Home / پاکستان / پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ، ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر نے لگا

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ، ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر نے لگا

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ، ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کر نے لگا
اپوزیشن اراکین نے سپیکر ڈائس کے سامنے آکر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑدیں ،حکومتی اور اپوزیشن کے کئی اراکین آپس میں الجھ پڑے ،ایوان میں گرما گرمی کے باعث سارجنٹ ایٹ آرمز نے وزیر اعظم کو اپنے حصار میں لے لیا،پیپلز پارٹی کے عبد القادر مندو خیل اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان تلخی کلامی ، اسد قیصر کی ایوان سے باہر نکالنے کی وارننگ ، مرتضیٰ جاوید عباسی کی مراد سعید ، عامر لیاقت اور شہر یار آفریدی سے ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی ،الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے پاس ہونے کے بعد اپوزیشن ایوان سے واک آئوٹ کر گئی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک بار پھر اپوزیشن اور حکومت آمنے آگئی ،ایک دوسرے پر شدید نعرے بازی کے باعث ایوان مچھلی منڈی کامنظر پیش کر نے لگا ،اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کے سامنے آکر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑدیں ،حکومتی اور اپوزیشن کے کئی اراکین آپس میں الجھ پڑے ،ایوان میں گرما گرمی کے باعث سارجنٹ ایٹ آرمز نے وزیر اعظم کو اپنے حصار میں لے لیا،پیپلز پارٹی کے عبد القادر مندو خیل اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے درمیان تلخی کلامی ہوئی ، اسد قیصر نے ایوان سے باہر نکالنے کی وارننگ دیدی ، مرتضیٰ جاوید عباسی کی مراد سعید ، عامر لیاقت اور شہر یار آفریدی سے ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی ،الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے پاس ہونے کے بعد اپوزیشن ایوان سے واک آئوٹ کر گئی ۔ بدھ کو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ایک گھنٹے تاخیر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے آغاز میں ہی اپوزیشن نے شورشرابہ کیا ، اس دور ان مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات بل پر ووٹنگ مؤخر کرنے کی درخواست کی جس پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بابر اعوان کو ایجنڈا نمبر ٹو یعنی الیکشن ترمیمی بل کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ کا بل منظوری کے لیے پیش کرنے کی دعوت دی تو بابر اعوان نے جواب دیا کہ اپوزیشن اس معاملے پر آپ سے بات کرنا چاہتی ہے، اس لیے اسے فی الحال مؤخر کردیا جائے اس دور ان اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو ایوان میں بات کر نے کی اجازت دی ، اپوزیشن لیڈر کے جواب میں حکومت کی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیا ۔ شاہ محمود قریشی کے بعد بلاول بھٹو زر داری کو مائیک دینے کیلئے اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا جس کے بعد اسپیکر نے بلاول بھٹو زر داری کو بولنے کی اجازت دیدی تاہم اس دور ان اچانک اس وقت گرما گرمی پیدا ہو گئی جب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر مندوخیل کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر مندوخیل کو اپنی حد میں رہنے کی وارننگ دی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے عبدالقادر مندوخیل کی رکنیت معطل کرنے اور سیکورٹی کو انہیں ایوان سے باہر نکالنے کا بھی عندیہ دیا اسد قیصر نے چیئرمین پی پی پی سے مخاطب ہو کر کہا کہ اسپیکر سے بات کرنے کا کوئی طریقہ ہے، بلاول صاحب! جس طرح آپ کے رکن نے رویہ اختیار کیا آپ اس کا نوٹس لیں۔بعد ازاں مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کی جانب سے انتخابی اصلاحات بل پیش کرنے کی تحریک کثرت رائے سے منظور کی ۔انتخابی اصلاحات کی تحریک کے حق میں 221 اورمخالفت میں 203 ووٹ آئے۔ووٹوں کی گنتی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے اعتراض اٹھایا جس پر اسپیکر نے دوبارہ گنتی کرنے کی ہدایت کی تاہم گنتی کے دوران ایوان میں شدید بد نظمی پیدا ہوگئی اور اپوزیشن اراکین اسپیکر ڈائس کے سامنے آئے اور حکومت و وزیر اعظم کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ایوان میں اپوزیشن اراکین کی جانب سے ”گو نیازی گو نیازی ” اور قانون سازی نا منظور و غیرہ کے نعرے لگائے گئے ، اپوزیشن کی جانب سے اسپیکر کو رہا کرو کے بھی نعرے لگائے گئے اس دور ان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی اور چیئر مین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی میں تلخ ہوئی اور ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی ،ایوان میں گرما گرمی کے باعث سارجنٹ ایٹ آرمز نے وزیر اعظم کو اپنے حصار میں لے لیا۔ اجلاس کے دور ان وفاقی وزیر مراد سعید ، مرتضیٰ جاوید عباسی ، عامر لیات اور مرتضیٰ جاوید میں تلخ کلامی ہوئی ،عامر لیاقت حکومتی سائیڈ سے پہنچے تو پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ بھی پہنچے میں کامیاب ہوئے۔ اس دور ان اسپیکر نے ایوان میں تلخی دیکھتے ہوئے ایوان میں ڈویژن کردی،حکومت کو سپیکر ڈائس کے دائیں اور اپوزیشن کو بائیں جانب جانے کا حکم دیدیا گیا ۔ اسد قیصر نے کہاکہ اگر حکومت و اپوزیشن نے حکم نہ مانا تو پھر آواز کے ذریعے رائے لوں گا تاہم اپوزیشن کے شورشرابے کے باوجود ایوان میں قانون سازی کا عمل جاری رہا ، اپوزیشن اراکین کے اسپیکر قومی اسمبلی کے اوپر بھی کاغذ جا کر لگے،سپیکر نے حالیہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے وائس ووٹنگ پر ایوان کی کارروائی چلانا شروع کرادی اور سپیکر نے اپوزیشن کے تحفظات کو بھی نظر انداز کردیااس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا،مرتضیٰ جاوید عباسی نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر پر اچھال دیں جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے اظہار برہمی کیا اور کہاکہ آپ بھی ڈپٹی سپیکر رہے ہیں، یہ آپ کی اخلاقیات ہے۔ اجلاس کے دور ان اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بارے بابر اعوان کی ترمیم منظو رکرتے ہوئے سینیٹر مشتاق اور سینیٹر شیری رحمان کی ترامیم مسترد کردیں۔پیپلز پارٹی کی سینیٹر سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ اسپیکر صاحب آپ نے ایوان کا تقدس پامال کیا،آپ پاکستان کے آئین اور لوگوں کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں ،آپ نے پورا ہفتہ جعلی وعدے کئے تھے ۔ بعد ازاں اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

بائیڈن 2024 میں بھی صدارتی الیکشن لڑیں گے، ترجمان وائٹ ہاوس جین ساکی

بائیڈن 2024 میں بھی صدارتی الیکشن لڑیں گے، ترجمان وائٹ ہاوس جین ساکی واشنگٹن (ڈیلی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar