Home / انٹر نیشنل / بنگلہ دیش میں خاتون جج کو عصمت دری پر متنازعہ ریمارکس دینے پر برطرف کر دیا گیا

بنگلہ دیش میں خاتون جج کو عصمت دری پر متنازعہ ریمارکس دینے پر برطرف کر دیا گیا

بنگلہ دیش میں خاتون جج کو عصمت دری پر متنازعہ ریمارکس دینے پر برطرف کر دیا گیا

ڈھاکا (ڈیلی پاکستان آن لائن)بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے ایک خاتون جج کو عدالتی فرائض سے فارغ کر دیا ہے جب اس نے اپنے فیصلے میں ایک متنازع ریمارکس دیا تھا کہ پولیس کو جرم کے ارتکاب کے 72 گھنٹے بعد ریپ کا مقدمہ درج نہیں کرنا چاہیے۔ڈھاکہ کے ساتویں خواتین اور بچوں کے جبر کی روک تھام کے ٹربیونل کی جج بیگم مسمات کامرانہ ہار نے 2017 کے ایک مقدمے میں یہ متنازعہ بیان لکھا تھا جس میں پانچ نوجوانوں پر ڈھاکہ کے بنانی علاقے کے ایک اعلی درجے کے ہوٹل میں یونیورسٹی کی دو طالبات کو مبینہ طور پر ریپ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے ترجمان محمد سیف الرحمان نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ جج کامرانہ ہار کو ان کی عدالتی ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جج کو معطل کرنے کا فیصلہ دیگر سینئر ججوں کی مشاورت سے کیا گیا۔سپریم کورٹ نے آج وزارت قانون کو خط بھیجا کہ عدالتی اختیارات عارضی طور پر منسوخ کر کے انہیں ان کے موجودہ کام کی جگہ سے واپس لے کر وزارت قانون کے محکمہ قانون و انصاف کو سونپ دیا جائے۔11 نومبر کو ہونے والی سماعت کے دوران جج کامرانہ ہار نے عدم ثبوت کا حوالہ دیتے ہوئے پانچوں ملزمان کو بری کر دیا۔محترمہ جج نے اپنے ریمارکس میں لکھا تھا کہ پولیس افسر نے عوام کا وقت ضائع کیا اور جرم کے 72 گھنٹے بعد ریپ کا کوئی مقدمہ درج نہیں ہونا چاہیے۔ جج نے مزید کہا کہ “یہ ثابت ہوا کہ یونیورسٹی کے طلبا نے واقعے سے پہلے رضامندی سے جنسی تعلقات قائم کیے تھے۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

بائیڈن 2024 میں بھی صدارتی الیکشن لڑیں گے، ترجمان وائٹ ہاوس جین ساکی

بائیڈن 2024 میں بھی صدارتی الیکشن لڑیں گے، ترجمان وائٹ ہاوس جین ساکی واشنگٹن (ڈیلی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar