Breaking News
Home / بلاگ / تبلیغی جماعت کو دہشتگرد تنظیم ثابت کرنے کی مزموم کوشش

تبلیغی جماعت کو دہشتگرد تنظیم ثابت کرنے کی مزموم کوشش

بھارت کا تبلیغی جماعت کے خلاف منظم پروپیگنڈا
مظفر جنگ
اکیسویں صدی انسان کی عمومی سوچ کو بدل رہی ہے ۔انسان کا رہن سہن اور سچائیوں کا معیار بھی بدل رہا ہے۔ کرونا وائرس کی وبا نے جہاں سماجی نظام پرگہرا گھاو¾ لگایا ہے وہاں پر فرسودہ معاشی اور مذہبی نظام کو بھی بدل رہا ہے۔ لوگ مسالک اورمذہب کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔کرونا وائرس کے پھیلاو¾ میں سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ مذہبی طبقات بن رہے ہیں۔ پاکستان میں ایک گروہ الزام لگا رہا ہے کہ کرونا وائرس شعیہ زائرین کے ذریعے ملک کے طول و عرض میں پھیلا ہے اور شعیہ مسلک سے وابستہ لوگ عمرہ زائرین اور تبلیغی جماعت کو نشانہ مشق بنا رہے ہیں۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اپنے کھلے خط میں لکھا ہے کہ تبلیغی جماعت کا لاوارث نہ سمجھا جائے اور اسکو تنقید کا ہدف بنانے سے باز رہا جائے ۔تمام قرطینہ میں رکھے تبلیغیوں کو رہا کیا جائے۔ ایسے میں ہٹ کر کچھ لوگ یہ آواز بھی بلند کر رہے ہیں کہ اگر مستقل نہیں تو عارضی طور پر تبلیغی جماعت پر پابندی لگا دی جائے۔یہ آواز پاکستان تک محدود نہیں رہ گئی اب بھارت سرکار اور دائیں بازو کی سوچ والے اور مذہبی ہندوتوا کے لوگ بھی کھل کر کہہ رہے ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک سمیت بھارت میں بھی کرونا وائرس تبلیغی جماعت کے ذریعے پھیلا۔ بھارت میں کچھ حلقے یہ بھی سر عام کہہ رہے ہیں کہ تبلیغی جماعت دنیا میں دہشتگردی بھی پھلارہی ہے۔ بھارت کا سابق انٹیلیجنس آفیسر اور سیکورٹی امور کا ماہر بی۔رمن جو اب اس دنیا میں نہیں رہا اپنے مختلف آرٹیکلز میں یہ لکھتا رہا ہے کہ پاکستان تبلغی جماعت کی آڑ میں دیگر مسلم ممالک میں اپنے سلیپنگ سلز بناتا رہا ہے۔بی۔رمن کا خیال ہے کہ نوے کے دھائی میںدہشتگرد تبلیغی جماعت میں شامل ہو کر دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کرتے رہے ہیں جہاں وہ نوجوانوں کو تبلیغ کے ذریعے جہادی کارروائیوں پر قائل کرتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے بھارت میں کرونا وائرس کو لے کر میڈٰیا میں باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت تبلیغی جماعت کا رابطوں کو حرکت المجاہدین ، حرکت الجہاد الاسلامی اور لشکر طیبہ کے ساتھ جوڑ کر تبلیغی جماعت کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر مستقل طور پر پابندی لگانے کی بات کی جا رہی ہے۔
پاکستان میں بھی ایک طبقہ ایسا ابھر کر سامنے آیا ہے جو یہ چاہ رہا ہے کہ تبلیغی جماعت پر مستقل پابندی لگا دی جائے۔ ایک طبقہ جو روز اول سے ہی مذہب کے خلاف ہے ان کو کرونا وائرس کی آڑ میں مذہب اور مذہبی لوگوں پر تنقید کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ جب سے مولانا طارق جمیل صاحب نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں وزیر اعظم عمران خان کے حق میں دعا کروائی ہے تب سے پاکستان مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی سمیت کچھ ایک مخصوص میڈیے سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے بھی تبلیغی جماعت کے خلاف سوشل میڈیا میں جنگ شروع کر دی ہے۔ان کا عمومی طرز عمل یہ ہے کہ مولانا طارق جمیل نے عمران خان کی حمایت کر کے تبلیغی جماعت کو متنازعہ بنا دیا ہے اور تبلیغی جماعت کے اکابرین کو فوری طور پر مولانا طارق جمیل کو جماعت سے الگ کر دینا چاہیے۔
تبلیغی جماعت کے اکابرین خاص طور پر جن کا تعلق بنگلہ دیش اور پاکستان سے ہے انہیں دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کو دیکھ کر اپنی سوچ میں تبدیلی لانی ہو گی۔ انہیں اپنے رویوں میں لچک پیدا کرنی ہو گی اور انہیں سننا ہو گا حکومت، ادارے اور دنیا کرونا وائرس کے پھیلاو¾ روکنے کے لیے جو اقدامات کر رہے ہیں انہیں تسلیم کرتے ہوئے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلانا ہوگا۔انہیں یہ سوچ بدلنی ہو گی کہ کرونا وائرس کسی سازش کے ذریعے اسلام یا خاص طور پر ان جماعت کا نشانہ بنانے کے لیے پھیلایا جا رہا ہے۔ انہیں اپنے لوگوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ حکومت اور صحت سے وابسطہ ادارے جو گائیڈلائن دے رہے ہیں ان پر من وعن عمل کرنا چاہیے۔انہیں یہ بات ذہن نشین کرانی ہوگی کہ یہ تصور کہ” وہ تبلیغ کرتے ہوئے کرونا وائرس سے اگر ہلاک ہو بھی جائیں تو وہ شہید ہو کر سیدھے جنت میں چلے جائیں گے“ مکمل سچ نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی بے احتیاطی سے لوگوں میں وائرس منتقل کر کے انہیں موت کی دہلیز پر پہنچا رہے ہیں۔


مظفر علی جنگ ایک سینئر صحافی، مورخ اور تجزیہ نگار ہیں. وہ عرصہ بیس سال سے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل کے لیے لکھ رہے ہیں. ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
muzaffar56@gmail.com

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

شام کے 93 لاکھ شہریوں کو اس موسم سرما میں خوراک کی بڑھتی ہوئی کمی کا سامنا ہے،اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔ 29 نومبر (ڈیلی پاکستان آن لائن ): شام کے 93 لاکھ شہریوں کو …

Skip to toolbar