Breaking News
Home / پاکستان / سپریم کورٹ سے عذیر بلوچ جے آئی ٹی پر سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل

سپریم کورٹ سے عذیر بلوچ جے آئی ٹی پر سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل

سپریم کورٹ سے عذیر بلوچ جے آئی ٹی پر سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے عذیر بلوچ کی کی جے آئی ٹی پر سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ میں ذاتی طور پر بھی سپریم کورٹ میں پٹیشن لیکر جاو¿ں گا،سندھ حکومت کی جانب سے جاری رپورٹ 35 صفحات اور اصل رپورٹ 43 صفحات پر مشتمل ہے، ایک جے آئی ٹی پر 4 اور دوسری پر 6 لوگوں کے دستخط ہیں،جس جس نے جے آئی ٹی پر دستخط کیے چیف جسٹس طلب کرےں ،جے آئی ٹی رپورٹ میں صرف جرائم کا ذکر ہے،جرائم کس کے کہنے پر ہوئے کوئی ذکر نہیں،جس نوعیت کے اعتراف کئے گئے وہ کوئی چھوٹی چوری نہیں،جن لوگوں کے احکامات پر قتل ہوتے رہے، وہ ابھی بھی پارلیمنٹ میں گھوم رہے ہوتے ہیں، قومی اسمبلی میں بیٹھے ہیں ،قبضوں، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، اور جوئے کے اڈوں میں ملوث ہیں ، یہ سب جے آئی ٹی میں لکھا ہوا ہے،بہت سارے سہولت کار تو اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں، صوبائی وزارتیں لے کر بیٹھے ہیں، شرجیل میمن کا نام ہے، وہ دوبارہ صوبائی وزیر بننے والے ہیں، معاملے کے جو بھی نتائج ہونگے سامنے کےلئے تیار ہوں ،ہم ملک بدلنے اور ملک کو صحیح راہ پر لگانے کےلئے آئے ہیں ،اللہ کے دئیے ہوئے سزا اور جزا کے نظام پر عمل کیا جائے،عزیز بلوچ کے مطابق پیپلزپارٹی کی قیادت سے انہیں اور اہلخانہ کو جان کا خطرہ ہے۔

