Breaking News
Home / بلاگ / سازشی کرونا اور شرارتی صحافت

سازشی کرونا اور شرارتی صحافت

سازشی کرونا اور شرارتی صحافت

مظفرجنگ

کسی بھی معاشرے میں صحافیوں کی وہی حیثیت ہوتی ہے جو دودھ میں بالائی کی یا پھر گھی میں چکنائی کی ہوتی ہے۔ ان کی گفتگو میں توانائی تو ہوتی ہے لیکن دانائی نہیں۔ ان کی عمومی سوچ بھی عموماً حجام کی سوچ ملتی جلتی ہے جیسے حجام اپنی دوکان میں گاہک پر استرا استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر کی معلومات کا تبادلہ کر رہا ہوتا ہے ایسے ہی صحافی بھی سامعین کو متاثر کرنے کے لیے ہر موضوع پر بے تکان بولتا ہے اور اتنا بولتا ہے کہ اگلے بندے کی بولتی بند کروا دیتا ہے۔ یہ اپنی کہی بات کو تولنے کی بجائے نظروں سے مخاطب کو تولتا ہے ویسے ہی جیسے قصائی جانور خریدتے وقت اسے تولتا ہے کہ وہ دودھ کتنا دے گا اگر ذبح کروں تو گوشت کتنا نکلے گا۔ صحافیوں اور قصائیوں میں یہ عادت مشترک ہے کہ وہ کسی کو بھی ذبح کر سکتے ہیں اور کھال اتار سکتے ہیں اور ایسا کرنے میں وہ بعض اوقات حلال اور حرام کی بھی تمیز نہیں کرتے۔
جب سے کرونا وائرس کی وبا عام ہوئی ہے تب سے صحافتی برادری پہلے سے بھی زیادہ بدنام ہوئی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اگر زندگی میں سکون چاہیے تو میڈیا سے دور رہیں اور خاص طور پر ان دنوں میں جب کرونا اور صحافی کسی وقت بھی پنجہ گاڑھ سکتے ہیں۔ عام آدمی سے ہٹ کر مجھے جتنا مزا صحافیوں سے بات چیت کر کے آتا ہے اتنا کسی عالم و محقق سے کر کے نہیں آتا۔ ایک ایسے وقت میں جب سارا ملک بند ہے اور لوگ بھیڑ والی جگہوں پر جانے سے کتراتے ہوں۔ اتنی گھمبیر صورتحال کے باوجود پاکستان میں دو طرح کی مخلوق ایسی ہیں جو اپنے ٹھکانے سے دور ایسے ہی تڑپتی ہیں جیسے مچھلی پانی سے نکل کر۔ ان میں سے ایک صحافی اور دوسرا مولوی یے۔ صحافی پریس کلب سے دور نہیں رہ سکتا اور مولوی مسجد سے۔ دونوں اپنی اپنی جگہوں پر جانے کے لیے ایسے بھاگتے ہیں جیسے یہ کرونا وائرس کو گود لینا چاہتے ہوں۔ اگر یہ وہاں نہ پہنچے تو خدا نخواستہ کرونا کہیں یتیم اور لاوارث ہی نہ رہ جائے۔
گزشتہ روز جب میںپریس کلب پہنچا تو میں نے جس صحافی کو بھی دیکھا کرونا وائرس پر دوسرں کے ساتھ لڑتے دیکھا اور جتنے اعتماد کے ساتھ یہ طبقہ کرونا وائرس پر بات کرتا ہے جیسے انہیں ساری معلومات خود کرونا نے دی ہوں۔ ایک جذباتی صحافی کا خیال تھا کہ کرونا نوے فیصد صحافیوں کا اس لیے کچھ نہیں بگاڑ سکتا کہ وہ سب سگریٹ پیتے ہیں۔ کرونا چونکہ انسانی گلے میں قیام کرتا ہے اور دھواں سیدھا گلے سے کرونا کا خاتمہ کرتے ہوئے پھپھڑوں میں چلا جاتا ہے۔میں نے اس کا کوئی سائنسی ثبوت مانگا تو وہ برا مان گیا اور بولا جیسے دھونی دینے سے بری آتمائیں بھاگ جاتی ہیں ایسے ہی دھویں سے کرونا بھاگ جاتا ہے۔ ایک مدبر صحافی کا خیال تھا کہ زیادہ تر پاکستانی بچپن میں مٹی چاٹتے ہیں اور یوں ان کا مدافعتی نظام اتنا طاقتور ہو جاتا ہے کہ کرونا وائرس کو مٹی چٹا دیتا ہے۔ ایک صحافی بھائی کا رحجان مذہب کی طرف زیادہ تھا اور اس کے خیال میں کرونا بھی چنگیز خان کی طرح خدا کی طرف سے مسلمانوں کی بداعمالیوں کا عذاب ہے اورکرونا سے لڑنا کفر ہے۔ ہمیں تھوڑا سا اعتراض ہوا تو وہ جلال میں آ گیا اور اونچی آواز میں بولا۔ کیا ہم مردود فرعون سے بھی بدتر ہیں وہ بھی اللہ کے عذاب سے لڑنے کی کوشش میں غرقاب نیل ہوا۔ نیل سے مجھے اندازہ ہوا کہ اگر میں نے اس کی بات سے مزید اختلاف کیا اور اپنی زبان کو فوراً نکیل نہ ڈالی تو وہ میرے چہرے پر نیل ڈال دے گا۔ مذہبی صحافیوں سے خاموش رہ کر اپنی عزت اور عاقبت دونوں ہی بچائی جا سکتی تھیں۔
ایک صحافی دوست تھوڑا پڑھا لکھا تھا۔ اس کے خیال میں کرونا یہودیوں کی شرارت ہے اور آپ کو پتا ہی ہے کہ یہودی کتنے شریر ہوتے ہیں۔ دوسرا بولا نہیں یار اصل میں کرونا چین سے آیا ہے اور لوگوں کا خیال ہے قرب قیامت میں چین کی طرف سے ہی یاجوج ماجوج آئیں گے اور یہ کرونا وائرس اصل میں یاجوج ماجوج ہی ہے۔ ہمارا مذہبی سوچ رکھنے والا صحافی اچھل کر کھڑا ہو گیا اور غصے سے لال پیلا ہوتے ہوئے بولا توبا کرو توبا۔ یاجوج ماجوج مکہ اور مدینے میں داخل نہیں ہو سکتے جبکہ یہ دونوں مقدس جگہوں پر چلا گیا یے۔ یہ اللہ کا عذاب ہے یاجوج ماجوج نہیں۔ اس سے پہلے کے حالات مزید خراب ہوتے ہم ان کی محفل سے اٹھ کر ایک دوسری محفل میں چلے گے۔ یہ والے صحافی ذرا سلجھے انداز میں بات کر رہے تھے۔ وہاں ایک صحافی جو خود کو موسمیات کا ماہر سمجھتا تھا اس کے خیال میں کرونا وائرس اگلے مہینے ویسے ہی ختم ہو جائے گا کیونکہ یہ کرونا ہماری مئی جون کی گرمی برداشت نہیں کر سکتا۔دوسرا لقمہ دیتے ہوئے بولا کیونکہ ان مہینوں میں کرونا کو پت نکل آئے گی۔ ایک سازشی قسم کا صحافی کہہ رہا تھا کہ یہ بل گیٹس کی سازش ہے وہ دنیا کی آدھی آبادی ختم کرنا چاہتا ہے۔ ایک کے خیال میں کرونا وائرس حقیقت میں کچھ نہیں بس طاغوتی میڈیا نے اسے ہوا بنایا ہوا ہے اور یہ اس کی آڑ میں مذہب کو ختم کر کے مادر پدر آزاد معاشرہ دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ایک صحافی دوست جو اندر باہر سے لال تھا یعنی انقلابی اس کی رائے میں یہ استبدادی نظام کی پیداوار ہے اسے جان بوجھ کر چھوڑا گیا ہے تاکہ دنیا سے سوشلزم کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اپنے حق میں دلیل دیتے ہوئے اس نے کہا چین نے مکمل تحقیقات کروا لی ہیں یہ وائرس امریکی ووہان شہر میں لے کر آئے تھے انہوں نے چین کو معاشی طور پر تباہ کرنے کے لیے یہ بائیو کمیکل ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ایک صحافی جو خود کو اعلانیہ ملحد کہتا ہے وہ اسے ڈارون کے نظریہ ارتقائ کی اگلی کڑی قرار دیتے ہوئے کہہ رہا تھا اس کا علاج کافروں نے ہی دریافت کرنا ہے اور یہ مسلمان دعا کریں کہ کافر جلد از جلد اس کا علاج دریافت کر کے انہیں اس عذاب سے چھٹکارا دلائیں۔
