Home / پاکستان / مشکل فیصلے کرنی والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، وزیراعظم

مشکل فیصلے کرنی والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، وزیراعظم

مشکل فیصلے کرنی والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، وزیراعظم

بدقسمتی سے قلیل المدتی فیصلے کیے گئے

ووٹ حاصل کر نے کےلئے الیکشن سے پہلے مکمل ہونے والے منصوبوں پر زور دیا گیا

نوے کی دہائی میں تیل سے بجلی بنانے کے غلط فیصلے کیے گئے

دریاﺅں سے بجلی بنانے کے بجائے تیل پر بجلی بنانے کو ترجیح دی گئی، ہماری حکومت آئی تو پاکستان کا خسارہ 20 ارب ڈالر تھا، غلط فیصلوں سے ملک کی صنعتی ترقی کو نقصان پہنچا،جب مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے زیادہ غریب آدمی متاثر ہوتا ہے

30 سال پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چین اتنی ترقی کرے گا

چین جس تیزی سے آگے جارہا ہے اس سے دیگر قومیں خوفزدہ ہوگئی ہیں، دیامر بھاشا ڈیم ہمارے ملک کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا ، کورونا کہ وجہ سے شٹ ڈاﺅن کرنے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا، وزیر اعلیٰ ایس او پیز کے تحت سیاحت کو کھولیں، سیاحت کےلئے ایس او پیز مرتب کیے جائیں،عمران خان کا اجتماع سے خطاب

چلاس (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل فیصلے کرنی والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں،بدقسمتی سے قلیل المدتی فیصلے کیے گئے ،ووٹ حاصل کر نے کےلئے الیکشن سے پہلے مکمل ہونے والے منصوبوں پر زور دیا گیا ،نوے کی دہائی میں تیل سے بجلی بنانے کے غلط فیصلے کیے گئے، دریاﺅں سے بجلی بنانے کے بجائے تیل پر بجلی بنانے کو ترجیح دی گئی، ہماری حکومت آئی تو پاکستان کا خسارہ 20 ارب ڈالر تھا، غلط فیصلوں سے ملک کی صنعتی ترقی کو نقصان پہنچا،جب مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے زیادہ غریب آدمی متاثر ہوتا ہے،30 سال پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چین اتنی ترقی کرے گا، چین جس تیزی سے آگے جارہا ہے اس سے دیگر قومیں خوفزدہ ہوگئی ہیں، دیامر بھاشا ڈیم ہمارے ملک کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا ، کورونا کہ وجہ سے شٹ ڈاﺅن کرنے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا، وزیر اعلیٰ ایس او پیز کے تحت سیاحت کو کھولیں، سیاحت کےلئے ایس او پیز مرتب کیے جائیں۔وہ چلاس میں دیامر بھاشا ڈیم کے دورے کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے ۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان کو دیامر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی کام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم باجوہ بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے انسانوں پر سرمایہ کرتی ہیں، اس طبقے پر خرچ کرتی ہیں جو پیچھے رہ گئے ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ جب قومیں آگے کا سوچتی ہیں تو ترقی کرتی ہیں، وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو مشکل فیصلے کرتی ہیں، کبھی بھی اس قوم نے بڑا کام نہیں کیا جو مشکل فیصلوں سے گھبراتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بڑے فیصلے ہی بڑی قومیں بناتی ہیں اور تیسری اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے انسانوں کی قدر کرتی ہیں، ان پر سرمایہ کرتی ہیں، اس طبقے پر خرچ کرتی ہیں جو زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں۔انہوں نے کہا کہ اسے انسانی ترقی کہتے ہیں کہ جتنا آپ اپنے انسانوں کی تعلیم، ان کی صحت، انصاف دینے، قانون کی حکمرانی پر کام کریں، دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں وہی قومیں آگے گئی ہیں جن میں یہ سب چیزیں موجود تھیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جو قوم دور اندیش ہوتی ہے وہ بڑی قوم بنتی ہے، چین کی ترقی دیکھ لیں کہ ان کے 30 سالہ منصوبے بنے ہوئے ہیں جو ان کی بہت بڑی خوبی ہے اور وہ اسی وجہ سے دنیا میں سب سے آگے نکل گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 30 سال پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چین اتنی ترقی کرے گا، چین جس تیزی سے آگے جارہا ہے اس سے دیگر قومیں خوفزدہ ہوگئی ہیں، جب میں چین گیا اور کمیونسٹ پارٹی سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ ان کی ترقی کا راز دور اندیشی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں قلیل المدتی فیصلے کیے گئے اور الیکشن سے پہلے مکمل ہونے والے منصوبوں پر زور دیا گیا تاکہ اگلے الیکشن میں وہ منصوبے دکھا کر ووٹ حاصل کیے جائیں۔

