Breaking News
Home / پاکستان / مشاورت گئی تیل لینے: علماء کا وزیر اعظم عمران خان کو مشاورت کی دعوت دینے پرکرار جواب

مشاورت گئی تیل لینے: علماء کا وزیر اعظم عمران خان کو مشاورت کی دعوت دینے پرکرار جواب

مشاورت گئی تیل لینے: علماء کا وزیر اعظم عمران خان کو مشاورت کی دعوت دینے پرکرار جواب

مظفر جنگ

اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے لاک ڈاون کو 30 اپریل تک توسیع دے دی ہے لیکن ساتھ ہی مختلف صنعتوں کو کھولنے کے ساتھ محدود پیمانے پر مارکیٹوں کو بھی کھولنے کا حکم دیا ہے جس میں چند درزی اور حجام کی دوکانیں بھی شامل ہیں. مساجد پر لاک ڈاون اور رمضان میں عبادات کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ علماء اکرام سے مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا.
عمران خان کی اس دعوت مشاورت کو علماء اکرام نے ہوا میں اڑا دیا اور مساجد کو یک طرفہ طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا.
اس زمرے میں بروز منگل کراچی میں علماء اکرام نے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں اتحاد تنظیمات المدارس کے اجلاس کے بعد رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن اور مفتی تقی عثمانی نے جے یوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود، مولانا اویس نورانی، مفتی ڈاکٹرعادل، مولانا محمد سلفی، ڈاکٹر اسرارو دیگر نے شرکت کی.
جبکہ ٹیلی فون کے ذریعے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق اور سینیٹر ساجد میر کے علاوہ دیگر نے شرکت کی۔
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ اللہ سے رجوع ہی وبا سے نجات کا ذریعہ ہے، موجودہ حالات میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ نماز جمعہ اور پانچ وقت کی نماز بھی ضروری ہے لیکن جوافراد بیمارہیں وہ مسجد نہ آئیں
انہوں نے کہا کہ علمائے کرام پرایف آئی آرز کا اندراج غلط فہمیوں کا نتیجہ ہے ان کو ختم اور گرفتار علما کو رہا کیا جائے
اس موقع پر مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ اب لاک ڈاؤن کا اطلاق مساجد پر نہیں ہوگا اور فاصلہ رکھنے کے طبی مشورے پر عمل کیا جائے گا، نماز جمعہ اور نماز تراویح کا باجماعت اہتمام ہوگا اور عبادات کا سلسلہ جاری و ساری ہوگا۔
چیئرمین رویت ہلاک کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ تین ماہ کے لیے مساجد اور دینی اداروں کے بل مکمل طور پر معاف کیے جائیں کیونکہ جو لوگ ان سے متعلق ہیں ان کے لیے بھی اسباب کرنے ہیں اور ریاست پورے ملک کے مسلمانوں کی مدد اور کفالت کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ضروری اداروں کو کھولنا ضروری ہے تو مدارس اور مساجد کو کھولنا ہماری دینی ضرورت ہے، دینی ضرورت سب سے مقدم ہے اور مقدم ہونی چاہیے۔
مفتی منیب الرحمٰن نے میڈیا سے شکوہ کیا ہے کہ مسئلہ فاصلہ رکھنا تھا جس کا معاشرے میں کئی مظاہر موجود ہیں لیکن 50 چینل بیٹھ کر مسجد، نماز اور جمعہ کو نشانہ بناتے ہیں اس لیے میڈیا کے نمائندوں سے گزارش ہے کہ اس طرح کا رویہ دینی اداروں کے بارے میں اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے نفرت پھیلے گی۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا والے تمام معاملات کو یکساں دیکھیں آئندہ مساجد کو نشانہ بنانا ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال امن کےلئے …

Skip to toolbar