Breaking News
Home / بلاگ / کرونا وائرس اور پنجاب حکومت: کیا ہم تباہی کے دہانے پر بیٹھے ہیں ؟

کرونا وائرس اور پنجاب حکومت: کیا ہم تباہی کے دہانے پر بیٹھے ہیں ؟

کرونا وائرس اور پنجاب حکومت: کیا ہم تباہی کے دہانے پر بیٹھے ہیں ؟

مظفر جنگ

صوبہ پنجاب میں اس وقت تک ٹوٹل 17000 کرونا وائرس کے ٹیسٹ ہوئے ہیں جس میں 10000 سرکاری جبکہ 7000 پرائیوٹ سطح پر کئے گئے۔پنجاب کی ٹوٹل آبادی 11 کروڑ ہے اور جس میں ابھی تک صرف 17000 افراد کا کرونا وائرس ٹسٹ ہو چکا ہے جبکہ کرونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد بھی 1000 کا ہندسہ چھونے والی ہے اور یہ ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے جسے کسی طور بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتا۔ ہمیں پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ پرائیوٹ سیکٹر کی طرف سے جو 7000 ٹسٹ ہوئے ہیں وہ یا تو صاحب حثیت لوگوں نے کروائے ہیں یا پھر بڑی کمپنیوں نے اپنے مخصوص ملازمین کے حفظ ماتقدم کے طور پر ٹسٹ کروائے ہیں جن میں مثبت مریضوں کی تعداد بہت کم ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے زیادہ تر ٹسٹ غیر ممالک سے آئے مسافروں یا پھر ایرانی اور سعودی زائرین پر کئے گئے ہیں یا پھر مشتبہ افراد میں یہ ٹسٹ ہوئے ہیں۔ پنجاب میں آج بھی گیارہ کروڑ آبادی ان ٹیسٹوں سے محروم ہے۔ اگر ہم دنیا میں رائج اس فارمولے کو دیکھیں جس کے مطابق ایک کرونا وائرس کا مریض جس کا سوشل حلقہ انتہائی محدود ہو وہ بھی کم از کم چار افراد میں کرونا وائرس کو منتقل کر دیتا ہے جبکہ وسیع سوشل حلقہ رکھنے والا جس میں مذہبی اور خاص طور پر شعیہ اور تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والا شخص اگر اسے فوری طور پر نہ روکا جا سکے وہ تین ہزار افراد کو کرونا وائرس کا شکار بنا سکتا یے۔ اگر ہم کم سے کم تعداد کو بھی مد نظر رکھیں تو اس وقت پنجاب میں ایک ہزار کرونا وائرس کے کنفرم مریض ہیں اور ایک مریض چار افراد کو متاثر کر رہا ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ تین ہزار افراد جو کرونا وائرس سے متاثر ہیں آزاد معاشرے میں گھوم پھر رہے ہیں اور یہ وائرس دوسروں میں منتقل کر رہے ہیں اور اگر اس کو موجود مریضوں سے ضرب دیں تو تعداد کا تعین کر کے رونگٹے گھڑے ہو جاتے ہیں۔
اب بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک عام فہم رکھنے والا شخص تعداد کا تخمینہ لگا سکتا ہے تو پھر سرکاری سطح پر موجود سرکاری ادارے اور ماہرین اس کا اندازہ لگانے میں کامیاب دکھائی کیوں نہیں دے رہے ؟ اور بادی النظر سے لگتا ہے کہ انہیں کرونا وائرس سے اتنی پریشانی نہیں جتنی دنیا اس وقت دکھا رہی ہے ؟
اس کا سیدھا سادھا جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ایسی پریشانی کا اظہار کرکے عوام میں خوف و ہراس پیدا نہیں کرنا چاہتے اور دوسرا اس کا قریں قیاس پہلو یہ ہو سکتا ہے کہ جیسے کچھ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں کرونا وائرس اتنی تباہی نہیں پھیلائے گا جتنی وہ امریکہ اور یورپ میں پھیلا رہا ہے اور اس کی وجہ بھی یہ بتائی جا رہی ہے کہ یہاں آلودگی اور صاف پانی کی قلت کی وجہ سے لوگوں کا مدافعتی نظام مضبوط ہو چکا ہے جو کرونا وائرس کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے۔ اسی خیال کو لے کر ہماری حکومت آگے بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ ایک اور اہم پہلو جس کا اظہار وزیراعظم سمیت ہر دوسرا شخص کر رہا ہے کہ پاکستان کی چالیس فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کے اندر کرونا وائرس کے خلاف قدرتی طور پر مدافعتی نظام ہوتا ہے اگر یہ بیماری پھیلی بھی تو اس کا نقصان بزرگ یا بیمار لوگوں کو ہو گا اور ایسے ہماری آبادی کا ایک بڑا کارآمد طبقہ محفوظ رہے گا۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ استدلال سن کر ایک لمحے کے لیے دل دہل جاتا ہے کہ حکومت کا بزرگ شہریوں اور بیمار لوگوں کے بارے میں رویہ انتہائی سفاکانہ ہے۔ اور دوسرا یہ پہلو بھی اہم ہے کہ پاکستان میں ہلاک ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد اکیس سال سے پچاس سال کے لوگوں پر مشتمل ہے اور دوسری اہم بات یہ کہیں بھی ثابت نہیں ہوا کہ کرونا وائرس نوجوانوں میں داخل نہیں ہوتا۔ یہ بات تسلیم بھی کر لیں کہ نوجوان اس بیماری کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہیں لیکن ایک متاثرہ نوجوان بہت سارے لوگوں میں کرونا وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے لہذا یہ استدلال سرے سے دینا بنتا نہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے پاکستان میں آج بھی کرونا وائرس کو سرکاری اور عوامی سطح پر سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا اگر یہی صورتحال رہتی ہے تو پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جائے گی۔

مظفر علی جنگ ایک سینئر صحافی، مورخ اور تجزیہ نگار ہیں. وہ عرصہ بیس سال سے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل کے لیے لکھ رہے ہیں. ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
muzaffar56@gmail.com

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال امن کےلئے …

Skip to toolbar