منگل کو وزیر اطلاعات شبلی فراز نے وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس پاکستان سے لوگوں کو نجات دلائیں گے جہاں لوگ سیاست ملک کو آگے لے جانے کے بجائے مفادات کے فروغ کےلئے کرتے ہیں اور اداروں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ذاتی گینگز کو فروغ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس کی حالیہ مثال ہے وہ مسئلہ ہے جسے رکن قومی اسمبلی علی حیدر زیدی نے اٹھایا کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ جو بھی چیزیں ہوتی ہیں اس کے لیے جو بھی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں ان کا مقصد صرف رسمی کارروائی نہیں بلکہ عوام کے سامنے حقائق لانا ہوتا ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ وہ صوبہ جو شاہ عبدالطیف بھٹائی اور لعل شہباز قلندر کی سرزمین ہے، اس میں جو جماعتیں اقتدار میں رہیں کس طرح سے انہوں نے سندھ کے عوام کے مفادات کو نقصان پہنچایا اپنے ذاتی جائیدادوں کو بڑا کیا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے قانون کی بالادستی کے بجائے اپنی ایک ذاتی ریاست بنالی۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا کہ تہذیب یافتہ ممالک میں سیاسی مباحثے دائیں اور بائیں بازو کی ہوتی ہے لیکن پاکستان میں صحیح اور غلط کی سیاست ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم طویل جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئے اور اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے ہمیں وزیر بنانے کے قابل سمجھا لیکن اس ملک میں وزیر بننے کے بعد لوگ کیا کرتے رہے ہیں، ہم سب جانتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم ملک بدلنے اور ملک کو صحیح راہ پر لگانے کے لیے آئے ہیں اور اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے سزا اور جزا کے نظام پر عمل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ موٹر سائیکل اور گاڑی کی چوری کی بات نہیں ہے بلکہ 158افراد کے قتل کا عذیر بلوچ خود اعتراف کر چکا ہے اور جے آئی ٹی ریلیز کی گئی تو ان کے ترجمان نبیل گبول کہنے لگے کہ یہ جے آئی ٹی پوری نہیں ہے۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے پیپلز پارٹی رہنماوں کی عذیر بلوچ سے ملاقات سمیت مختلف ویڈیوز بھی چلائیں اور 4مارچ 2013 کا حکومت سندھ کا اعلامیہ بھی دکھایا جس میں حکومت سندھ نے عذیر بلوچ کی سر کی قیمت مقرر کی تھی۔علی حیدر زیدی نے عذیر بلوچ کا بیان حلفی سناتے ہوئے کہا کہ صفحہ نمبر 7 میں عذیر بلوچ نے کہا تھا کہ سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور فریال تالپور سے ملا اور اپنے خلاف ہیڈمنی ختم کروانے کا کہا جسے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے حکم پر ہٹادیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آخری صفحے پر عذیر بلوچ نے کہا کہ مجھے خدشہ ہے کہ ان انکشافات کے بعد مجھے اور میرے گھر والوں کو جان سے ماردیا جائےگا جس کےلئے میں درخواست کرتا ہوں کہ مکمل حفاظت کی جائے کیونکہ مجھے آصف زرداری اور دیگر سیاسی لوگ بشمول ان کے جن کا ذکر میں نے بیان حلفی میں کیا ان کی جانب سے انتقامی کارروائی کا خطرہ ہے۔وزیر بحری امور نے کہا کہ گزشتہ روز حکومت سندھ نے اپنی ویب سائٹ پر بڑی مشکل سے بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ جاری کردی، اس میں جو انکشافات اور جن جن کے نام ہیں وہ آپ کو معلوم ہے۔انہوں نے کہا کہ آخری صفحے پر سندھ پولیس، ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے، ایم آئی، ایس ایس پی ایسٹ، ڈی جی رینجرز سب کے دستخط ہیں جس میں لکھا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کا خونی اقدام پولیس کی نااہلی کی واضح مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے مذکورہ تفتیش پر تنقید کی اور نتیجہ اخذ کیا کہ خوف اور احسان کے غالب رہنے والے عناصر نے پولیس کی کارکردگی کو متاثر کیا اور یہ جے آئی ٹی غلط بنی تھی اور دوبارہ ایف آئی آر کاٹ کر تفتیش کی جائے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں یہ لکھا گیا تھا، اس طرح اداروں کو تباہ کیا گیا ہے۔وزیر بحری امور نے کہا کہ میں وفاقی وزیر کی حیثیت سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں کہ 184(3) کے تحت اس معاملے پر آج آپ سوموٹو نوٹس لیں اور آپ مجھ سے بھی جے آئی ٹی لیں اور ان سے بھی مانگیں۔انہوںنے کہاکہ جن لوگوں نے جے آئی ٹی پر دستخط کیے ہیں، انہیں چیف جسٹس عدالت طلب کر کے پوچھیں کہ کیا یہ ان کے دستخط ہیں اور اس جے آئی ٹی میں یہ چیزیں کیوں تھیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پٹیشن نہیں کرے گا تو اپنے طور پر بھی جا کر 184(3) کے تحت ایک پٹیشن کر دوں گا کہ سپریم کورٹ اس پر سوموٹو نوٹس لے کیونکہ جن لوگوں کے احکامات پر قتل ہوتے رہے، وہ ابھی بھی پارلیمنٹ میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔

علی زیدی نے کہا کہ یہ قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوتے ہیں، ٹیکس کے پیسے پر رہ رہے ہوتے ہیں، قبضوں، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، اور جوئے کے اڈوں میں ملوث ہیں اور یہ سب جے آئی ٹی میں لکھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے جو بھی نتائج ہوں گے میں ان کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں، میں نے آج صبح وزیر اعظم اور اور کابینہ کو بتا دیا تھا اور انہوں نے مجھے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد ملک بھر میں آپریشن شروع کیا گیا اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا لیکن بہت بہت سارے سہولت کار تو اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں، صوبائی وزارتیں لے کر بیٹھے ہیں، شرجیل میمن کا نام ہے، وہ دوبارہ صوبائی وزیر بننے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی الزام نہیں لگایا کیونکہ جے آئی ٹی میری حکومت میں تو بنی نہیں ، نہ ہم اس وقت فیڈرل میں تھے، نہ صوبے میں تھے، یہ جے آئی ٹی تو 2016 میں بنی تھی۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال امن کےلئے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar