Home / انٹر نیشنل / کرونا وائرس انسانوں کی آبادی کم کرنے کا اور ذہنوں کو غلام بنانے کا سب سے بڑا مہلک بائیو کمیکل ہتھیار بن گیا ہے

کرونا وائرس انسانوں کی آبادی کم کرنے کا اور ذہنوں کو غلام بنانے کا سب سے بڑا مہلک بائیو کمیکل ہتھیار بن گیا ہے

مظفر علی جنگ

کروناوائرس کیوں پھیلا؟ اس کے پھیلانے میں کس کا ہاتھ ہے؟ اس وبا کو تجزیہ اور علاج ابھی تک کیوں دریافت نہیں ہوا؟ یہ وبا کیسے پھیلی اور اس کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ ان سب بنیادی سوالوں کا جواب دریافت کرنے کی بجائے دنیا میں جان بوجھ کر خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے۔ وہ گھناو¾نے ہاتھ کونسے ہیں جو دنیا میں افراتفری پھیلانے چاہتے ہیں تاکہ انسانوں پر خوف کے بادل منڈلا کر حالات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکیں؟
عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کو ایک فوری طور پر ایک عالمی وبا قرار دے دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی بیماری کو اس وقت تک وبا نہیں کہا جا سکتا جب تک اس بیماری کے نتیجے میں اموات کی شرح 12فیصد تک نہ پہنچ جائے۔ اگر حاصل ہونے والے اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو یورپ میں اس وقت اموات کی شرح 0.4فیصد یا اس بھی کم ہے۔صرف اٹلی کواس درجہ بندی میں نہیں رکھا جاسکتا جہاں اموات کی شرح 6فیصد کے قریب ہے۔ چین جہاں اس وبا کا آغاز ہوا تھا وہاں ابتداءمیں شرح 3فیصد تھی جو اب کم ہو کر 0.7فیصد ہو گئی ہے۔ چین یہ وبا کم کرنے پر کیسے کامیاب ہوا اس بارے بات نہیں کی جا رہی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ چین نے آج سے 39سال قبل کیوبا میں تیار کی گئی دوائی جسے انٹرفیورون الفا2بی کہا جاتا ہے اسے استعمال کیا ہے۔ یہ دوا وائرس اس سے منسلک بیماریوں کے خلاف سے سے زیادہ مو¾ثر ہے۔ دنیا کو اس میڈیسن کے بارے میں اس لیے بتایا نہیں جا رہا کیونکہ امریکہ کی کیوبا پر لگی غیر قانونی پابندیوں کی وجہ سے اس دوائی کی مارکیٹنگ کرنے کی اجازت نہیں۔
امریکہ اور اس کے حواری عرصہ دراز سے دنیا کو کنٹرول کرنے میں لگے ہوئے ہیںاور عالمی ادارہ صحت کو یہی ممالک کنٹرول کئے ہوئے ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ویکسینیشن متعارف کروائی جائے گی اور ہر ملک کوپابند کیا جائے گا کہ وہ لوگوں کو زبردستی یہ ویکسینیشن زبردستی دی جائے اور جو ملک یہ کام نہیں کرے گا اس پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
ان حالات کو مدنظر رکھا کر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ویکسینیشن عام لوگوں میں مختلف قسم کے جسمانی مسائل پیدا کر سکتی ہے جس میں دھیرے دھیرے اموات، اگلی نسل میں مختلف جسمانی نقا ئص، دماغی صلاحیت میں کمی یا پھر عورتوں اور مردوں کے اندر بانجھ پن پیدا ہونا بھی ممکن ہے۔ ان تمام کاموں کے پیچھے بڑا مقصد دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کم کیا جاسکے۔
ایک پہلو جو سب سے زیادہ خوفزدہ ہے وہ یہ ہے کہ ممکن ہے ویکسینیشن کے ذریعے انسانوں کے اندر”نینوچپ“ داخل کی جاسکے جس کی مدد سے انسانوں کا ڈائٹا، بنک اکاونٹس یا پھر ڈیجیٹل منی کو کنٹرول کیا جاسکے ۔ عام انسان کے نزدیک یہ ایک افسانوی چیز نظر آتی ہو کہ ڈیجیٹل منی کا اس وبا سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ اس وبا میں ایک بات جس کو سب سے زیادہ اہمیت دی جارہی ہے وہ کاغذی کرنسی ہے۔ یہ ایک عام خیال ہے کہ کاغذی کرنسی اس بیماری کے پھیلاو¾ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ چند دن قبل عالمی ادارہ صحت کے ڈرائیکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے ہمیں کاغذی کرنسی اور سکوں کی جگہ ڈیجیٹل کرنسی کو متعارف کروایا جائے کیونکہ دنیا میں متعدی وباو¾ں خاص طور پر کرونا وائرس کی بڑی وجہ یہ کاغذی کرنسی ہی ہے۔
دنیا تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے اور وقت دور نہیں جب مطلق العنان ریاستیں وجود میں آجائیں گی۔ جہاں انسان محض غلام بن کر رہ جائے گا۔ مائیکروسوفٹ کا بانی بل گیٹس کا کردار اس میں بہت بامعنی ہے۔ یہ ان چند طاقتور لوگوں میں سے ایک ہے جو دنیا بھر میں خاص طور پر افریکا جیسے براعظم میں ویکسینیشن کا سب سے بڑا حامی ہے جو یہ بھی چاہتا ہے کہ دنیا کی آبادی کو کم کیا جائے تاکہ قدرتی وسائل پر صرف ایک محدود آبادی کا قبضہ رہ جائے۔ بل گیٹس کے شانہ بشانہ روٹھشیلڈز ، راکفیلرز اور مورگنز جیسی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالک بھی کھڑے ہیں جن کا بڑا مقصد یہ ہے کہ ایلیٹ کلاس اس دھرتی ماں کے وسائل پر زیادہ عرصے تک قابض رہے۔
مستقبل قریب میں کیا ہونے جارہا ہے یہ کسی طرح سے بھی انسانیت کے لیے روشن پہلو نہیں ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب انسانوں نے چلانا شروع کر دینا ہے کہ ہمیں جلد از جلد اس کے علاج کے لیے ویکسینیشن چاہیے اور بیماری کے وبا کو قابو میں کرنے کے لیے شہری امور افواج کے حوالے کئے جائیں۔ انسانوں کو جانوروں کی طرح ایک جگہ میں قید کر دیا جائے گا اور ان سے آزادنہ سوچنے سمجھنے کی قابلیت چھین لی جائے گی۔ ایک امید کی چھوٹی سے کرن ابھی بھی موجود ہے کہ ہم کسی طرح سے اپنے اوپر مسلط سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔انسانیت اورانسانوں کی فلاح وبہبود پر کام کریں اور اجتماعی ضمیر کو جگائیںاور بہتر مسقبل کے لیے جدوجہد کریں۔

مظفرعلی جنگ سینر صحافی ہیں جو مختلف انگلش اور اردو اخبارات اور رسائل کے لیے لکھتے ہیں

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

مفتاح اسماعیل کی جیت اور ان کے ووٹوں کی برتری کیسے کم ہوئی پورے پاکستان نے دیکھا‘ شہباز شریف

مفتاح اسماعیل کی جیت اور ان کے ووٹوں کی برتری کیسے کم ہوئی پورے پاکستان …

Skip to toolbar