Home / انٹر نیشنل / ٹوئٹر اب 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ

ٹوئٹر اب 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ

نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن )سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے پہلی مرتبہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک سلسلہ وار ٹویٹ پر ‘فیکٹ چیک’ کا لیبل چسپاں کیا ہے۔’فیکٹ چیک’ یعنی حقائق کی جانچ کا لیبل ایسی ٹوئٹر پوسٹس پر چسپاں کیا جاتا ہے جن میں مبینہ طور پر غلط یا گمراہ کْن معلومات فراہم کی گئی ہوں۔ٹوئٹر کے ایکشن پر امریکی صدر نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ٹوئٹر آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹ رہا ہے اور میں بحیثیت صدر ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹوئٹر اب 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ تھا ‘میل اِن بیلٹس’ یعنی ڈاک کے نظام کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالنا (یا پوسٹل بیلٹ) درحقیقت دھوکہ دہی سے کچھ کم نہیں ہو گا۔اس ٹویٹ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میل باکس لوٹ لیے جائیں گے، بیلٹ (ووٹ) جعلی ہوں گے اور یہاں تک کہ غیر قانونی طور پر پرنٹ آؤٹ ہوں گے اور دھوکہ دہی سے دستخط کیے جائیں گے۔ کیلیفورنیا کے گورنر لاکھوں لوگوں کو (پوسٹل) بیلٹ بھیج رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ کوئی بھی شخص جو کسی بھی ریاست میں رہتا ہے اس سے قطع نظر کہ وہ کون ہے اور وہاں تک کیسے پہنچا ہے، اسے ایک (پوسٹل بیلٹ) ملے گا۔ اس کے بعد پیشہ ور افراد ان تمام لوگوں کو بتائیں گے کہ کیسے اور کس کو ووٹ دینا ہے۔ بیشتر (ووٹ ڈالنے والے) افراد ایسے ہوں گے جنھوں نے کبھی ووٹ ڈالنے کے بارے میں سوچا ہی نہیں ہو گا۔۔ یہ ایک دھاندلی زدہ الیکشن ہو گا۔ ہرگز نہیں!صدر ٹرمپ کی اس سلسلہ وار ٹویٹ کے نیچے ٹوئٹر کی جانب سے انتباہ پر مبنی ایک لیبل چسپاں کر دیا گیا اور ادارے کی جانب سے ایک وضاحتی نوٹ بھی لکھا گیا ہے۔اس لیبل میں لنک فراہم کیا گیا ہے جہاں اس معاملے سے متعلق متعدد خبریں موجود ہے جبکہ یہ نوٹ بھی لکھا گیا ہے حقائق جانچنے والوں کو اس طرح کے کوئی شواہد نہیں ملے کے پوسٹل بیلٹ انتخابات میں فراڈ کا ایک ذریعہ ہے۔اس سے قبل ٹوئٹر انتظامیہ نے وعدہ کیا تھا کہ اپنی سائٹ پر غلط اور گمراہ کْن معلومات پر وارننگ لیبل لگانے کا دائرہ وسیع کریں گے تاہم امریکی صدر کے معاملے میں ماضی قریب میں ٹوئٹر کافی سست روی کا شکار رہا ہے۔تاہم اب ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹ پر کہا ہے کہ یہ ٹویٹ ‘ووٹنگ کے عمل کے بارے میں ممکنہ طور پر گمراہ کْن معلومات پر مشتمل ہے۔یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر ٹوئٹر نے کمپنی کی وارننگ لیبل کی پالیسی کو تازہ ترین زمینی حقائق سے ہم آہنگ کیا تھا۔اس سے قبل ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی وہ ٹویٹ اپنی سائٹ سے نہ ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا جو سنہ 2001 میں ہلاک ہونے والی لوری کلوسیٹیس کی ہلاکت کے حوالے سے تھی۔صدر ٹرمپ نے چند ایسی ٹویٹس کی تھیں جن سے یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا تھا کہ لوری کا قتل ایم ایس این بی سی کے اینکر جو سکاربوروگ نے کیا تھا۔لوری کے شوہر ٹیموتھی کلوسیٹیس نے ٹوئٹر سے درخواست کی تھی کہ وہ صدر ٹرمپ کی اس ٹویٹ کو ٹوئٹر سے ڈیلیٹ کر دیں تاہم ٹوئٹر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔تاہم ٹوئٹر انتظامیہ نے ان سے اس بات پر افسوس کا اظہار ضرور کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کے بیان سے انھیں دکھ ہوا۔ٹوئٹر کے اس اقدام کے جواب میں صدر ٹرمپ نے بھی کافی غصے کا اظہار کیا ہے۔اپنی ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ٹوئٹر آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹ رہا ہے اور میں بحیثیت صدر ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹوئٹر اب 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کر رہا ہے۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا

وزیراعظم عمران خان نے ایوان سے 178 ووٹ حاصل کئے. اسلام آباد ، مارچ 06 …

Skip to toolbar