Home / انٹر نیشنل / پاکستان کسی بھی گروہ یا ادارے کو کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔عائشہ فاروقی

پاکستان کسی بھی گروہ یا ادارے کو کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔عائشہ فاروقی

رپورٹ میں القاعدہ کے خاتمے میں پاکستان کے اہم کردار کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ عائشہ فاروقی

اسلام آباد .( ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے دہشت گردی سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ 2019 کنٹری رپورٹ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی اعانت کی روک تھام کے لئے پاکستان کی کوششوں کی نفی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے دہشت گردی سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ ایک خودمختار ریاست کی حیثیت سے پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ ہم کسی بھی محفوظ ٹھکانوں کے بارے میں الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان کسی بھی گروہ یا ادارے کو کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ترجمان نے کہا کہ اس کے برعکس یہ پاکستان ہی ہے جس نے بیرونی اور غیر ملکی سپانسرڈ ٹی ٹی پی، داعش اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خطرات کا سامنا کیا۔ ترجمان نے کہا کہ ان دہشت گرد گروہوں کے حقیقی مقامات کے حوالے رپورٹ میں یا تو خاموشی اختیار کی گئی ہے یا مبہم ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اگرچہ اس رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اس خطے میں القاعدہ کو شدید نقصان پہنچا یا گیا ہے لیکن رپورٹ میں القاعدہ کے خاتمے میں پاکستان کے اہم کردار کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
عائشہ فاروقی نے کہا کہ اسی طرح رپورٹ میں پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں کے واقعات میں تیزی سے کمی کا تو اعتراف کیا گیا ہے۔ تاہم اس بات کو نظرانداز کیا گیا ہے کہ یہ صرف پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی مستحکم کوششوں اور تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بغیر کسی امتیازی سلوک کی کارروائیوں سے ہی ممکن ہوا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان یو این ایس سی کے قانون کے تحت تمام نامزد اداروں اور افراد کے اثاثوں کو منجمد کرنے اور فنڈز روکنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے متعدد کالعدم گروپوں کی قیادت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اور سزا سنائی ہے، جسے امریکہ نے بھی تسلیم کیا ہے لیکن اس رپورٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر بھی عمل درآمد کر رہا ہے ، اور اس مقصد کے لئے وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ رپورٹ افغان امن عمل کے لئے پاکستان کی مکمل حمایت و تعاون کا اعتراف کرنے میں میں بھی ناکام ہوا ہے ، جس نے خطے میں پائیدار امن کے لئے ایک تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔ 29 فروری 2020 کے امن معاہدے کے اختتام پر امریکی طالبان کی براہ راست مذاکرات میں پاکستان کی مثبت شراکت اور سہولت کا امریکہ اور امریکی قیادت سمیت وسیع پیمانے پر اعتراف کیا گیا ہے۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

نیہا ککڑ اور روہن پریت سنگھ کی لو اسٹوری سوشل میڈیا میں ہوئی وائرل

نیہا ککڑ اور روہن پریت سنگھ کی لو اسٹوری سوشل میڈیا میں ہوئی وائرل ممبئی: …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar