Breaking News
Home / پاکستان / وزیر اعظم عمران خان نے چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کو سزا دینے کی منظوری دیدی

وزیر اعظم عمران خان نے چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کو سزا دینے کی منظوری دیدی

جنہوں نے عوام اور ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگایا ہے ان کا احتساب ہو گا. وزیر اطلاعات شبلی فراز
وفاقی حکومت نے چینی پر 29 ار ب روپے کی سبسڈی کا معاملہ نیب کو دینے کا فیصلہ کرلیا

اسلام آباد( ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی ہے فاقی حکومت نے چینی پر 29 ار ب روپے کی سبسڈی کا معاملہ نیب کو دینے کا فیصلہ کرلیا،سبسڈی کی مد میں کس نے کیا فائدہ اٹھایا اس کی پوری چھان بین کی جائے گی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس بچانے اور بے نامی ٹرانزیکشن ایف بی آر کو بھیجے جانے پر بھی انکوائری ہو گی ، قرضوں کی معافی اور برآمد ات میں سبسڈی لینے والوں کے خلاف اسٹیٹ بینک ایکشن لے گا،
وزیر اطلاعات شبلی فراز اور معاون خصوص برائے احتساب شہزاد اکبر نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور میں فیصلہ کیا ہوا تھا کہ جب ہم اقتدار میں آئیں گے تو ہم تمام ان لوگوں کا احتساب کریں گے جنہوں نے اس ملک کے عوام کو ، اس ملک کے اداروں کو اور اس ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگایا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب چینی کا بحران آیا تو وزیر اعظم عمران خان نے فوراً ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا، روایت تو ہمیشہ یہی رہی ہے کہ فوراً انکوائری کمیشن بن جاتا ہے لیکن اس کی سفارشات پر کوئی عمل نہیں کیا جاتا اور وقت کے ساتھ لوگ اسے بھول جاتے ہیں،وزیر اعظم اس بارے میں بہت سنجیدہ تھے لہٰذا انہوں اس کمیشن کی رپورٹ کو بھی پبلک کیا، کئی لوگوں کا خیال تھا کہ اسے عوام کے سامنے نہیں لایا جائیگا، اس کے بعد فورنزک آڈٹ ہوا اور اس پر بھی لوگوں کے شکوک تھے کہ بات شاید اس سے آگے نہیں بڑھے گی کیونکہ شوگر کے شعبے میں بڑے بڑے طاقتور لوگ بیٹھے ہوئے ہیں لیکن ناصرف مقررہ وقت پر فارنزک آڈٹ ہوا بلکہ اس کی تفصیلات بھی عوام کو بتائی گئیں۔
معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ رپورٹ گزشتہ پانچ سال کی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ شوگر کی صنعت میں اہم کھلاڑی اور افراد بے ضابطگی سے مافیا کے انداز میں کام کرتے ہیں اور سیاسی اثرورسوخ کے حامل ہے۔ شہزاد اکبر نے کہاکہ شوگر انڈسٹری کے لوگ من چاہی زیادتیاں کر رہے تھے، یہ مافیا کی طرح کام کر رہے تھے اور اس میں موجود تمام ہی اہم اور بڑے افراد کسی نہ کسی طرح کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے تھے جس کی وجہ سے فیصلہ سازی بالواسطہ یا بلاواسطہ اثرانداز ہورہے تھے اور اس کا نتیجہ غریب عوام کی جیب سے پیسہ نکالنا تھا چاہے وہ قیمت بڑھا کر ہو، ٹیکس چوری سے ہو یا سبسڈی لے کر اپنی تجوریاں بھرنا تھا۔
شہزاد اکبر نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کے دور میں جب چینی کی قیمتیں بڑھیں تو انہوں نے پاکستانی عوام سے وعدہ کیا کہ میں اس معاملے کی تحقیق کراؤں گا، اس معاملے کو منظر عام پر بھی لاؤں گا اور اس میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن لیا جائے گا چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے کیوں نہ ہو۔شہزاد اکبر نے بتایا کہ وزیر اعظم صاحب کا فیصلہ ہے کہ چاہے کوئی شخص کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق ہو، وہ مالی طور پر یا باقی کسی طریقے سے کتنا ہی زورآور کیوں نہ ہو، اسے جواب دہی کرنی پڑے، یہی پاکستان تحریک انصاف کا منشور ہے اور یہی وہ مینڈیٹ ہے جو پاکستان کے عوام نے انہیں دیا ہے۔ا
شہزاد اکبر نے کہا کہ جو عمل کیا جائے گا اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جس میں پہلا حصہ پینل ایکشن ہے یعنی ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا جنہوں نے پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی کی اور کسی بھی پینل ایکشن کی ضمن میں آتے ہیں جس میں سزا کے ساتھ ساتھ وصولی کا عمل بھی شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دوسرے حصے کے تحت انضباطی فریم ورک میں جو تبدیلیاں شامل ہیں جس میں انڈسٹری اور کمیشن کی رپورٹ کو یکجا کیا گیا ہے۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ تیسرا اور سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ شوگر کی قیمتوں کو لے کر کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ قیمتیں اس معیار پر واپس آ جائیں جو چینی کی پیداواری قیمت ہے، پہلی مرتبہ کمیشن نے چینی کی قیمت معلوم کی ہے کیونکہ اس سے پہلے شوگر مل ایسوسی ایشن والے ہی بتاتے تھے کہ چینی کتنے میں بتاتے ہیں۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی والدہ انتقال کر گئیں

لاہور: نومبر 22 ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سابق وزیر اعظم نواز شریف اور …

Skip to toolbar