Home / انٹر نیشنل / گدو تھرمل پاور اسٹیشن میں فالٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا.

گدو تھرمل پاور اسٹیشن میں فالٹ، پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا.

اسلام آباد۔10جنوری (ڈیلی پاکستان آن لائن):پاکستان میں ہفتے کی درمیانی شب بجلی کے ایک بڑے بریک ڈاؤن کے بعد تمام چھوٹے بڑے شہر اور دیہات تاریکی میں ڈوب گئے اور کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بجلی بحال نہیں ہو سکی ہے۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق رات 11:41 بجے پر گدو میں فالٹ پیدا ہوا جس کی وجہ سے ملک کی ہائی ٹرانسمیشن میں ٹرپنگ ہوئی اور ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں سسٹم کی فریکونسی 50 سے 0 پر آئی اور بریک ڈاؤن ہو گیا۔ اس بریک ڈاؤن کے بعد ملک کے بڑے بجلی گھروں جہلم، منگلا، تربیلا میں پاور پلانٹس بند ہونے کی وجہ سے سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ بریک ڈاؤن کی وجہ سے آزاد کشمیر بھی تاریکی میں ڈوب گیا۔ اتوار کی صبع بجلی کی سپلائی کا سلسلہ شروع ہوا تاہم بیشتر شہروں میں مکمل بجلی بحال نہ ہو سکی.
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فرازنے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے ترسیل اور تقسیم پر توجہ نہیں دی اسی وجہ سے ملک بھر میں اچانک بجلی کا نظام متاثر ہوا، ایسے میں بھی افواہ ساز فیکٹریوں نے چہ مگوئیاں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اتوار کو وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کے ہمراہ ملک میں بجلی کی بندش سے متعلق مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وفاقی وزیرسینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ بجلی کی ترسیل میں تعطل پیدا ہوا اس دوران بھی بہت سی چہ مگویوں نے جنم لیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کا شعبہ ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ماضی کی حکومت نے جنریشن پر توجہ دی اعورترسیل و تقسیم کے نظام عدم توجہ کا شکار رہااور نہ ہی ترسیل کے نظام میں نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت 36 ہزار میگاواٹ سے زائد ہے تاہم ترسیل کا نظام اس سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ نظام کی اپ گریڈیشن نہ ہونے کی وجہ سے تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ وفاقی وزیرسینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ مٹیاری کی لائن جلد مکمل ہونے کو ہے جبکہ ترسیل کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ گزشتہ رات گدو میں انجینئرنگ فالٹ کی وجہ سے شٹ ڈائون ہوا ، یکے بعد دیگرے پاور پلانٹس بند ہوگئے، یہ تکنیکی مسئلہ ہے، مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، تلاش کر رہے ہیں کہ مسئلہ کہاں ہوا، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، ملتان سمیت کئی شہروں میں بجلی بحال ہوگئی ہے ، مزید چند گھنٹے میں پورے ملک میں صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
سابق دور میں بھی ایسے8 واقعات ہوئے ، ہم نے سسٹم کو بہتر بنایا ہے۔ اتوار کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب 11 بج کر 41 منٹ پر گدو پاور پلانٹ میں فالٹ آیا جس سے ایک سکینڈ کے اندر فریکونسی ڈراپ ہو کر زیرو پر آگئی ہے یکے بعد دیگرے سیفٹی سسٹم نے خود کو شٹ ڈائون کرنا شروع کردیا یہ بالکل اس طرح ہے جس طرح گھر میں اوور لوڈ ہونے پر فیوز اڑ جاتے ہیں ۔10302 میگاواٹ پر جگہ جہاں پاور پلانٹ چل رہے تھے بشمول منگلا، تربیلا اور ونڈ پاور پلانٹس سسٹم سے آئوٹ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ شٹ ڈائون کے فوری بعد میں اور تمام ذمہ داران نیشنل پاور کنٹرول سنٹر میں پہنچ گئے ۔ وزیر اطلاعات بھی صورتحال مانیٹر کرتے رہے۔ قوم کو فوری اعتماد میں لیا یہ بھی بتایا کہ کو ن کون سے شہر میں بجلی کتنی دیر میں بحال ہو جائےگی ، تربیلا کو دوبار سٹارٹ کیا وہ سنک ہوگیا۔ اس وقت اسلام آباد ،راولپنڈی ، ، لاہور اور گردو نواح ، فیصل آباد شہر کا آدھا حصہ، جھنگ، میانوالی، ملتان میں بہت حد تک بجلی بحال ہوچکی ہے۔ کراچی الیکٹرک کو 400 میگاواٹ کی سپلائی ہوچکی ہے ۔ سسٹم کو واپس آن لائن آنے میں چند گھنٹے اور لگیں گے ۔ اس کی وجوہات کے بارے میں فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ گدو کے اردگرد دھند کے باعث کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ 500 کے وی کی لائنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تلاش کررہے ہیں کہ فالٹ کہاں آیا؟
