Home / بزنس / ماضی کے بھاری قرضوں کے باعث ہم نے اپنے دو سال میں 5 ہزار ارب کا سود بھی ادا کیا جس سے خزانے پر بھاری بوجھ پڑا ہے، حماد اظہر

ماضی کے بھاری قرضوں کے باعث ہم نے اپنے دو سال میں 5 ہزار ارب کا سود بھی ادا کیا جس سے خزانے پر بھاری بوجھ پڑا ہے، حماد اظہر

ہمارے مناسب فیصلوں کی بدولت معیشت کو استحکام ملا ، حماد اظہر

گذشتہ مالی سال 19-2018ءکے پہلے 9 ماہ کے مقابلے میں اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی،بجٹ تقریر

ماضی کے بھاری قرضوں کے باعث ہم نے اپنے دو سال میں 5 ہزار ارب کا سود بھی ادا کیا جس سے خزانے پر بھاری بوجھ پڑا ہے، وفاقی وزیر

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماداظہر نے کہا ہے کہ ہمارے مناسب فیصلوں کی بدولت معیشت کو استحکام ملا ،گذشتہ مالی سال 19-2018ءکے پہلے 9 ماہ کے مقابلے میں اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔

جمعہ کو وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماداظہر نے قومی اسمبلی میں مالی سال 21-2020 کا وفاقی بجٹ پیش کردیاہے، اس دوران وفاقی وزیر کی جانب سے مالی سال20-2019ءکے ابتدائی 9 ماہ کی حکومتی کارکردگی کا جائزہ بھی پیش کیا گیا۔

وفاقی وزیر حماداظہر نے کہا کہ ہم نے مالی سال 20-2019ءکا آغاز پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کردہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کیا اور ہمارے مناسب فیصلوں کی بدولت معیشت کو استحکام ملا اور گذشتہ مالی سال 19-2018ءکے پہلے 9 ماہ کے مقابلے میں اہم معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔

حماد اظہر کے مطابق مالی سال 20-2019ءمیں جاری کھاتوں کے خسارے میں 73 فیصد کمی کی گئی جو کہ 10ارب ڈالر سے گھٹ کر 3ارب ڈالر رہ گیا جب کہ تجارتی خسارے میں 31 فیصد کمی ہوئی جو کہ 21 ارب ڈالر سے کم ہوکر 15 ارب ڈالر ہوگیا۔ا نہوںنے کہاکہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں بجٹ کا خسارہ 5 فیصد سے کم ہو کر 3.8 فیصد رہ گیا جب کہ بنیادی خسارہ 10 سالوں میں پہلی بار مثبت ہوکر مجموعی قومی پیداوار کے 0.4 فیصد رہا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس آمدن میں 17 فیصد اضافہ ہوا اور ہم 4 ہزار 800 ارب کا بڑا ہدف حاصل کرنے کی پوزیشن میں تھے جب کہ نان ٹیکس ریونیو میں 134 فیصد کا اضافہ ہوا۔

حماد اظہر نے کہا کہ حکومت نے اس مالی سال میں 6 ارب ڈالر کے بیرونی قرض کی ادائیگی کی جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 4 ارب ڈالر کی ادائیگی کی گئی۔انہوںنے کہاکہ ماضی کے بھاری قرضوں کے باعث ہم نے اپنے دو سال میں 5 ہزار ارب کا سود بھی ادا کیا جس سے خزانے پر بھاری بوجھ پڑا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھنے سے ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہوا اور مالی سال 20-2019ءکے 9 ماہ میں ترسیلات زر 16 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17 ارب ڈالر ہوگئیں۔

حماد اظہر کے مطابق حکومت کے اصلاحاتی پروگرام کو سراہتے ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے 6 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی جبکہ معیشت کی درجہ بندی کرنے والی مشہور ایجنسی موڈیز نے پاکستانی معیشت کی درجہ بندی بی تھری منفی سے بہتر کرکے بی تھری مثبت قراردی، اس کے علاوہ بلوم برگ نے دسمبر 2019 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دنیا کی بہترین مارکیٹس میں شمار کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مالی سال 20-2019ءمیں اسٹیٹ بینک سے ادھار لینے کا سلسلہ بند کیا اور تجارتی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا گیا جب کہ سرکاری اداروں کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور شفاف نجکاری کی گئی، اس کے علاوہ تمام صوبوں میں شفاف احتساب کے لیے اسٹرکچر اصلاحات کی گئیں۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

انسداد دہشتگردی عدالت نے موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزمان کو سزائے موت سنا دی .

لاہور: 20 مارچ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے موٹر …

Skip to toolbar