Home / پاکستان / گرین الائنس زرعی شعبے میں انقلاب اور پاک امریکہ تعلقات کو مزید مستحکم کرےگا،سردار مسعود خان

گرین الائنس زرعی شعبے میں انقلاب اور پاک امریکہ تعلقات کو مزید مستحکم کرےگا،سردار مسعود خان

گرین الائنس زرعی شعبے میں انقلاب اور پاک امریکہ تعلقات کو مزید مستحکم کرےگا،سردار مسعود خان
گرین الائنس سے امریکی مہارت کی بدولت پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے، پاکستانی سفیر کا خطاب
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکہ میں پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت سے اہم شعبہ جات بشمول زرعی شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، گرین الائنس سے امریکی مہارت کی بدولت پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے ،یہ اقدام اس خیر سگالی کے جذبے کو مزید مستحکم کرے گا جو ساٹھ کی دہائیوں میں امریکی مدد سے گرین انقلاب کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی شعبے میں پاک امریکہ تعاون کے موضوع پر منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وبینار کا اہتمام وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر اقرار احمد خان کی جانب سے کیا گیا جبکہ اس میں زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والے سرکاری اور نجی شعبے سے ماہرین، تحقیقی اور زرعی اداروں کے نمائندگان، کاروباری افراد اور کسانوں کے نمائندگان شریک تھے۔ ویبینار کے انعقاد کا مقصد زرعی شعبے میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ممکنہ تعاون اور خصوصاً ان اقدامات کی نشاندہی کرنا مقصود تھا جن کی بدولت موسم کی شدت برداشت کرنے والے بیجوں کے ذریعے پیداوار ی اضافہ، کسانوں کی لاگت کو کم کرنا اور زرعی اجناس کی پیدا واربڑھانا اور خاص طور پر خوراک کے تحفظ کے حوالے سے کسی بھی مشکل صورتحال سے پیشگی بچاو¿ شامل تھا۔ ویبینار میں سیدبابر علی، سینٹر نعمان وزیر خٹک، سینیٹر سحر کامران، سیکرٹری زراعت پنجاب، معروف کاشتکار رابعہ سلطان، آفاق ٹوانہ، شوکت علی، مونسیٹو بائیر کے نمائندے سعد خان اور دیگر شخصیات شریک تھیں۔
شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا کہ امریکی حکومت ، جامعات، تحقیقاتی ادارے اور نجی شعبہ زراعت کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملانے اور زرعی شعبے کے مسائل کے حل کے سلسلے میں مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوطرفہ سود مند شراکت داری کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ مسعود خان نے کہا کہ زرعی شعبے میں انقلاب لانے کے لئے جدت پر مبنی سوچ اور طرز عمل، ٹھوس حکمت عملی، واضح اہداف ، مسلسل کوشش اور تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول گورنمنٹ، جامعات او اور نجی شعبے کے مابین مضبوط روابط اور تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو درپیش مشکلات پر قابو پانے اور اس شعبے میں پاک امریکہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے ضمن میں کسان برادری اور سول سوسائٹی اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے گہری دلچسپی اور دوطرفہ تعاون کے حوالے سے پہلے سے موجود فریم ورک جن میں ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فریم ورک ایگریمنٹ شامل ہیں زرعی شعبے میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ مسعود خان نے وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر اقرار احمد خان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے زرعی شعبے میں تعاون کے فروغ کے مقصد کے لئے تمام متعلقین اور اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کیا ہے اور اس حوالے سے تبادلہ خیال کا موقع فراہم کیا۔ ڈاکٹر اقرار احمد خان نے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی کے درمیان مضبوط تعلقات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی فصل کو ماحولیاتی تبدیلی سے محفوظ بنانے کی غرض سے واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی کی جانب سے بیج فراہم کیے گئے ہیں جن کو متعارف اور آزمایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جامعات جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے، ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والے بیجوں کی پیداوار ، افرادی قوت کی ٹریننگ اور استعداد کار بڑھانے کے حوالے سے بھی تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد امریکہ محکمہ زراعت، سیابین انوویشن لیب، یونیورسٹی آف الونوئس اور نارتھ ڈاکوٹہ سٹیٹ یونیورسٹی کے تعاون سے سویا بین کی کثیر المقاصد فصل متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس زیادہ پیداوار دینے اور بیماریوں سے مدافعت رکھنے والے چنے کی فصل کے بیج متعارف کرانے کے حوالے سے بھی کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اقرار خان نے ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کے قوانین کے مکمل اطلاق کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے امریکی سرمایہ کاروں کو اعتماد مل سکے۔
بانی نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن سید بابر علی نے بیج کو زراعت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ زرعی شعبے کے موجودہ مسائل کو حل کرنے کے لئے غیر روایتی حل تلاش کرنے اور خصوصاً بیج کےحوالے سے ریگولیٹری رجیم کو لبرل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ مونسیٹو بائیر کے نمائندے محمد عاصم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لئے یکساں مواقعوں کی فراہمی، انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس قوانین کے مکمل اطلاق اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کےحوالے سے تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ سعد خان نے امریکی کمپنیوں اور مقامی شراکت داروں کے مابین مضبوط پارٹنر شپ کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بیجوں کی تقسیم اور پھیلاو¿ کے نظام کو منظم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ معروف کاشتکار رابعہ سلطان نے سائنسی بنیادوں پر محیط ریگولیٹری نظام تعارف کرانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ سینٹر نعمان وزیر نے وائیبیلیٹی گیپ فنڈنگ کی سہولت دینے تاکہ نئے اور معیاری بیجوں تک کسان کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے، اور بیجوں کی پراسسنگ پلانٹس کے حوالے سے خصوصی رعایت اور مراعات دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ سابق امریکی سفیر آصف چوہدری نے بیج کو تذویراتی اہمیت دینے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر نجی شعبے کو مزید سہولت کاری فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ سفیر پاکستان مسعود خان نے شرکاءکی تجاویز کا شکریہ ادا کیا اور حکومت کی جانب سے زرعی شعبے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ریگولیٹری رجیم کے حوالے سے حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین ڈائیلاگ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کےمابین تعاون، نجی شعبے کے تعاون اور اس کے ساتھ ساتھ جامعات اور نجی شعبے کے دوطرفہ تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے شرکاءپر زور دیا کہ وہ زراعت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے فروغ اور سرممایہ کاری کے مواقعوں کی نشاندہی کریں۔ انہوں نے شرکاءکو امریکی زرعی اداروں سے جوڑنے اور باہمی نیٹ ورکس کو مضبوط بنانے کے ضمن میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

فاروق ستار کا کراچی بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بڑا دعویٰ، الیکشن دوبارہ ہوں گے

ماہ میں بلدیاتی انتخابات پھر ہوں گے، فاروق ستار کا دعویٰ اب اگر اعتماد کا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar