Breaking News
Home / پاکستان / بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربارہ اختر مینگل نے حکومتی اتحاد کو خیرباد کہہ دیا

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربارہ اختر مینگل نے حکومتی اتحاد کو خیرباد کہہ دیا

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربارہ اختر مینگل نے حکومتی اتحاد کو خیرباد کہہ دیا

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے حکومت سے اتحاد ختم کردیا ہے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ آج تحریک انصاف سے اتحاد توڑتے ہوئے دکھ ہورہا ہے تاہم حکومت کی جانب سے ہم سے کئے گئے وعدے وفا نہ کرنے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔

اختر مینگل نے کہا کہ حکمران جماعت نے ہمارے ساتھ لاپتہ افراد اور بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے معاہدہ کیا لیکن ان پر عملدرامد نہیں کیا گیا اور آج بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ جوں کا توں ہے لہذا آج باضابطہ طور پر وفاقی حکومت سےاتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا جارہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس معاہدہ پر شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور یار محمد رند کے دستخط ہیں۔ اختر مینگل نے کہا کہ ہم کوئی کالونی نہیں، ہمیں اس ملک کا شہری سمجھا جائے،ہم نے دو سال انتظار کیا، ابھی بھی وقت مانگا جارہا ہے۔اخترمینگل نے یہ بھی بتایا کہ ایک لڑکی جس کا بھائی 4 سال سے لاپتہ ہے، اس نے احتجاج کرتے کرتے خود کشی کرلی۔

صوبے سے متعلق انھوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، ہم نے سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی، ہمارے نکات سے بلوچستان کے تمام مسائل حل نہیں ہوتے لیکن ساتھ لے کر تو چلا جاتا۔

انھوں نے یہ بھی شکوہ کیا کہ آج تک بتائیں کہ بلوچستان پر پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفکیشن ہوا تھا اور اگر ہوا تو کیا ایک میٹنگ بھی بلائی گئی یا ٹی او آرز بنائے گئے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ گوادر کے ماہی گیروں کے ساتھ تو تعاون کیا جائے،آئی ڈی پی کیمپوں میں جاکر پوچھا جائے کہ کون ذمہ دار ہے۔

پی ٹی آئی سے تعلق پر اختر مینگل نے کہا کہ ہم نے حکمرانوں سے ہاتھ ملایا، جب بھی ووٹ مانگا دیا لیکن آپ نے کیا دیا۔انھوں نے انکشاف کیا کہ ہم پر الزام لگایا جارہا ہے کہ ہم 10 ارب روپے میں بک گئے، آپ کو بلوچستان کا پورا حصہ دینا ہوگا، آج نہیں تو کل دینا ہوگا،بلوچستان آپ کا قرض دار نہیں،حساب کرلیں تو آپ کا ایک ایک بال بلوچستان کا قرض دار ہوگا۔

اختر مینگل نے یہ نکتہ اٹھایا کہ بوسنیا اور فلسطین کےلئے احتجاج کرتے ہیں، ٹماٹر ، چینی پر بحث ہوتی ہے لیکن بلوچستان کے لوگوں کے خون پر بات نہیں ہوتی۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا بلوچستان کے لوگوں کے خون کا رنگ ٹماٹر سے زیادہ سرخ نہیں ہے اس لئے اس پر بات نہیں کرتے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کو کالونی سمجھتے ہیں اور ہمارے ساتھ وہی ہورہاہے جو غلاموں کے ساتھ ہوتاہے۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

حکومت پاکستان دسمبر 2022تک پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لئے کوشاں ہے، امین الحق

اسلام آباد۔ 23نومبر (ڈیلی پاکستان آن لائن ) :وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی …

Skip to toolbar