے ، فائدہ اٹھائیں۔
اگست دو ہزار اٹھارہ میں تحریک انصاف کی حکومت آئی تو مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ گردشی قرضوں کی ادائیگی ، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور روپے کی قدر کو بحال رکھنے کے لئے دوست ممالک پاکستان کی مدد کو آئے لیکن شائد بیروزگاری کے طوفان کو قابو پانے کے لئے اب دوست اور یورپی ممالک پاکستان کی کوئی مدد نہ کر سکیں۔ کرونا کی وجہ سے یورپ اور امریکی باشندے زیادہ پریشان ہیں۔ شکر ہے کہ پاکستان میں چین کی بروقت امداد اور حکومتی اقدامات کی وجہ سے کرونا قابو میں ہے۔ ممکن ہے کہ جلد اس وبا کا پاکستان سے خاتمہ ہو جائے کیونکہ چین کی دلچسپی بھی اس طرف زیادہ ہے ورنہ اس کی پاکستان میں پینتالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ پاک چین بہتر معاشی تعلقات کا تقاضا ہے کہ ووہان کی طرز پر کرونا کا جلد از جلد پاکستان سے خاتمہ کیا جائے اور اقتصادی راہداری پر کام کی رفتار کو تیز ہو سکے۔
جناب وزیر اعظم صاحب آپ نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کو تسلی دی کہ گھبرانا نہیں۔ پاکستانیوں نے بھی مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیا۔ ڈیم فنڈ اور کرونا ریلف فنڈ میں دل کھول کر چندہ دیا۔ اب وقت ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دیکھائیں۔ سچ ثابت کریں کہ بیرون ممالک سے روزگار کے لئے لوگ پاکستان ا?ئیں گے۔ کیا لطف آئے گا جب گوریوں کی سی پیک منصوبے پر نتھو مستری کے ساتھ کام کرتے سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہو گی۔ جب افریقی لڑکیاں کسی منصوبے کی تکمیل پر یورپی اسٹائل میں پاکستانی مزدوروں کے ساتھ رقص کر رہی ہوں گی۔ پاکستانی مزدوروں کے نگ دھڑنگ بچے انہیں ا?نٹی کہہ کر پکار رہے ہوں گے اور وہ انہیں ناٹی کہہ کر مسکرا رہی ہوں گی۔ گورے مزدور فرصت کے لمحات میں بلئرڈ کے بجائے گلی ڈنڈا کھیل رہے ہوں گے۔خان صاحب سوچ لیں موقعہ اچھا ہے۔

قمر جبار ایک سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ہیں اور وہ گذشتہ تین دہائیوں سے انگلش، اردو اخبارات میں لکھتے ہیں۔ ان کا دس سال کا الیکٹرونک میڈہا کا بھی تجربہ ہے۔ ان کی شگفتہ تحریریں اور بےباک تبصرے قارئین کی توجہ کا ہمیشہ مرکز رہے ہیں۔ ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے.
qamar1200@hotmail.com

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال امن کےلئے …

Skip to toolbar