Breaking News
Home / انٹر نیشنل / جنوبی ایشیاء میں اقتصادی جنگ شدت اختیار کر جائے گی، دنیا میں مزید خطرات منڈلانے لگے

جنوبی ایشیاء میں اقتصادی جنگ شدت اختیار کر جائے گی، دنیا میں مزید خطرات منڈلانے لگے

مظفر جنگ

کرونا وائرس وبا نے جہاں دنیا میں تباہی پھیلائی ہے ویاں مستقبل میں ان گنت خطرات کو بھی لا کھڑا کیا ہے. طاقتور ممالک اپنی فطرتی بچاؤ کے لیے ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما ہونے جا رہے ہیں اور بہت سارے خطرات میں ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں نہ ختم ہونے والی مالی جنگوں کا بھی آغاز ہو سکتا ہے. جنوبی ایشیاء میں جہاں بھارت ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا تھا کرونا وائرس وبا کی وجہ سے اس کی معیشت کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے. بھارت خطے میں پاکستان کے بعد سب سے بڑا خطرہ چین کو سمجھتا ہے. ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کرونا وائرس وبا میں بھارت کو چین پر کیا فوقیت حاصل ہے اور کن جگہوں پر وہ چین کے مقابلے میں بہت کمزور ہے. پاکستان کو بھی ان حالات کا غیر جانبدارنہ تجزیہ کر کے ضروری اقدامات کرنے ہوں گے. اس تجزیے میں ہمارا فوکس صرف بھارت اور چین ہے.
چین کے مقابلے میں بھارت کو تین فوائد ہیں۔
کرونا وائرس وبا کے تناظرمیں بھارت کو چین کے مقابلے میں پہلا فائدہ یہ ہے کہ بھارت کی آدھی آبادی 28 سال سے کم عمر کے افراد پر مشتمل ہے جب کہ چین کی نصف آبادی 38 سال کی عمر کے افراد پر ہے. اس کا واضح فائدہ بھارت کو یہ ہے کہ وہ اس ہیلتھ ایمرجنسی کو بہتر انداز سے نمٹ سکتا ہے. دوم ، ہندوستان ایک گرم ملک ہے۔ 1961 سے 1990 کے درمیان اوسطا سالانہ درجہ حرارت ہندوستان کے لئے 23 ° C تھا ، جبکہ چین کے لئے 7 ° C تھا
ممکن ہے کہ ہندوستان میں اس وائرس کے پھیلاؤ کا امکان کم ہو کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ گرمی کے درجہ حرارت میں کرونا وائرس کا مرنے کے کچھ چانس موجود ہیں. سوم ، ہندوستان میں خدمات کا ایک بڑا شعبہ ہے جبکہ چین کا مینوفیکچرنگ کا ایک بڑا شعبہ ہے۔ سافٹ ویئر پروگرامنگ ، میڈیکل ٹرانسکرپشن ، اور آن لائن ٹیوشنز جیسی سروسز لاک ڈاؤن میں گھر میں رہ کر ہی مہیا کی جاسکتی ہیں جبکہ مینوفیکچرنگ میں لازمی طور پر متعدد کارکنوں کا اکٹھا ہونا ضروری ہے۔
تاہم ، ہندوستان کا یہ فائدہ جزوی طور پر منسوخ ہوگیا ہے کیونکہ ہم سیاحت جیسی خدمات برآمد کرتے ہیں جو گھر میں رہ کر فراہم نہیں کی جاسکتی ہیں۔ مزید یہ کہ ایک حالیہ سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکی کارپوریشنوں کا انفارمیشن ٹکنالوجی کے اخراجات میں کمی لانے کا منصوبہ ہے۔ ان روکاوٹوں کے باوجود خدمات کے شعبے میں ہندوستان کی طاقت ایک اثاثہ ہے۔
بھارت کے مقابلے میں چین کا امیج دنیا میں خراب ہوا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا سمجھتی ہے کہ کرونا وائرس وبا پھیلنے کا مرکز چین رہا ہے. اس کے باوجود ، چین اپنی فیکٹریوں کو تیزی سے دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس کی انتظامی کارکردگی نے کسی حد تک کرونا وائرس کے پھیلاؤ پت قابو پا لیا ہے اور اب وہاں روزانہ کی بنیاد پر سو سے بھی کم نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں جبکہ بھارت میں روزانہ ایک ہزار کے قریب نئے کیسزنکل رہے ہیں. اس کا مطلب یہ ہوا کہ چین میں درجہ حرارت بھی کم ہے اور زیادہ عمر والے افراد بھئ زیادہ ہیں لیکن بھارت میں اس سے الٹ ہونے کے باجود کرونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے.
چین نے لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل درآمد کرکے یہ کامیابی حاصل کی ہے جبکہ بھارتی حکومت ایسا ہی کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے. بھارت میں مزدور طبقہ ایک بہت بڑی تعداد میں لاک ڈاون کی وجہ سے شہروں سے گاؤں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گیا اور بھیڑ اکٹھی ہونے کی وجہ سے سماجی فاصلہ قائم نہیں رہ سکا. دوسرا بھارت میں مذہبی مقامات میں لوگوں کا اکٹھا ہونے سے بھی اس وبا پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. اس طرح چین کی مینوفیکچرنگ میں تیزی آرہی ہے جبکہ بھارت میں یہ کام رکا ہوا ہے۔ بھارت نے اپنی تمام صنعتوں کو اندھا دھند طریقے سے لاک ڈاؤن میں ڈال کر چین کو سامان برآمد کرنے کے مواقع دے چکا ہے۔ دنیا ہر طاقت ان سے سامان خریدے گی کیونکہ ہندوستان سمیت کوئی دوسرا ملک آج اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ دنیا کی طلب کو پورا کر سکے. سب سے اہم باتر یہ ہے کہ چین میں کاروباری لاگت بھی بھارت کی نسبت کم ہے.

یہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ کرونا وائرس وبا کے باوجود دنیا چین کے خلاف متحد نہیں ہو پائے گی. ماہرین ارضیات بار بار زلزلے اور بادل برسٹ جیسے مزید آفات کے بارے میں متنبہ کرچکے ہیں ، لیکن ان کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جارہا ہے تاکہ پن بجلی کمپنیوں کا کام جاری رہ سکے۔ اسی طرح ، عالمی میڈیا ، جو ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے وہ بھی قدرتی آفات کے بارے میں لوگوں کی سوچ کو سرمایہ دارانہ نظام کے حق میں بدلنے میں کامیاب رہے گا.
ہم جلد عالمی میڈیا میں سنیں گے کہ کرونا وائرس وبا سے دنیا کو جلد چھٹکارہ مل جائے گا .ایچ آئی وی اور سارس کے ساتھ رابطہ دب جائے گا۔ اس کے بعد ایم این سیز اپنا کاروبار چین کے ساتھ دوبارہ شروع کریں گے کیونکہ عالمگیریت عالمی منافع کمانے کے دروازے کھول دیتی ہے۔ جلد ہی دنیا کو یہ باور کروا دیا جائے گا کہ کرونا وائرس کا پھیلنا ایک “فطری” حادثہ تھا۔
دنیا کا چین کے خلاف جھکاؤ کا بھی امکان نہیں ہے کیونکہ وہ دنیا پر مالی طور پر حکمرانی کرتا ہے. چین واحد ملک ہے جس کے پاس سرمایہ وافر مقدار میں موجود ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ سب سے بڑاقرض لینے والا ملک ہے جبکہ چین خالص برآمد کنندہ ہے۔ چین طویل عرصے سے اپنی برآمدی آمدنی کو امریکی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے لئے استعمال کررہا ہے۔ 2019 میں اس نے رئیل اسٹیٹ میں 53 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس طرح ، اگر صدر ٹرمپ عالمی مالیاتی منڈیوں سے قرض لینا چاہتے ہیں تو ، اس کا ایک اچھا حصہ براہ راست یا بالواسطہ چین سے آئے گا۔ در حقیقت ، صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد چین امریکی ٹریژری بلوں کی کم مقدار خرید رہا ہے۔ لیکن اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ چین برطانیہ میں جو سرمایہ کاری کر رہا ہے وہی سرمایہ کاری برطانیہ امریکہ میں کر رہا ہے.
بھارتی حکومت اپنی ادائیگیوں میں توازن لانے کے لئے امریکہ کی غیر ملکی سرمایہ کاری پر انحصار کرتی ہے۔ ابھی حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنے عہدیداروں سے کہا کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کو راغب کرنے کے لئے کوئی طریقہ کار تیار کریں۔ ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ امریکی کمپنیاں جو بھارت میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں ان کا ایک بڑا حصہ چین سے آتا ہے. بھارت کو غیر ملکی سرمایہ کاری پر انحصار کم کرنا ہو گا اور برآمدات کو بڑھانا اور درآمدات کو گھٹانا ہوگا.
بھارت کو کرونا وائرس وبا سے فائدہ اٹھانا ہو گا اور اس کے لیے درج ذیل اقدامت کرنا ہوں گے.
سب سے پہلے بند فیکٹریوں کو کھولنا ہوگا اور خدمات کے شعبے کو بحال کرنا ہوگا اور اس امر کو یقینی بنانا ہو گا کہ مزدورں کو فیکٹریوں کی حدود میں رکھا جا سکے. تعلیم ، انصاف اور پی ڈبلیو ڈی جیسے شعبوں میں بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین جو گھر پر بیٹھے تنخواہ لے رہے ہیں ان کے ذمہ یہ کام لگانا چاہیے کہ وہ قرنطینہ کئے گئے علاقوں میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی مقررہ کئے گئے اصولوں کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا.
بھارت کو اپنی بچت کی شرح میں اضافہ کرنا ہوگا. چین نے اپنی جی ڈی پی میں تقریبا 45 فیصد کی بچت کی جبکہ بھارت میں یہی بچت 30 فیصد ہے۔ ہمارے سرکاری ملازمین کی اوسط تنخواہ 520 امریکی ڈالر سالانہ جبکہ میں چین میں اوسط سالانہ تنخواہ 984 ڈالر ہے.
سوم، بھارت کو غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر توجہ دینے کے بجائے اپنے پیسے کے اخراج کو روکنے پر توجہ دینی ہوگی.
چوتھا ، بھارت کو تیل پر ایکسائز ڈیوٹی میں چار گنا اضافہ کرنا چاہئے۔ مرکزی حکومت 23 روپے فی لیٹر کی شرح سے ہر سال تقریبا 4 4 لاکھ کروڑ روپئے وصول کررہی ہے۔ اس کو بڑھا کر 100 روپے فی لیٹر کیا جائے اور مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر کردی جائے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ بھارت میں تیل کی درآمد میں کمی آئے گی۔ اور اس سے بچنے والی رقم کو چین کے طرز پر امریکی رئیل اسٹیٹ خریدنے پر لگا دینی چاہیئے.
چین کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے بھارت کو جراتمندانہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے.

مظفر علی جنگ ایک سینئر صحافی، مورخ اور تجزیہ نگار ہیں. وہ عرصہ بیس سال سے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل کے لیے لکھ رہے ہیں. ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
muzaffar56@gmail.com

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

بیگم صفدراعوان کا ”ووٹ کو عزت دو“کا نعرہ دراصل ”مجھے لندن جانے دو“کی دہائی ہے‘ فیاض الحسن چوہان

بیگم صفدراعوان کا ”ووٹ کو عزت دو“کا نعرہ دراصل ”مجھے لندن جانے دو“کی دہائی ہے‘ …

Skip to toolbar