Home / انٹر نیشنل / برطانیہ میں کروانا وائرس سے مسلمان ہی سب سے زیادہ کیوں ہلاک ہوئے؟ خوفناک اعداد و شمار جاری

برطانیہ میں کروانا وائرس سے مسلمان ہی سب سے زیادہ کیوں ہلاک ہوئے؟ خوفناک اعداد و شمار جاری

برطانیہ میں کروانا وائرس سے مسلمان ہی سب سے زیادہ کیوں ہلاک ہوئے؟ خوفناک اعداد و شمار جاری

کورونا وائرس سے مسلمانوں، یہودیوں، ہندووں اور سکھوں کے مرنے کی شرح عیسائیوں اور ایسے افراد کے مقابلے میں زیادہ ہے جن کا کوئی مذہب نہیں

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانوی اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں کورونا وائرس سے مسلمانوں، یہودیوں، ہندووں اور سکھوں کے مرنے کی شرح عیسائیوں اور ایسے افراد کے مقابلے میں زیادہ ہے جن کا کوئی مذہب نہیں ہے۔

عرب ٹی وی نے برطانوی شماریات آفس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیاہ فام اور دیگر اقلیتی گروپوں میں وبا سے اموات کی شرح سفید فام افراد سے زیادہ ہے۔

برطانوی شماریات آفس کے مارچ کے آغاز سے 15 مئی تک کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا سے مسلمانوں کی شرح اموات کسی بھی دوسرے اقلیتی گروپ سے زیادہ ہے۔

مسلمانوں کے بعد یہودیوں، ہندووں اور سکھوں میں بھی وائرس سے مرنے کی شرح زیادہ دیکھی گئی ہے۔

اس رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف نسل کے افراد میں کورونا کی وبا سے مرنے کی شرح بھی مختلف ہے۔

اموات کی شرح میں فرق کی وجہ مختلف مذہبی گروپوں کے رہن سہن کے طور طریقوں کا مختلف ہونا ہے، مثال کے طور پر ان گروپوں کے معاشی اور معاشرتی حالات، ثقافت اور دیگر عادات اور رسوم و رواج بھی ایک دوسرے سے الگ ہیں۔

برطانوی شماریات آفس میں لائف ایونٹس کے سربراہ نِک سٹرائپ کا کہنا ہے کہ یہودی مردوں میں وائرس سے مرنے کا خطرہ عیسائی مردوں کے مقابلے میں دو گنا ہے۔ اسی طرح یہودی خواتین میں بھی یہ خطرہ زیادہ پایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی وضاحت کے لیے مزید تحقیق کی بھی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسلمان مردوں میں اموات کی یہ شرح ایک لاکھ میں 98 اعشاریہ نو فیصد اور مسلمان خواتین میں 98 اعشاریہ 2 فیصد ہے۔

اس کے مقابلے میں برطانیہ میں ( 2011 کی مردم شماری کے مطابق) وہ افراد جو کہتے ہیں کہ ان کا کوئی مذہب نہیں ان میں اموات کی شرح ایک لاکھ میں سے 80 اعشاریہ 7 فیصد جبکہ خواتین میں 47 اعشاریہ 9 فیصد ہے۔

یہ رپورٹ اس قسم کے دیگر اعداد و شمار کی بھی تصدیق کرتی ہے جن کے مطابق برطانیہ اور ویلز میں سیاہ فام اور ایشیائی افراد کورونا کی وجہ سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سیاہ فام افراد کے مرنے کی شرح سب سے زیادہ ہے جو کہ ایک لاکھ میں 255 اعشاریہ 7 اموات بنتی ہے جبکہ سفید فام افراد میں یہ شرح ایک لاکھ میں سے 87 اموات بنتی ہے۔

اسی طرح سیاہ فام خواتین میں ایک لاکھ میں اموات کی شرح 119 اعشاریہ 8 بنتی ہے جبکہ سفید فام خواتین میں یہ شرح ایک لاکھ میں صرف 52 اموات ہے۔رواں ماہ کے آغاز میں ایک سرکاری سٹڈی کے مطابق سیاہ فام اور ایشیائی افراد کا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد مرنے کا خدشہ 50 فیصد تک ہوتا ہے۔نِک سٹرائپ کے مطابق یہ نمایاں فرق بنگہ دیشی، پاکستانی اور انڈین مردوں میں موجود ہے۔

User Rating: 2.8 ( 1 votes)

About Daily Pakistan

Check Also

بائیڈن 2024 میں بھی صدارتی الیکشن لڑیں گے، ترجمان وائٹ ہاوس جین ساکی

بائیڈن 2024 میں بھی صدارتی الیکشن لڑیں گے، ترجمان وائٹ ہاوس جین ساکی واشنگٹن (ڈیلی …

Skip to toolbar