Breaking News
Home / بلاگ / جسم فروش عورتیں اور مردہ ضمیر سوداگر

جسم فروش عورتیں اور مردہ ضمیر سوداگر

مظفر جنگ

مشہور اردو کے افسانہ نگار غلام عباس نے ”آنندی” کے نام سے ایک افسانہ لکھا جس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ آیا پہلے شہر آباد ہوئے تھے یا قحبہ خانے اور اس میں کس طرح شہر کے عمائدین اکٹھے ہو کر شہر کی طوائفوں کے خلاف یہ فیصلہ صادر کرتے ہیں کہ یہ طوائفیں شہر کے چہرے پر بدنما دھبا ہے اور انہیں ہمارے درمیان رہنے کا کوئی حق نہیں. طوائفیں ہمیشہ لکھاریوں اورمصلحین کا موضوع رہی ہیں.
کون ان کے بارے میں کیسے سوچتا ہے اس سے ہٹ کر ایک بات جو مورخین سب مانتے ہیں کہ جسم فروشی اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ. اس کا آغاز کیسے ہوا اس کے بارے میں مختلف رائے ہیں لیکن اگر عام قیاس کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ شروع میں کسی مرد نے گوشت، اناج یا پھل کی خاطر عورت سے جنسی روابط کی کوشش کی ہو اور عورت نے بھوک یا لالچ میں اپنا جسم اس کے سپرد کیا ہو اور یوں ضرورت نے جنس کے لیے بارٹر سسٹم کا کام کیا یو۔
ہمارے دوست سینئر صحافی زاہد عکاسی مرحوم نے اپنی کتاب “ہیرامنڈی” میں لکھا ہے کہ رفتہ رفتہ جسم فروشی بھی قدیم مذاہب کا ایک اہم جز بن گئی اورجنسی تعلق کو بھی عبادت سمجھا جانے لگا۔یونان کے ایپی کورس یا بھارت کے بلبھ سوامی اور دام مارگی فرقے کے لوگوں میں جنسی اختلاط کو شکر نعمت اور عبادت کا درجہ قرار دیا ہے۔ جیسے مندروں میں دیوداسیاں رقص کر کے پروہتوں اور دوسرے لوگوں کا دل لبھاتیں بلکہ اسی طرح پیروں اور صوفیاء کے مزاروں میں طوائفیں مجروں کے ذریعے لوگوں کو نہ صرف خوش کرتیں بلکہ ثواب بھی کماتی۔
جسمم فروشی دنیا کا قدیم تریں پیشہ ہے۔ امریکہ کی عظیم خاتون مفکر آنڈریا ڈارکون نے آنی کتاب “کاما سترا” میں یہ سوال پوچھا کہ کیا اس پیشے کو مردانگی کے تصور کو تقویت پہنچانے کے لیے جاری رکھا؟ وہ مزید سوال اٹھاتی ہیں کہ “آج کل ایڈز کا چرچا ہونے کے باوجود اس مذموم پریکٹس کے موثر سدباب کے لیے کوئی تحریک کیوں نہیں اٹھائی گئی ؟ اخلاقیات کے بڑے بڑے مبلغین اور بڑے بڑے صالحین کو طوائف کے نام سے بدبو آتی ہے۔ دین، دھرم، حرم اور بھرم کے اجارہ دار یہ قطعاً نہیں سوچتے کہ طوائف بھی کسی کی ںیٹی، کسی کی بہن اور ماں ہے۔
نامور شاعرہ کشور ناہید اپنے ایک اخباری کالم نفسیات کی تشریحات میں رقم طراز ہیں: ” ہمارے ملک میں بظاہر طوائف خانے بند ہیں۔ مگر صرف ایک شام کسی بھی ویڈیو کی دوکان پر کھڑے ہو کر دیکھ لیں کہ کون کون کیا کیا لے کر جا رہا ہے تو سارے اشرافیہ کا پول کھل جائے گا۔
اخلاقیات کے مبلغین یہ نہیں سوچتے کہ عورت کو طوائف کس نے بنایا؟ اس سوال کا جواب خواجہ شفیع دہلوی نے اپنی کتاب “ناکام” میں اس کا جواب یوں دیا یے۔ “عقل انسانی نے جو سے بیئر (beer) بنائی، انگور سے شیمپین اور عورت سے رنڈی۔”
بازاری عورتیں سماج کی پیداوار ہیں۔اگر انہیں اچھا بنانا درکار ہے تو سارے جسم کے نظام کو درست کرنا ہو گا۔
برصغیر کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو لکھتے ہیں: کیا وجہ ہے کہ عورتوں کا جسم بیچنا حیرت اور نفرت سے دیکھا جاتا ہے۔ایسی عورتوں کا وجود ہرگز ہرگز حیرت یا نفرت انگیز نہیں۔ ویشیا پیدا نہیں ہوتی بنائی جاتی ہے جس چیز کی مانگ ہو گی منڈی میں ضرور آئے گی۔ مرد کی نفسانی خواہشات کی مانگ عورت ہے خواہ وہ کسی شکل میں ہو۔
طوائف کو کوئی قبول نہیں کرتا وہ ہمیشہ عصمت باختہ ہی کہلاتی یے لیکن اس کے مقابلے میں مرد سیاہ کاریوں، گناہوں اور ہوس پرست ہو کر بھی پوتر اور غیرت مند ہی رہتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ کبھی طوائفوں کے کوٹھے اور ڈیرے ادب اور تہذیب کے گڑھ ہوا کرتے تھے۔ شہزادے اور نوابین وہاں کبھی زبان اور تہذیب و شائستگی سیکھنے آتے تھے۔
بقول احمد فراز
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
مفکر اسلام سر سید احمد خان نے درسگاہ کے قیام کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے طوائفوں کے کوٹھوں کے دروازوں پر بھی دستک دی تھی۔ انقلاب فرانس میں پہلی گولی پیرس کی ایک طوائف نے اپنے سینے پر کھائی تھی۔ امرتسر کے جلیانوالہ باغ کے خونیں حادثہ کی ابتدا جس پہلے نوجوان شہید کے خون سے ہوئ وہ بھی ایک طوائف کا بیٹا تھا۔
مزدور اور طوائف کی حالت زار ایک جیسی ہے۔ مزدور زندہ رہنے کے لیے اپنی محنت بیچتا ہے اور طوائف اپنا جسم۔ یہ تو اپنی اپنی بقا کا مسئلہ ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھئے ہر عورت کسبی نہیں ہوتی بلکہ ہر کسبی عورت ہوتی ہے۔
جب یہی عورت اپنے پیشے کا لباس اتار کر رشتوں کے تقدس کی تشنگی محسوس کرتی ہے تو پھر مرد کی غیرت جاگ جاتی ہے ۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

بیگم صفدراعوان کا ”ووٹ کو عزت دو“کا نعرہ دراصل ”مجھے لندن جانے دو“کی دہائی ہے‘ فیاض الحسن چوہان

بیگم صفدراعوان کا ”ووٹ کو عزت دو“کا نعرہ دراصل ”مجھے لندن جانے دو“کی دہائی ہے‘ …

Skip to toolbar