انہوں نے بتایا کہ ہماری حکومت نے آتے ہی 49 ارب روپے ٹرانسمیشن کی بہتری کےلئے لگائے۔ اس سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ کی بہتری آئی ۔ سابق حکومت میں 18 ساڑھے 18 ہزار میگاواٹ تک کی گنجائش تھی ہم گزشتہ گرمیوں میں اسے ساڑھے 23 ہزار میگاواٹ تک لے کر گئے ہیں۔ دو سردیاں گزر گئیں ہم نے اینٹی فوگ انسولیٹر ڈسکس کی تنصیب کی۔ لائن مینٹیننس کا کام کیا۔ تحقیقات مکمل ہونے تک نہیں کہہ سکتا کہ فالٹ کہاں آیا ، گدو کے پاور پلانٹ کے اندر، یارڈ کے اندر یا باہر کہاں مسئلہ ہوا ابھی نہیں معلوم۔لاہور تا مٹیاری لائن مارچ اپریل تک مکمل ہو جائے گی اس سے 4 ہزار میگاواٹ کی لائن آپریشنل ہو جائے گی۔1.6 ارب ڈالر کی لاگت سے یہ لائن مکمل کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہم ای کنڈ کٹنگ کررہے ہیں۔اس سے سسٹم ریڈیڈننسی کی سہولت حاصل ہوگی یعنی اگر مستقبل میں ایسی صورت حال کا سامنا ہوا تو بہتر طریقے سے اس سے نمٹا جا سکے گا۔ یہ واقعہ پہلی بار نہیں ہوا اور نہ ہی صرف پاکستان میں ایسا ہوتا ہے، دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ سسٹم کتنی جلدی اسکو رسپانڈ کرتا ہے،مسلم لیگ دور میں 2013سے 2018ء تک ایسے 8 واقعات ہوئے تھے ، ہم نے سسٹم میں انوسٹمنٹ کی ، ٹیموں کی آن گرائونڈ موجودگی یقینی بنائی ۔ جنہں ہر طریقہ سے منیج کر رہے ہیں، ترسیل کے نظام میں بہتری آ رہی ہے۔ اس میں سرمایہ کاری کی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سسٹم کا المیہ یہ ہے کہ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ 24، 25ہزار میگا واٹ تک سسٹم گیا تھا۔ سردیوں میں ڈیمانڈ کم ہو جاتی ہے ، دن میں اوسطاً ڈیمانڈ 13، 14ہزار میگا واٹ رہتی ہے ، رات 11، بارہ بجے 10ہزار میگاواٹ تک ہوتی ہے ، گدو سے 500کے وی کے 3سرکٹ نکلتے ہیں ۔ ابھی پتہ نہیں چل رہا کہ کس سرکٹ میں مسئلہ ہوا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فریکونسی ویری اسٹیشن سے سسٹم میں جو بریکر لگے ہوتے ہیں وہ آٹو میٹک شٹ ڈائون ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم نے دھند کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے فوگ انسولیٹرز نصب کئے ہیں،جسکی وجہ سے یہ مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ رات بھی بہت دھند تھی ، میٹاری ٹو لاہور لائن پر 1.06ارب ڈالر/ اڑھائی سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ مارچ اپریل تک یہ آپریشنل ہو جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ 16مئی 2018ء کو 4:28منٹ پر بھی ایسا شٹ ڈائون ہوا تھا ، 9گھنٹے 13منٹ تک شٹ ڈائون رہا ،یہ جزوی تھا ، پورے ملک میں نہیں تھا ۔ حویلی پاور پلانٹ اور بھکی پاور پلانٹ میں ایشوز آئے تھے ۔ اس وقت ہم ایمر جنسی کی صورت حال سے نکل آئے ہیں۔ سسٹم سٹیبل ہو چکا ہے۔ ساری رات ہم سوئے نہیں ہیں۔تمام ذمہ داران اور میں خود صورت حال کو مانیٹر کرتے رہے ہیں۔ اس واقعہ کی آزادانہ انکوائری ہوگی۔ یہ تکنیکی نوعیت کاکام ہے ، انجینئرز ہی اسکو دیکھیں گے۔
وزیر اعظم عمران خان کو بروقت صورت حال سے مطلع کیا گیا ان کی ہدایات تھیں کہ فوری طور پر معاملہ کو دیکھیں اور بہتری کیلئے اقدامات کریں۔گدو میں 3 سرکٹ مختلف سمتوں میں نکلے ہیں۔ ایک ایک ٹاور پول کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ایک ایک انسولیٹر کو دیکھ رہے ہیں، یہ کئی ٹن کا ہوتا ہے، ہماری ٹیمیں ایک ایک جگہ کا جا کر جائزہ لے رہی ہیں۔ مزید دو ٹرانسمیشن لائنیں بچھا رہے ہیں ۔ ای کنڈکٹنگ ہو رہی ہے۔ اس سے صورتحال بہتر ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسے علاقے جہاں چوری زیادہ ہے وہاں سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ 21 ارب روپے پشاور کے علاقوں کےلئے مختص کئے ہیں۔ اس سے صورتحال بہتر ہوگی۔ سب ڈویژن میں گاڑیاں بھی دے رہے ہیں۔ فیڈر وائز مانیٹرنگ کریں گے۔ انضمام شدہ علاقوں میں گھریلو بل 2023 تک نہیں لئے جائیں گے۔ وہاں سسٹم جنگ کی وجہ سے بالکل بیٹھ گیا تھا۔ وہاں سسٹم کی بہتری کےلئے سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ گھریلوصارفین تک 11 کے وی کی لائنیں بچھا رہے ہیں۔ ایک اور سوال میں انہوں نے کہا کہ دو سالوں میں مین لائنوں میں کوئی خرابی نہیں آئی ہم نے سسٹم کو بہترکردیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اس سطرح کے مسئلے ہوتے ہیں۔ کینیڈا، امریکہ، برطانیہ میں بھی انجینئرنگ فالٹ آتے ہیں۔ یہ بھی ایک انجینئرنگ فالٹ ہے۔ ہم نے پرابلم تلاش کرنا ہے ، ہماری حکومت میں دو سال میں اب تک پہلی بار مسئلہ آیا ہے ۔ سابق حکومت کے دور میں 8 بار ایسا مسئلہ آیا تھا۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

کوہلی پر تنقید پر پاکستانی شائقین ناراض، شان نے اپنی رائے تبدیل کرلی

کوہلی پر تنقید پر پاکستانی شائقین ناراض، شان نے اپنی رائے تبدیل کرلی اگر کوئی …

Skip to toolbar