Breaking News
Home / بلاگ / کردار پر لگے دھبوں کو محنت اور ہمت سے مٹانے والی ایک باہمت عورت کی داستاں

کردار پر لگے دھبوں کو محنت اور ہمت سے مٹانے والی ایک باہمت عورت کی داستاں

کردار پر لگے دھبوں کو محنت اور ہمت سے مٹانے والی ایک باہمت عورت کی داستاں

مظفر جنگ

مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پرجدوجہد اور مزدوری سے بچوں کا پیٹ پالتی عورت کی داستاں جس نےزندگی کی مشکلات میں صرف یہی ایک سبق سیکھا کہ ہاتھ پھیلانے سے ہاتھ کے ساتھ محنت کرنا افضل ترین عبادت ہے۔ حالات کیسے بھی ہوں میں نے حوصلہ اور امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ یہ داستاں ایک باہمت عورت کی ہے جو شیخوپورہ کے مضافات میں رہتی ہے جس نے ہو ش سنبھالنے سے لے کر عملی زندگی کے تلخ تجربات کے دوران مسلسل جدوجہد کی ہے۔ کبھی اپنوں اور کبھی غیروں نے اس کے کردار پر انگلی اٹھائی ۔
اس کہانی کا روای ایک پولیس آفیسر خرم ڈوگر ہے۔ انہوں نے جب اس عورت کو محنت کرتے دیکھا تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ مجھے اس عورت سے اس کی زندگی کے بارے میں پوچھنا چاہیے۔
خاتون کو موٹر سائیکل چلاتے دیکھا تو تھوڑی حیرت ہوئی کہ اس شہر میں پہلے کبھی کسی عورت کو موٹر سائیکل یا سائیکل چلاتے نہیں دیکھا تھا تجسس میں روک کر پوچھا تو مسکراتے چہرے کے ساتھ عاصمہ نے بائیک روک لی میں نے کہا کہ اگر آپ کے پاس تھوڑا وقت ہے تو کچھ موٹر سائیکل چلانے کے بارے میں پوچھ سکتا ہوں تو عاصمہ نے پنی زندگی کے راز پر پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ جب تیرہ سال کی عمر میں اس کی شادی ہوئی تو اس کے خاوند اڑتالیس سال کے تھے شادی کے چار سال میں دو بچے ہو گئے. حالات اچھے نہیں تھے گھر سے نکل کر کام شروع کیا تاکہ کچھ کما سکوں تو خاوند نے مردوں سے تعلقات کا الزام لگا کر طلاق دے دی۔
میں اپنے بچوں کو لے کر کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گئی کیوں کہ اپنے ماں باپ مجھے جب سے میری اتنی بڑی عمر کے مرد سے شادی کی تب سے اچھے نہیں لگتے ۔میں نے فیصلہ کیا کہ مر جاؤں گی والدین کے گھر نہیں جاؤں گی۔
پھر میں نے مستریوں کے ساتھ مزدوری شروع کر دی اور سائیکل چلانی سیکھی پہلے سائیکل خریدی اور پھر اب دس ہزار جمع کر کے یہ موٹر سائیکل لی ہے جس پر میں مزدوری پر جاتی ہوں اور اپنے بچوں کو سکول چھوڑ کر آتی ہوں۔ بڑا بیٹا اب چھٹی کلاس میں ہے اور چھوٹی بیٹی چوتھی کلاس میں ہے اور وہ بہت خوش ہوتے ہیں جب میں ان کو موٹر سائیکل پر سکول چھوڑنے جاتی ہوں۔ کبھی کبھار میں انہیں گھمانے کے لئے لے جاتی ہوں۔عاصمہ نے بتایا کہ جب میں مزدوری میں اینٹیں اٹھاتی ہوں یا نیچے سے چھت پر پہنچاتی ہوں تو ساتھ کام کرنے والے مرد بھی حیران ہو جاتے ہیں۔
کہتی مجھے بہت سی باتیں بھی سننے کو ملتی ہیں کہ لڑکی ہو کر موٹر سائیکل چلاتی مگر میں اپنے بچوں کے لئے سب کچھ برداشت کرتے ہوں ۔
میں نے کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا۔ایک دفعہ میرے بیٹے کے جوتے ٹوٹے ہوے تھے ایک استاد نے اس کو نئے جوتے لے کر دیے۔ جب وہ گھر لے کر آیا تو میں اگلے دن وہ جوتے واپس کر کے آئی کہ اگر مانگنا ہی ہوتا تو میں اتنی محنت کیوں کرتی؟
عاصمہ اس طرح مسکرا کر باتیں کر رہی تھی اور میں محو حیرت تھا کہ ایک لڑکی اتنی بہادر کیسے ہوسکتی ہے ؟ پہاڑ جیسا حوصلہ اور صبر ہے اس خاتوں میں اور سب مشکلوں کے باوجود راضی بالرضا بھی ہے اور مسکرا بھی رہی ہے
عاصمہ کہتی مجھے اپنے خاوند سے بھی زیادہ اپنے والدین پر افسوس ہے جنھوں نے اتنی چھوٹی سی عمر میں میری شادی کر دی اور خاوند نے تہمت لگا کر چھوڑ دیا۔عاصمہ ہماری بہادر بیٹی ہے اور ہمارے لیے قابل احترام بھی۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

حکومت پاکستان دسمبر 2022تک پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے، امین الحق

اسلام آباد۔ 23نومبر (ڈیلی پاکستان آن لائن ) :وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی …

Skip to toolbar