Home / بلاگ / محمّد حنیف کا ناول: پھٹتے آموں کا کیس

محمّد حنیف کا ناول: پھٹتے آموں کا کیس

محمّد حنیف کا ناول ` پھٹتے آموں کا کیس `.

تبصرہ ، زوار حسین کامریڈ

بی بی سی سے وابستہ مقبول لکھاری محمّد حنیف کا ناول “A case of Exploding Mangoes” کا اردو ترجمہ ` پھٹتے آموں کا کیس` ایک دوست کی طرف سے ارسال کردہ پی ڈی ایف فارم میں پڑھنے کا موقع ملا.

تاریخی فکشن ناول کا بیانیہ ، طرز اسلوب اور واقعات کا تانہ بانہ اس قدر دلچسپ اور پر تجسس ہے کہ اسے پہلی فرصت میں پڑھ لینے کو جی چاہتا ہے.

ناول کا مرکزی خیال 17 اگست 1988 کو سی ون تھرٹی جہاز کے کریش میں مرنے والے جنرل ضیاء ، جنرل اختر عبدالرحمن ، امریکی سفیر رافیل اور دیگر فوجی افسران و عملہ کی اموات کے پس پردہ ہونے والے واقعات و محرکات کو بیان کرتا ہے . کہانی میں جنرل ضیاء اس کی اہلیہ شفیقہ ضیاء کے باہمی ازدواجی تعلقات کی جس طنز و مزاح کے ساتھ تصویر کشی کی گئی ہے اس سے قاری کو ضیاء کی عمومی سوچ، طرز زندگی اور روزمرہ معمولات سے آگاہی ملتی ہے. جو وقتی طور پر تو مزاحیہ واقعات کی طرح لطف دیتی ہے مگر اس سے پاکستان پر طویل عرصہ حکمرانی کرنے والے متعلق العنان حکمران کی ذاتی سطحی سوچ کو جان کر خاصا افسوس بھی ہوتا ہے.

ناول کے کردار ہیں تو حقیقی مگر ان کے درمیان ہونے والے واقعات و مکالمے فکشن ہونے کے باوجود تاریخی اعتبار سے بہت سے پوشیدہ گوشوں کا سچ آشکار کرتے ہیں جس سے قاری کو اسی کی دہائی کی تاریخ کے محرکات سے جانکاری ملتی ہے.

کہانی میں پاکستانی فوج کے جنرلوں کی جنگی ساز و سامان کی خریداری اور روس کے خلاف لڑے جانے والے نام نہاد افغان جہاد میں کی جانے والی اربوں ڈالرز کی کرپشن ، اسی کی دہائی کی عالمی سیاست اور ملک کو اسلامی مملکت بنانے کے لیے ضیاء الحق کی طرف سے کیے گئے اقدامات کو روحانی رہنمائی کے نتیجہ میں اٹھاۓ جانے کے لیے مرد مومن کی خود ساختہ توجیہات کو حد درجہ باریکیوں سے بیان کیا گیا ہے.

جنرل ضیاء کی طرف سے نفاد اسلام کی کاوشوں کو ناول کی کہانی اور اس دور کی خبروں کے پس منظر میں دیکھا جائے تو بہت سے اہم واقعات کو مذہب سے جوڑنے کے اسباب واضح ہو جاتے ہیں.

ضیاء مارشل لا میں حکومت مخالف سیاسی و دیگر سرگرمیوں کی پاداش میں لاہور کے شاہی قلعہ میں قید و بند کے دوران مخالفین پر جو جبر و تشدد ڈھایا گیا تھا اس کی بہت سی لرزہ خیز داستانیں سیاسی کارکنوں کی زبانی منظر عام پر آ چکی ہیں. مگر ناول کے کرداروں پر ڈھاۓ جانے والے مظالم کو جس زاویہ سے مصنف نے تحریر کیا ہے وہ پڑھنے والے کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی ایک لہر دوڑا دیتا ہے.

ضیاء الحق اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں مارے جانے کے خوف کے سبب جس فوبیا کا شکار ہوا تھا اسے صفحہ قرطاس پر اتارتے ہوے محمّد حنیف نے ظالم حکمران کے اندر کے کمزور کو آدمی کو کمال مہارت سے دکھایا ہے.

ناول ` پھٹتے آموں کا کیس ` کا سب سے متاثر کن حصہ اس کا کلائمکس ہے. کہانی کا یہ موڑ انتہائی پر تجسس اور دلچسپ ہے . ناول کے متذکرہ آخری مرحلہ میں ضیاء کی موت کے ذمہ دار کردار جس فنی پختگی و کاملیت سے مصنف نے بے نقاب کیے ہیں وہ قاری کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر کے کہانی کو اختتام پر لے جاتے ہیں مگر محمّد حنیف کی تحریر کا منفرد اسلوب قاری کو ناول کے سحر سے کئی دن تک نکلنے نہیں دیتا.

تاریخ کو ناول کی شکل میں جس بے باک انداز اور سچ کے ساتھ مصنف نے بیان کیا ہے بلا شبہ وہ اس ادبی تخلیق کو کلاسک کے مقام کا حقدار ٹہرائے گا.

زوار حسین کامریڈ عرصہ دراز سے صحافتی شعبہ سے وابستہ ہیں.

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

این اے 249: ضمنی الیکشن کا میدان پیپلز پارٹی نے مار لیا

این اے 249: ضمنی الیکشن کا میدان پیپلز پارٹی نے مار لیا غیر حتمی نتائج …

Skip to toolbar