Breaking News
Home / انٹر نیشنل / قدامت پرست مذہبی طبقات، لاابالی معاشرہ اور کروناوائرس

قدامت پرست مذہبی طبقات، لاابالی معاشرہ اور کروناوائرس

قدامت پرست مذہبی طبقات، لاابالی معاشرہ اور کروناوائرس

مظفر جنگ

کرونا وائرس وبا نے دنیا میں دو پہلووں کا آشکار کیا ہے ۔ایک یہ کہ دنیا میں رائج الوقت صحت عامہ کی پالیسیوں کی ناکامیوں کا پردہ چاک کیا ہے اور دوسرا ہمارا مذہبی انتہا پسند قدامت پرست طبقہ نے کسی طرح کی بھی لچک دکھانے کی کوشش نہیں کی اور پاکستان، اسرائیل سمیت کئی ممالک میں یہ کرونا وائرس پھیلانے کا سبب بنے ہیں۔
فرانس نے ایک قدامت پرست عیسائی فرقے کو اجتماعی عبادت کی اجازت دی اور حکومت نے سماجی احتراز برتنے کی بھی تلقین نہیں کی ۔ جس کی وجہ سے کروناوائرس پورے فرانس میں پھیل گیا۔مزید برآں، سیاستدانوں کا کردار بھی انتہائی افسوسناک رہا انہوں نے لوگوں کی رہنمائی کرنے کی بجائے سیاست کرنے میں زیادہ دلچسپی لی۔
اگرچہ یورپ میں زیادہ تر حکومتوں نے قدامت پرست مسلمانوں پر مختلف پابندیاں لگائیں اور دیگر مذاہب کے انتہاپسندوں کو نظرانداز کیا یا پھر اگر پابندیاں لگائیں بھی بہت ہلکی نوعیت کی۔خاص طور پر یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے قدامت پرستوں کو کافی رعائیتں بھی دی گئیں۔ اور کچھ مغربی حکومتوں نے مسلم خواتین کوقانون کے تحت مجبور کیا کہ وہ نقاب یا حجاب نہیں پہن سکتیں اور انہیں مردوں کے ساتھ ہاتھ ملانا ہوگا۔انہوں نے مذہبی جماعتوں کو چندہ اکٹھا کرنے سے بھی روک دیا۔یہودیوں اور مسلمانوں کو جانوروں کی قربانیوں پر بھی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔
معاشروں میں بےجا پابندیاں لگانے میں جہاں یورپ کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے وہاںترکی کے صدر طیب اردگان کا کردار بھی تنقید کے زد میں رہا ہے۔ کمال اتاترک کے مرنے کے بعد عرصہ دراز تک ترکی آزاد خیالات اور رسم وواج کا حامل رہا ہے لیکن طیب اردگان کے آنے کے بعد ترکی میں اسلامی طور و طریقوں کو از سر نو احیاءکر رہے ہیں اور انہوں نے یونیورسٹیوں اور دفاتر میں نقاب یا حجاب نہ پہننے کی پابندی کو ختم کر دیا ہے۔
اس ماہ فروری میں ڈچ پارلیمنٹ نے ایک قدامت پرست مسلمان کے مسلک اہلحدث سے تعلق رکھنے والے امام مسجد کو پوچھ کچھ کے لیے بلایا۔ امام مسجد پر یہ الزام تھا کہ اس نے اپنے ماننے والے مسلمانوں کو کہا کہ وہ غیر مسلم ڈچ لوگوں سے ملنا جلنا بند کر دیں اور اگر راستے میں کوئی چرچ یا غیر مسلموں کی کوئی عبادت گاہ آجائے تو اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیں۔
ولندیز میں مسلمان پوری آبادی کا پانچواں حصہ ہیں اور کافی عرصے سے قدامت پرست اور ترک انتہاپسند ولندیز میں موجود مساجد پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور انہیں اس سے روکنے کے لیے حکومت کو ضروری اقدامات کرنے پڑے۔
اسرائیلی حکومت کو بھی کرونا وائرس روکنے کے لیے جو اقدامت کئے وہ یہودی قدامت پرستوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔یروشلم کے پاس ایک شہر بنی بریک ہے جس میں قدامت پرست یہودیوں کی ایک کثیر تعداد رہتی ہے۔ پاکستان میں رائےونڈ طرز کا یہ شہر کرونا وائرس کا مرکز بن چکا ہے جسے اسرائیلی حکومت نے لاک ڈاون کر دیا ہے۔
ایک کروڑ سے کم آبادی والے ملک اسرائیل میں قدامت پرست کا تناسب 12 فیصد ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنی خواہشات کے باوجود عین وقت میں اسکولوں اور عبادت گاہوں کو بندکرنے میں ناکام رہا۔اسے خوف تھا کہ اگر اس نے لوگوں پر سماجی احتراز برتنے پر مجبور کیا تو کہیں اسرائیل کا قدامت پرست طبقہ اس کی حمایت سے دستبردار نہ ہوجائے۔ نیتن یاہو خوددوبار قرنطینہ میں جا چکے ہیں۔ ایک مرتبہ جب انہوں کا اپنے مشیر رویکا پلوچ کے ساتھ آمناسامنا ہوا اور دوسری مرتبہ قدامت پسند وزیر صحت ”یاکوف لٹزمین“ کی وجہ سے جب لٹزمین کا کروناوائرس ٹسٹ مثبت آیا۔
