Breaking News
Home / پاکستان / عمر ثانی ؒکے جسد خاکی کی بحرمتی پر خاموشی لمحہ فکریہ ہے‘مولانا محمد احمد لدھیانوی

عمر ثانی ؒکے جسد خاکی کی بحرمتی پر خاموشی لمحہ فکریہ ہے‘مولانا محمد احمد لدھیانوی

عمر ثانی ؒکے جسد خاکی کی بحرمتی پر خاموشی لمحہ فکریہ ہے‘مولانا محمد احمد لدھیانوی

سرگودھا(ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک کے مذہبی شخصیت مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ کے جسد خاکی کی بے حرمتی پر تکریم انسانیت کاسبق دینے والے دانشوروں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی اشعائر کی حفاظت مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے ایسے میں عمر بن عبد العزیز اور ان کی اہلیہ کی قبروں کی بے حرمتی غیر انسانی فعل ہے۔

مولانا نے کہا کہ ملک شام میں بشار الاسد کی حامی ملیشیا کی جانب سے عظیم اسلامی حکمران حضرت عمر بن عبد العزیز اور ان کی اہلیہ کی قبور سمیت تاریخی آثار، اسلامی یادگاروں اور دیگر مقدس شخصیات کی قبور و مزارات کی تباہی کے ذمے داروں کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی کی جائے۔مولانا نے موٹر وے پر سفر کرتے ہوئے سرگودھا کے علاقہ سیال موڑ سروس ایریا میں سنی علماء کونسل سرگودھا ڈویژن کے راہنما چوہدری ندیم تبسم چیمہ و دیگر ملاقاتیوں سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ ہم نے شام کے صوبہ اِدلب میں آمربشار الاسدکی ملیشیا کے ہاتھوں آٹھویں امَوی خلیفہ او مسلم حکمران حضرت عمر بن عبد العزیز کے مزار کو نقصیان پہنچانے پر اقوام متحدہ، یونیسکو، یو این ہیومن رائٹس کونسل، یورپی یونین، او آئی سی، رابطہ عالم اسلامی، عرب لیگ، اسلام آباد میں مسلم ممالک کے سفارتخانوں اور ایران کی وزارت ثقافت کو تحریری یاد داشت ارسال کی ہے۔جس میں اِدلب کے واقعہ پر گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے شام میں موجود باقی اسلامی آثار اور مقدس شخصیات کی قبور و مزارات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی حفاظت کیلئے بروقت اقدامات کا مطالبہ کیا۔ مولانا نے امید ظاہر کی کہ عالمی ادارے اور بالخصوص مسلم ممالک اپنی انسانی ذمے داریوں کا ادراک کرتے ہوئے اس حوالے سے حساسیت کا مظاہرہ کریں گے اور باقی تاریخی آثار کی حفاظت یقینی بنانے میں اپنا کر دار ادا کریں گے.

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو دنیا عظیم تاریخی ورثہ سے محروم ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ جلیل القدر تابعی تھے، آپ نے جماعت ِصحابہ سے فیض پایا، دورِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد بلاشبہ ان کا دورِ حکومت عدل و انصاف میں بے مثال تھا، آپ رحمتہ اللہ علیہ انتہائی عابد و زاہد شخصیت کے مالک تھے، سرکاری خزانے سے تنخواہ نہیں لیا کرتے تھے، خلافت سنبھالتے ہی شہزادوں والی زندگی ترک کرکے زاہدانہ درویشانہ طرزِ حیات اختیار کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر بن العزیز کو عمر ثانی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔کیونکہ ان کے زمانہ خلافت میں دورِ فاروقی کی جھلک دکھائی دیتی ہے جہنوں نے اڈھائی سالہ اقتدار میں ایسا نظام قائم کیا کہ کوئی صدقہ لینے والا نہیں تھا۔روئے زمین سے ظلم و ستم، قتل و غارت، چوری، ڈاکہ زنی، زنا اور جملہ جرائم اور گناہوں کا یکسر خاتمہ ہوگیا، امن وسلامتی، عدل و انصاف اور امانت و دیانت کا دور دورہ تھا، آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنی نجی زندگی میں بھی زہد و تقویٰ، اخلاص و دیانت، عفو و درگزر، عجز و تواضع، نرمی و رحم دلی، خوش خلقی جیسے صفات کے حامل تھے ایسی بے ضرر عظیم شخصیت اور ان کی اہلیہ محترمہ کے مزار کی توہین بہت بڑی جسارت اور اسلام دشمنی کا شاخسانہ ہے عالم اسلام کے مسلمان اس پر شدید اضطراب کا شکار ہیں اور ان کے دل چھلنی ہیں جو قبور کی بے حرمتی سمیت تقدس کی پا مالی جیسے واقعات پر سخت احتجاج کرتے ہیں۔

About Daily Pakistan

Check Also

حکومت پاکستان دسمبر 2022تک پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے، امین الحق

اسلام آباد۔ 23نومبر (ڈیلی پاکستان آن لائن ) :وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی …

Skip to toolbar