Breaking News
Home / بلاگ / کرونا وائرس : ایک عالمی بیماری یا ادوایات ساز کمپنیوں کا کھربوں روپے کا دھندا

کرونا وائرس : ایک عالمی بیماری یا ادوایات ساز کمپنیوں کا کھربوں روپے کا دھندا

کرونا وائرس : ایک عالمی بیماری یا ادوایات ساز کمپنیوں کا کھربوں روپے کا دھندا
مظفرعلی جنگ
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میںدوا سازی کی 20 سے زیادہ لیبارٹریز کرونا وائرس کے لیے ویکسین بنانے میں دن رات مصروف ہیں۔ اگرچہ کرونا وائرس کے خوف میں مبتلا انسانوں کے لیے یہ ایک امید کی کرن ہے لیکن دوسری طرف یہ سرمایہ دارانہ نظام کا وہ تاریک پہلو بھی ہے کہ اب ہر دوا ساز کمپنی اس دور میں شامل ہو جائے گی کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں اس ویکسین کو سب سے پہلے تیار کر کے اس دوا کو نہ صرف اپنی کمپنی کے نام پیٹنٹ کروا لے بلکہ عالمی منڈی میں اس کی اجارہ داری بھی قائم ہو سکے۔ اس دوڑ میں انسانوں کی فلاح وبہبود کو پس پشت ڈال کر دولت سمیٹنے میں ہر دوا ساز کمپنی شامل ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی عالمی ادارہ صحت کی طرف سے کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دے کر اس دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کو ویکسین لینا لازمی ہو جائے گا اور یہ کام فوج اور پولیس کی نگرانی میں کرایا جائے گا جس کا مطلب یہ ہو گا ان دونوں اداروں کو نگرانی کے لیے غیر ضروری اختیارات مل جائیں گے جس کا حتمی نتیجہ یہ ہو گا کہ انسانی آزادی محدود ہو کر رہ جائے گی۔
اس وقت مارچ 27 تک دنیا میں کرونا وائرس کے مجمو عی مریضوں کی تعداد 532,224 جبکہ 24,087 لوگ موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ تقریباً 4.3 فیصد بنتا ہے۔ ایک اہم پہلو جسے نظرانداز کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں جہاں کرونا وائرس کی تشخیص کی جدید سہولیات میسر نہیں وہاں عام فلو کو بھی ممکن ہے کرونا وائرس کہہ کر اس کو قرنطینہ کر دیا گیا ہو۔
غلط تشخیص اور من گھرٹ رپورٹنگ بھی ان تعداد میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی کچھ اس طرح کی اطلاعات ہیں۔ مسٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ جو امریکہ میں بیماریوں کو کنٹرول کرنے والے ادارے کے چیف ایگزیکٹو ہیں انہوں نے کانگرس کے سامنے گواہی دیتے ہوئے اعترراف کیا تھا کہ سی ڈی سی اب باقاعدہ طور پر ٹسٹ نہیں کر رہی بلکہ صرف انتہائی شدید نوعیت کے کیسز کا ٹسٹ کر رہی ہے۔ سی ڈی سی کے ایک تخمینے کے مطابق امریکہ میں 2019-2020 میں تقریباً 3 کروڑ افراد سے لے کر 6 کروڑ افراد تک عام نزلہ زکام میں مبتلا ہو سکتے ہیں جبکہ 23 ہزار سے 60 ہزار تک افراد لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔مرنے والوں میں بڑی تعداد 70 سال سے اوپر افراد کی ہو گی یا پھر ان لوگوں کی جو سانس کے امراض میں مبتلا ہوں گے۔اگر باغور دیکھا جائے یہ بالکل وہی پیٹرن ہے جو کرونا وائرس کا ہے۔
کیا وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے فلو کو عالمی وبا قرار نہیں دیا؟ کیا اس کے پیچھے کوئی ایجنڈا ہو سکتا ہے؟
اگرچہ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ کرونا وائرس میں تبدیلی کی شرح بانسبت فلو کے بہت کم ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ کرونا وائرس سے بچاو¾ کے لیے صرف زندگی میں ایک بار ہی ویکسین لینے کی ضرورت ہے جبکہ دوسری طرف کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ کرونا وائرس میں تبدیلی فلو کے وائرس کے پیٹرن پر ہو سکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہر سال ایک نئی ویکسین کی ضرورت ہوگی۔
چین ابھی تک وہ واحد ملک ہے جس نے کرونا وائرس کو بغیر ویکسین سے قابو میں کیا ہے ا س کے لیے چین نے روایتی اور سستی ادویات کا استعمال کیا ہے۔

فرانسیسی پروفیسر دیڈیئر راولٹ جن کا شمار دنیا کے وبائی امراض کے پانچ بڑے سائنسدانوں میں ہوتا ہے ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اتنی بڑی تعداد میں قرنطینہ کرنے کا طریقہ کار موئثرثابت نہیں ہو سکتا۔ کروناوائرس کو قابومیں کرنے کے لیے وسیع پیمانے میں لوگوں کی تشخیص کے ساتھ مشکوک مریضوں کا علاج ضروری ہے۔
کیوبا کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جارہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کا علاج آج سے 39 سال قبل بنائی گئی انٹی وائرل ویکسین جسے انٹرفیرون الفا 2 بی کہا جاتا ہے اس سے علاج کر رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چین نے بھی اسی میڈیسن سے کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج کیا ہے۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ چین اور کیوبا مل کر کرونا وائرس کی ویکسین پر کام کر رہے ہیں اور جلد ہی اسے تیار کرکے دنیا میں پیش کر دیا جائے گا جس کی قیمت یورپ اور امریکہ میں تیار ہونے والی ویکسین سے بہت کم ہو گی۔
کچھ ماہرین طب یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ کرونا وائرس کے خلاف سستی اور موئثر ترین چیز وٹامن سی اور وٹامن ڈی3 کا استعمال ہے۔
امید کی جاسکتی ہے کہ دنیا میں جلد کروناوائرس کاعلاج دریافت کر لیا جائے گا ۔
#کروناوائرس، #ادویات_ساز_کمپنی، #علاج،

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

حکومت پاکستان دسمبر 2022تک پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے، امین الحق

اسلام آباد۔ 23نومبر (ڈیلی پاکستان آن لائن ) :وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی …

Skip to toolbar