عمران خان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دریاؤں کی نعمت دی ہے، پاکستان وہ ملک ہے جہاں کے ٹو سے سمندر تک 12 موسم (کلائمیٹک زونز) ہیں اور دریاؤں کی رفتار سے ہم بجلی بناسکتے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ جب شروع میں ہماری ترقی ہوئی تو تربیلا اور منگلا ڈیم بنایا اور سستی بجلی پر پاکستان کی صنعت کھڑی ہونا شروع ہوگئی لیکن 90 کی دہائی میں درآمدی ایندھن پر بجلی بنانے کے فیصلے کیے گئے تو اس کا سب سے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا جائے یعنی ملک میں کم ڈالر آئیں اور باہر زیادہ جائیں تو جیسے ہی خسارہ بڑھتا ہے روپیہ گرنا شروع ہوجاتا ہے، جب روپیہ گرنا شروع ہوا تو ڈالر 5 روپے کا تھا اور آج کہاں پہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ موجود تھا، اس کا مطلب روپے پر دباؤ بڑھنا تھا جس سے ڈالر بڑھتا گیا اور روپے کی قدر کم ہوئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب ہم نے غلط فیصلے کیے یعنی فرنس آئل درآمد کیا تو اس کا دباؤ ہماری کرنسی پر پڑنا شروع ہوا، روپے کی قدر کم ہونے سے درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھنا شروع ہوجاتی ہیں اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے زیادہ غریب آدمی متاثر ہوتا ہے، غربت بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور ملک میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ چیزیں درآمد کرکے مشینری لگائے کیونکہ سب کچھ مہنگا ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے غلط فیصلے کیے جبکہ ہمارے پاس دریاؤں سے اتنی زیادہ بجلی پیدا کی جاسکتی تھی ہم نے اس کے بجائے درآمدی ایندھن سے بجلی پیدا کرتے ہیں جس سے ہم ڈی انڈسٹرالائزیشن کی طرف چلے گئے اور وہ ملک جو ہم سے پیچھے تھے وہ زیادہ آگے نکل گئے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے، دیامر بھاشا ڈیم ہمارے ملک کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا اور سمجھ لیں کہ یہ تیسرا بڑا ڈیم ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ چین نے 5 ہزار بڑے ڈیمز بنائے ہیں اور ان کے ڈیمز کی کل تعداد 80 ہزار ہے جبکہ ہمارے 2 بڑے ڈیمز اور تیسرا بننے جارہا ہے اس سے اندازہ لگائیں کہ ہم نے کتنی بڑی تاریخی غلطیاں کیں۔انہوںنے کہاکہ ایسا کرکے ہم نے اپنے ملک اور عوام پر ظلم کیا، دیامر بھاشا ڈیم بنانے کا فیصلہ 50 برس پہلے ہوا تھا اور ڈیم کے لیے اس سے بہتر جگہ نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہاکہ ایسا کرکے ہم نے اپنے ملک اور عوام پر ظلم کیا، دیامر بھاشا ڈیم بنانے کا فیصلہ 50 برس پہلے ہوا تھا اور ڈیم کے لیے اس سے بہتر جگہ نہیں ہوسکتی، یہ قدرتی ڈیم ہے، اتنے سال پہلے فیصلہ ہوا اور ہم آج اس پر کام کررہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے ممالک کیوں آگے نکلے یہ اس کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس کے بعد ہم نے اور ڈیمز بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے اور دریاؤں پر ڈیمز بنائیں جائیں گے جس کی وجہ سے روپے پر دباو¿ نہیں پڑے گا اور پانی سے بجلی بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 10 ارب لگانے کا بھی فیصلہ کیا ہے کیونکہ مستقبل میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ کا سامنا ہوسکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جب درجہ حرارت بڑھتا جائے گا تو پاکستان ان 10 ممالک میں ہے جہاں اس سے زیادہ نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جب پانی سے بجلی بناتے ہیں تو اس سے گلوبل وارمنگ میں اضافہ نہیں ہوتا جبکہ فرنس آئل اور کوئلے سے اس میں اضافہ ہوتا ہے لہذا اس کے 2 فائدے ہیں ہمیں ایندھن درآمد نہیں کرنا پڑے گا اور نہ ہی ماحول پر منفی اثر پڑے گا۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

این اے 249: ضمنی الیکشن کا میدان پیپلز پارٹی نے مار لیا

این اے 249: ضمنی الیکشن کا میدان پیپلز پارٹی نے مار لیا غیر حتمی نتائج …

Skip to toolbar