ایک صحافی کہہ رہا تھا اگر شہباز شریف وزیر اعلیٰ ہوتا تو اس نے کرونا کو سڑکوں پر گھسیٹ رہا ہونا تھا اور میں گارنٹی سے کہتا ہوں اگر حکومت میر شکیل الرحمن کو چھوڑ دے اور عنان حکومت شہباز شریف کو دے دے تو کرونا پوری دنیا میں ایک مہینے میں ختم ہو سکتا ہے۔ دوسرا صحافی ہنس کر بولا میاں صاحب کرونا سے پہلے نیب سے تو نمٹ لیں۔
یک صحافی کا خیال تھا کہ واحد سندھ حکومت ہے جو کرونا سے لڑ رہی ہے۔ ایک اور بولا لگتا تو یہ ہے کہ کرونا کی بجائے وفاق اور سندھ آپس میں لڑ رہے ہیں اور لوگ دھڑا دھڑ مر رہے ہیں۔ ایک کے خیال میں یہ سب کرونا کی آڑ میں مال بنا رہے ہیں۔ایک صحافی جو دانش کی بلندی چھوتے چھوتے رہ گیا تھا اس کے خیال میں سارس وائرس اور انفلوئنزا کے جراثومہ کی ملاوٹ سے ” ایک بائیو لوجیکل” ہتھیار کی تیاری کے تجربہ کے دوران غفلت کرونا کے پھیلاو کی وجہ بنی۔ ایک محقق صحافی جس کی تحقیقاتی رپورٹنگ محلے کی یہ خبر دینے تک ہی محدود رہی کہ فلاں لڑکی فلاں لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگنے والی ہے اس کے خیال میںاس میں کسی کی غفلت شامل نہیں ہے بلکہ نیت ہی ایسی تھی۔یہ ہر سو سال بعد بندے مار پروگرام کرتے ہیں اور دلیل میں بتایا 1720 میں بھی عالمی وبا آئی تھی جس میں کڑوڑوں لوگ مرے تھے پھر سو سال بعد 1820 میں وبا آئی اور آخری وبا 1920 میں آئی تھی اور پھر پورے سو سال بعد اب 2020 میں آئی ہے۔ صرف اس دفعہ کم لوگ مرے ہیں ورنہ پلان تو 3 کروڑ کا ہی کیا ہوگا۔
ااتنی گفتگو سننے کے بعد میں اس نتیجے میں پہنچا صحافی اور کرونا وائرس جس کے پیچھے پڑ جائیں اس کا بچنا محال ہو جاتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ جہاں وہ کرونا وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کر رہے ہیں وہ وہاں کوشش کر کے صحافیوں سے بھی بچ کر رہیں کیونکہ کرونا میں سگریٹ اور صحافت مضر صحت ہے

مظفر علی جنگ ایک سینئر صحافی، مورخ اور تجزیہ نگار ہیں. وہ عرصہ بیس سال سے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل کے لیے لکھ رہے ہیں. ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
muzaffar56@gmail.com

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

حکومت پاکستان دسمبر 2022تک پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے، امین الحق

اسلام آباد۔ 23نومبر (ڈیلی پاکستان آن لائن ) :وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی …

Skip to toolbar