کرونا وائرس وبا پھیلنے پر قدامت پرست یاکوف لٹزمین نے دعویٰ کیا تھا کہ ”ہم دعا کر رہے ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ مسیحا فسح کے وقت آئے گا ، یہ وقت چھٹکارا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مسیحا اسی طرح آئے گا جیسے اس نے ہمیں مصر سے نکالا تھا۔“
جب یاکوف لٹزمین خود کرونا وائرس کا شکار ہوا تب اسے احساس ہوا کہ کرونا کو رعکنے کے لیے سخت اقدامت کرنے ہوں گے۔
انتہائی راسخ العقیدہ یہودی اکثر ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو نماز اور دینی تعلیم کا مرکز ہوتی ہے۔ بہت سے لوگوں کے پاس ٹیلیویڑن ، انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے یا وہ مرکزی دھارے میں ریڈیو براڈکاسٹ نہیں سنتے ہیں۔ وہ کمیونٹی نیوز شیٹوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔
قدامت پرست حکومت کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کی مخالفت اس لیے بھی کرتے ہیں کہ پابندیوں کی وجہ سے ان کی عام معمور کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
مسلمانوں کی طرح انتہائی راسخ العقیدہ یہودی بھی دن میں کئی بار نماز کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے برعکس ، یہودی کچھ نمازوں کے لئے کم سے کم دس بالغ مردوں کا نصاب رکھتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے رسومات والے غسلوں کو بند کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ جوڑے کے مباشرت یا ایک بستر میں سونے پر پابندی ہے۔
مزید یہ کہ قدامت پرست یہودی سیکولر یہودیوں سے میل ملاپ بھی کم رکھتے ہیں اور اکثریت جو عبرانی زبان بولتے ہیں ان کے برعکس یہ راسخ العقیدہ یہودی یدش زبان بولتے ہیں ۔یہ ایک ایسی زبان ہے جو ان کے خیال میں مسیحا کی آمد کی عدم موجودگی میں دعا کے لئے مختص ہے۔
اسرائیل کے سابق انصاف اور مذہبی امور کے وزیر یوسی بیلن کے خیالات بھی مسلمانوں کی تبلیغی جماعت سے ملتے جلتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہودیوں کواکٹھے ہو کردعا کرنی چاہیے۔کیونکہ انسانوں کی کوششوں سے کچھ نہیں بدلے گا ، کیونکہ تباہی خدا کا عطا کردہ عذاب ہے اور صرف خدا سے دعا مانگنے سے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔
فلوریڈا میں ایک قدامت پرست مسلک سے تعلق رکھنے والے پادری ریورنڈ روڈنی ہاورڈبراون کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ سرکار کی جانب لگائی گئی پابندی کے باوجود اتوار کے روز چرچ میں عبادت کے لیے لوگوں کے مجمع سے مخاطب تھا۔
مسٹر ہاورڈ براون کا کہنا تھا کہ سیکولر حکومتوں نے ہمیں شیطان بنا دیا ہے کیونکہ ہمارا یقین ہے کہ خدا شفا بخشتا ہے ، اور خداوند لوگوں کو آزاد کرتا ہے ، اور وہ یہ آزاد خیال لوگ ہمیں نیم پاگل بنانا چاہتے ہیں۔
پاکستان ، اسرائیل اور فرانس کی کروناوائرس روکنے میں ناکامی کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی یہ کہ ان ممالک نے دیوار پر لکھی تحریر کو نہیں پڑھا جو واضح طور بتا رہی تھی کہ اگر کرونا وائرس کو روکنے کے لیے اقدامت نہ کئے گئے تو یہ بہت بڑی تباہی لے کر آسکتا ہے اور دوسرا یہ تینوں ممالک اپنے اپنے مذہبی قدامت پرست طبقوں کو قائل کرنے میں ناکام رہے کہ اگر انہوں نے مذہبی اجتماع پر پابندیوں پر عمل نہ کیا تو وہ اپنے معاشروں میںکرونا وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

مظفر علی جنگ ایک سینئر صحافی، مورخ اور تجزیہ نگار ہیں. وہ عرصہ بیس سال سے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل کے لیے لکھ رہے ہیں. ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
muzaffar56@gmail.com

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

حکومت پاکستان دسمبر 2022تک پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے، امین الحق

اسلام آباد۔ 23نومبر (ڈیلی پاکستان آن لائن ) :وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی …

Skip to toolbar