Breaking News
Home / بلاگ / مولانا طارق جمیل، حوران بہشت اور سوشل میڈیا ناقدین

مولانا طارق جمیل، حوران بہشت اور سوشل میڈیا ناقدین

مولانا طارق جمیل، حوران بہشت اور سوشل میڈیا ناقدین

مظفر جنگ

آج کل مولانا طارق جمیل صاحب کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ حور کے جسمانی نشیب و فراز پر مفصل روشنی ڈال رہے ہیں اور یہ بیان وہ ایک مجلس میں ڈے رہے تھے جہاں پر سینکڑوں افراد بیٹھے بڑے اشتیاق سے یہ سب باتیں سن رہے ہیں اور محظوظ ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر لوگ مولانا طارق جمیل صاحب کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ حور کی جسمانی خوبصورتی کو اس شہوت انگیز حد تک لے گئے ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ مولانا عرصہ دراز سے اپنے بیانات میں حوروں کی خوبصورتی کا ذکر کر رہے ہیں اور یہ کوئی ان کی پہلی ویڈیو نہیں
دوسری بات یہ صرف مولانا کا اپنا نقطہ نظر نہیں۔ حور کیسی ہو گی وہ کیس دیکھتی ہو گی اور جنتی مرد حوروں کے ساتھ کس طرح کا تعلق رکھیں گے یہ سب مفصل طور پر اسلامی کتابوں میں تحریر ہیں اور مولانا وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو کچھ انہوں نے پڑھا ہے۔
تیسری بات ایسی باتیں صرف مولانا اکیلے نہیں کر رہے ۔ اسلام کے تمام مسالک میں حوروں کے بارے میں یہی کچھ لکھا ہے اور سب مولوی منبر پر بیٹھ کر یہی کچھ کہتے ہیں۔
چوتھی بات جب سے مولانا نے وزیر اعظم عمران خان کی حمایت میں بیان دیا ہے اور انہیں ایک ایماندار اور قوم کا درد رکھنے والا کہا ہے تب سے کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لوگ مولانا کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کچھ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو مولانا کے خلاف غلیظ زبان استعمال کر رہے ہیں۔ ان مذہبی جماعتوں میں جو اولین صف میں کھڑے ہیں ان میں مسلم لیگ نواز کے حامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) یعنی مولانا فضل الرحمان کے پیروکار اور کہیں کہیں جماعت اسلامی کے لوگ اور کم یا زیادہ دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لوگ بھی شامل ہیں جو مولانا سے اس لئے شاکی ہیں کہ انہوں نے اعلانیہ طور پر عمران خان کی حمایت کر کے ان کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
ان سب کے اختلافات کا فائدہ اٹھا کر لبرل اور ملحدین کو موقع مل گیا ہے کہ وہ مولانا کی تضحیک کر سکیں اور اس کام کے لیے وہ ایسی ویڈیوز اور بیانات سامنے لے کر آ رہے ہیں جہاں وہ لوگوں کے مذہبی عقائد کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کام میں مذہبی اور سادہ دل سیاسی لوگ بھی ان لبرلز اور ملحدین کے ہاتھ مظبوط کر رہے ہیں۔
مولانا طارق جمیل صاحب اس سے پہلے جب نواز شریف صاحب وزیراعظم تھے تب وہ نواز شریف کے حق میں دعائیں کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں یہ خود تسلیم کیا ہے کہ وہ حاکم وقت کو ہمیشہ اپنی دعاؤں سے نوازتے ہیں اور وہ یہ اس لیے سمجھتے ہیں کہ اگر حکمران راہ راست میں آ جائے تو وہ پوری قوم کی قسمت بدل سکتا ہے۔
جب عمران خان حزب اختلاف میں تھا اور ڈی چوک پر دھرنا دیے بیٹھے تھے تب مولانا طارق جمیل صاحب کے دست راست جنید جمشید مرحوم نے ایک ٹی وی انٹرویو میں نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ ان کی اس حمایت کے بعد ن لیگ کے اکابرین کی طرف سے بڑی سخت تنقید ہوئی اور یہ کہا جا رہا تھا جنید جمشید مولانا کے اشارے کے بغیر عمران خان کی حمایت نہیں کر سکتے۔ حتکہ وزیراعظم نواز شریف نے بھی ایک پیغام میں مولانا طارق جمیل صاحب کو اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔اس وقت اچانک سوشل میڈیا میں جنید جمشید کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ نعوذباللہ امہات المومنین حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ کہے۔ اس ویڈیو کے بعد جنید جمشید کے خلاف مذہبی جماعتوں کی طرف سے فتویٰ اور احتجاج شروع ہو گئے اور ان کے خلاف توہین صحابہ اور مذہب کی توہین کرنے پر ایف آئی آر بھی درج ہو گئیں۔ ایک ائیرپورٹ پر کچھ لوگوں نے ان پر حملہ بھی کیا۔ شدید دباؤ میں آ کر مولانا طارق جمیل صاحب نے بھی ویڈیو بیان میں یہ کہنا پڑا کہ یہ سوچ جنید جمشید کی ہے اور اس سے ان کا یا تبلیغی جماعت کے اکابرین کا کوئی لینا دینا نہیں۔ جنید جمشید نے بھی ویڈیو بیان میں رو رو کر اور ہاتھ جوڑ کر مسلمانوں سے معافی مانگی اور اپنے گناہوں سے توبا کی۔
پھر اسی دوران مولانا طارق جمیل صاحب نے ہنگامی بنیادوں پر وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ آئندہ جنید جمشید سیاست میں شرکت نہیں کرے گا۔
آج جنید جمشید اس دنیا میں نہیں اور آج ن لیگ اور فضل الرحمان گروپ کے لوگ ان کے خلاف ویسے ہی محاذ آرائی کر رہے ہیں جیسے کبھی جنید جمشید کے خلاف ہوئی تھی۔
سوچنے والی بات ہے مولانا طارق جمیل کی حوروں بارے بیان کی تردید مذہبی جماعتوں کے علماء اکرام منبر رسول پر بیٹھ کر سکتے ہیں اور عوام کو بتا سکتے ہیں کہ جو کچھ بھی مولانا طارق جمیل نے حوروں کے بارے میں کہا ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی باقی مسالک کے لوگ مولانا کے اس بیان کی حمایت کرتے ہیں اور اگر مولانا حوروں کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ مذہب کا حصہ ہیں تو پھر ان علماء اکرام اور سیاسی لیڈروں کو اپنے پیروکاروں اور کارکنوں کو ایک مذہبی بیان کو ایشو بنا کر مذہب کا مذاق بنانے سے روکنا ہو گا اور انہیں یہ بات سمجھانا ہو گی کہ وہ مولانا طارق جمیل کی ذاتی دشمنی میں اتنے آگے نہ چلے جائیں جہاں لبرلز اور ملحدین کو اسلام پر مذید حملے کرنے کا موقع مل جائے۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال امن کےلئے …

Skip to toolbar