Breaking News
Home / بزنس / چینی چور مچائے شور

چینی چور مچائے شور

چینی چور مچائے شور
قمر جبار

بڑا شور ہے آج کل کہ سیاستدان اور ان کے کار خاص چینی کھا گئے۔ سبسڈی کی مد میں اربوں روپے کما کر آب زم زم سے نہانے ہی والے تھے کہ کورونا جیسے موذی مرض نے دنیا کے گرد خوفناک جالا بُن دیا۔۔ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بھاگنے والا اب یہ وائرس دور کرنے کے لئے صابن کی ایک ٹکیہ پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ ہاتھ دھو کروائرس سے تو شائد بچا جا سکے لیکن جنھوں نے چینی برآمد کرنے کی پاداش میں قومی خزانے پر ہاتھ صاف کئے، وہ وقتی طور پر گھبرائے پھر رہے ہیں، ورنہ تو پاکی کے لئے عمرہ پیکچ ان کی جیب میں تھا۔

آٹے اور چینی بحران میں وہ معمولی زخم جو طفل عمری میں لگے تھے میرا مذاق اڑانے لگے۔ اماں نے کئی بار صرف اس بات پر مارا کہ چینی بہت کھاتا ہے۔ پتا نہیں ماں کی حکمت کیا تھی۔ شائد ان کا خیال ہو کہ بیٹا چینی کھاتے کھاتے شوگر مافیا کا کارندہ نہ بن جائے یا زندگی میں چینی بلیک یا اسمگلنگ کر کے بزرگوں کے نام پر کوئی دھبہ لگائے۔۔۔۔ خیر چینی میں کھاتا تھا مر گئے ماموں، وہ بھی ذیابیبطس کے مرض کا شکار ہو کر۔۔۔ خیر ابا سمجھا دیتے تھے کہ بیٹا چینی کھانے سے دانت خراب ہو جاتے ہیں، سو مت کھایا کرو۔ کاش وہ چینی کھانے کا صحیح نسخہٗ کیمیا بتا دیتے تاکہ دور حاضر میں میرا نام بھی صاحب حیثیت لوگوں میں آتا۔

تبدیلی سرکار کا ایکشن بظاہر تو درست ہی نظر آ تا ہے کہ ایوان اقتدار اور موسمی لحاظ سے لگژری دفاتر کے ٹمپریچر میں فراٗٓئض منصبی ادا کرنے والے بیوروکریسٹس میں کوئی تھرتھلی پیدا کی۔ ورنہ دو ہزار دس میں آنے والے سیلاب، اس سے اگلے ہی سال ڈینگی مچھر سے بچاؤ کے لئے کئے جانے والے جعلی سپرے، سانحہ ماڈل ٹاؤن سمیت اور بہت سے واقعات پر کمیشنز کی رپورٹس تو آئیں مگر کوئی انجام کو نہ پہنچ سکا۔

اللہ جنت نصیب کرے اماں جان کو۔۔۔ ایک بار تو انہوں نے گھر سے چینی کا ایک کپ غائب ہونے پر مچھے شک کی بنیاد پر پیٹ ڈالا کہ یہ کھا گیا ہو گا۔ خیر جلد بھید کھل گیا کہ صبح ہی معصوم ہمسائی کی شوہر کے ہاتھوں صرف اس لئے پٹائی ہوئی کہ ناشتے میں سرتاج کو اس نے بغیر چینی کے چائے پلا دی تھی سو شام کو دوبارہ شوہر کے غضب سے بچنے کے لئے وہ ایک کپ چینی ہماری رسوئی سے لے گئی تھی۔ میں بھی گوف کا گوف ہی رہا کہ چینی غائب ہونے کی پاداش میں مار کھانے کے بعد بھی یہ حقیقت نہ جان سکا کہ چینی غائب کر کے بھی کیسے منافع کمایا جا سکتا ہے۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ چینی مافیا کے خلاف کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد بھی عوام تک اس کے ثمرات نہیں پہنچ پائے۔ مارکیٹ میں تو چینی اب بھی بلیک میں ہی مل رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کیوں نہ ہو۔ رپورٹ آنے کے بعد مافیا کہ کچھ سرکردہ افراد کی وقتی طور پر چارپائیاں بدل دی گئیں اور کچھ کی چارپائیوں سے صرف چادریں بدل کر انہیں دوبارہ واپس بٹھا دیا گیا۔ اب ٹھوس شواہد کی فرانزک آڈٹ سے تلاش شروع کر دی گئی ہے، پھر اس کی روشنی میں نہ سہی اندھیرے میں ہی کوئی بڑا ایکشن ہو جائے تو سکھ کا سانس آ سکتا ہے۔

حکومت کو صرف آٹا اور چینی بحران پر ہی نہیں بلکہ اشیاٗئے ضروریہ کی ہر چیز کے پیچھے چھپے مافیا کو سامنے لا کر عبرت کا نشان بنانا ہو گا ورنہ آئندہ انتخابات میں چیئرمین تحریک انصاف جلسے چلوسوں میں یہ دعوی کرتے نظر آئیں گے کہ ان کے ہاتھ تو صاف ہیں، لیکن ان کے پیچھے اسٹیج پر کھڑی سیاسی فوج کی عوام کی نگاہ میں کوئی قدر و قیمت نہ ہو گی اور ایسے حالات میں بیلٹ پیپر کا رخ کسی اور سیاسی جماعت کی طرف مڑ سکتا ہے۔

چینی مافیا کی رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد میں والدہ مرحومہ کی قبر پر گیا اور ماتھا ٹیک کر سوال کیا، کہ ماں تو تو مچھے صرف دو چمیچ چینی کھانے پر مارا کرتی تھی لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ماں تو نے گر کی بات کیوں نہ بتائی کہ چینی خود نہ کھایا کر بلکہ مہنگے داموں دوسروں کو کھلا کر شرفاٗ میں اپنا نام پیدا کر۔ ابھی نم آنکھوں سے قبر سے ماتھا اٹھایا ہی تھا کہ سیاستدان سامنے کھڑا کہہ رہا تھا۔ چھڈو جی مٹی پاؤ۔۔ مٹی پاؤ ملک نوں اگے چلن دیو۔۔۔۔۔بول ماں کیا یہی انصاف ہے۔

قمر جبار ایک سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ہیں اور وہ گذشتہ تین دہائیوں سے انگلش، اردو اخبارات میں لکھتے ہیں۔ ان کا دس سال کا الیکٹرونک میڈہا کا بھی تجربہ ہے۔ ان کی شگفتہ تحریریں اور بےباک تبصرے قارئین کی توجہ کا ہمیشہ مرکز رہے ہیں۔ ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے.
qamar1200@hotmail.com

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

حکومت پاکستان دسمبر 2022تک پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے، امین الحق

اسلام آباد۔ 23نومبر (ڈیلی پاکستان آن لائن ) :وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی …

Skip to toolbar