Breaking News
Home / پاکستان / عوام ایس او پیز پر عمل کریں ورنہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانا پڑے گا. وزیراعظم عمران خان

عوام ایس او پیز پر عمل کریں ورنہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانا پڑے گا. وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد (ڈیلی ُاکستان آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔ پیلے صوبوں کو اعتراض تھا کہ بڑی تعداد میں بیرون ملک سے شہریوں کو نہ لایا جائے اس لیے محدود تعداد میں پاکستانیوں کو واپس لایا جارہا تھا۔اب فیصلہ کیا ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے پروازوں کی تعداد بڑھائی جارہی ہے، ائیرپورٹس پر ان کا ٹیسٹ ہوگا اور پھر گھروں میں بھیج دیا جائے گا، نتیجہ مثبت آیا تو گھروں میں ہی قرنطینہ کرنا ہوگا
وزیر اعظم عمران خان نے خبر دار کیا ہے کہ کورونا جلد ختم ہونے والا نہیں، احتیاط نہ کی تو بڑاے نقصان کا اندیشہ ہے،مخصوص شعبوں کے علاوہ باقی سب کچھ ایس او پیز کے تحت کھولا جا رہا ہے ،عوام یہ نہ سمجھیں کہ لاک ڈاؤن ختم ہوگیا ہے اور پہلے کی طرح زندگی گزارنا شروع کردیں، ایس او پیز پر عمل کریں ورنہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانا پڑے گا .
قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کا علم ہوتے ہی محض 26 کیسز پر ہی حکومت نے اجلاس طلب کیے اور لاک ڈاؤن کیا، یورپ میں کورونا وائرس پہنچا تو دیکھا کہ ہپاکستان کے حالات چین اور یورپ کی طرح نہیں، ہمارے ملک میں ان ممالک کے مدمقابل غربت بہت ہے، 5 کروڑ افراد دو وقت کا کھانا نہیں کھاسکتے، ڈھائی کروڑ افراد یومیہ کمانے والے ہیں جو اگر روز نہیں کمائیں گے تو ان کے گھر کا چولہا نہیں جلے گا۔.

وزیراعظم نے کہا کہ خدشہ تھا کہ اگر پاکستان میں یورپ جیسا لاک ڈاؤن کیا گیا تو غریبوں کا کیا ہوگا؟ لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے تاہم یہ اس کا علاج نہیں کیوں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب بہت متاثر ہوا۔عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے امیر افراد پر اثرات الگ اور کچی آبادی پر الگ طرح سے مرتب ہورہے ہیں، ہمیں وائرس کے پھیلاؤ اور بھوک و افلاس دونوں کو مدنظر رکھنا ہے، صوبوں کے پاس اختیارت ہیں انہیں بھی دیکھنا ہے، پیسے والے کچھ اور کہتے ہیں لیکن غریب طبقہ جو تکلیف میں ہے اس کی آواز سامنے نہیں آرہی، لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو بہت تکلیف پہنچ رہی ہے .
وزیراعظم نے کہا کہ میں کاروبار کبھی بند نہیں کرتا لیکن مجبوری میں ایسا کیا، جب تک ویکسین نہیں ملے گا یہ وائرس ختم نہیں ہوگا امیر ترین ممالک سمیت ساری دنیا اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ ہمیں اس وائرس کے ساتھ جینا ہے۔عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے امیر افراد پر اثرات الگ ہیں اور کچی آبادی کے رہائشی پر اس کے اثرات الگ طرح سے مرتب ہورہے ہیں، ہمیں وائرس کے پھیلاؤ اور بھوک و افلاس دونوں کو مدنظر رکھنا ہے، صوبوں کے پاس اختیارت ہیں انہیں بھی دیکھنا ہے، پیسے والے کچھ اور کہتے ہیں لیکن غریب طبقہ جو تکلیف میں ہے اس کی آواز بلند نہیں ہورہی سامنے نہیں آرہی، لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وائرس کے ساتھ کامیاب طریقے سے جینے کی ذمہ داری عوام کی ہے، کورونا کہیں نہیں جارہا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا۔ا
وزیر اعظم نے کہاکہ امریکا جیسا دنیا کا امیر ترین ملک جہاں ایک لاکھ لوگ مر چکے ہیں، انہوں نے بھی لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہماری انتظامیہ اور پولیس پر بہت دباؤ ہے، کچھ شعبے بند رہیں گے باقی سب کھول رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ مخصوص شعبوں کے علاہ باقی سب کچھ ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا ہے .
وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ کھولنا چاہیے، کیوں کہ بعض علاقوں میں گرمیوں کے تین سے چار مہینے ہی سیاحت ہوتی ہے اور کاروبار چلتا ہے، اگر یہ وقت لاک ڈاؤن میں نکل گیا تو ان علاقوں میں غربت مزید بڑھ جائے گی۔و عمران خان نے کہا کہ جن شعبہ جات میں خطرہ زیادہ ہے انہیں تاحال بند رکھا جائے گا تاہم بقیہ تمام شعبہ جات کھلے رہیں گے جن کی فہرست جلد سامنے آجائے گی،

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

بیگم صفدراعوان کا ”ووٹ کو عزت دو“کا نعرہ دراصل ”مجھے لندن جانے دو“کی دہائی ہے‘ فیاض الحسن چوہان

بیگم صفدراعوان کا ”ووٹ کو عزت دو“کا نعرہ دراصل ”مجھے لندن جانے دو“کی دہائی ہے‘ …

Skip to toolbar