Breaking News
Home / انٹر نیشنل / سابق حکومتوں کے ادورامیں لئے جانیوالے قرضوں پرسود کی مد میں 57 کھرب روپے کی بھاری ادائیگی

سابق حکومتوں کے ادورامیں لئے جانیوالے قرضوں پرسود کی مد میں 57 کھرب روپے کی بھاری ادائیگی

اسلام آباد۔14دسمبر (ڈیلی پاکستان آن لائن):وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے سابق حکومتوں کے ادورامیں لئے جانیوالے قرضوں پرسود کی مد میں 57 کھرب روپے کی بھاری ادائیگی کی ہے۔
وزارت خزانہ کے ترجمان نے قرضوں کے حوالہ سے جاری ہونے والے وضاحتی بیان میں کہا کہ حکومت کو قرضوں کے حوالہ سے غیریقنی اورمشکل صورتحال ورثہ میں ملی جسے نظم وضبط، اخراجات پرموثرطریقے سے قابوپانے، اورٹیکس ونان ٹیکس محصولات میں اضافہ کے ذریعہ قابومیں لایا گیا، حکومتی کوششوں کے نتیجہ میں پرائمری بیلنس فاضل ہوگیا، سابق حکومتوں کی جانب سے لئے گئےقرضوں پرسودکی ادائیگی نے موجودہ حکومت کو قرضہ لینے پرمجبورکیا۔ حکومت نے جاری مالی سال میں سرکاری قرضوں پر نگرانی میں کامیابی حاصل کی اورحقیقی طورپرقرضوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا.
ترجمان نے کہاکہ حکومت نے جاری مالی سال میں سرکاری قرضوں پر نگرانی میں کامیابی حاصل کی اورحقیقی طورپرقرضوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،سٹیٹ بینک کے اعدادوشمارکے مطابق جولائی سے لیکراکتوبر2020 تک کی مدت میں قرضوں کے سٹاک میں 397ارب روپے کامعمولی اضافہ ہواہے تاہم یہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایڈجسٹمنٹ کے دوبارہ جائزہ کاحصہ نہیں ہے، اگراسے ایڈجسٹمنٹس میں شامل کیاجائے توحقیقی اعدادوشمارتقریباً یکساں ہوں گے۔
ترجمان نے کہاکہ حکومت نے قرضوں کے انتظام وانصرام کے حوالہ سے دانش مندانہ پالیسیاں وضع کی ہے جس میں قلیل المیعاد قرضوں کو طویل المعیاد قرضوں میں شامل کرنا اوراورقرضہ لینے کی لاگت کو کم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ترجمان نے کہاکہ ان اقدامات کے نتیجہ میں قرضوں کے مجموعی سٹاک میں اضافہ کو روک دیا جائیگا۔
ترجمان نے کہاکہ ایک اوراہم عنصر جس کی وجہ سے حکومت قرضہ لینے پرمجبورہوئی ہے وہ جولائی سے لیکراکتوبرتک کی مدت میں سابق ادوارمیں لئے جانیوالے قرضوں پردس کھرب روپے کے سود کی ادائیگی کا تقاضا ہے، یہ جون 2020 سے قبل 47 کھرب روپے کی ادائیگی کے علاوہ ہے، مجموعی طورپرموجودہ حکومت نے سابق حکومتوں کے ادورامیں لئے گئے قرضوں پرسود کی مد میں 57 کھرب روپے کی بھاری ادائیگی کی ہے

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

جہاں عدالتوں کا احترام ختم ہو جائے وہاں خونی انقلاب آتا ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان

جہاں عدالتوں کا احترام ختم ہو جائے وہاں خونی انقلاب آتا ہے، چیف جسٹس لاہور …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar