Breaking News
Home / بزنس / امریکہ میں ریٹلرز کا بزنس شدید بحران کا شکار، لاکھوں افراد کا مزید بے روزگار ہونے کا خدشہ

امریکہ میں ریٹلرز کا بزنس شدید بحران کا شکار، لاکھوں افراد کا مزید بے روزگار ہونے کا خدشہ

مظفر جنگ

کرونا وائرس وبا کی وجہ سے امریکہ اس وقت بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور یہ بحران ہر نئے دن کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے. جہاں بڑی بڑی مینوفیکچرنگ کمپنیاں دیوالیہ پن کا شکار ہو رہی ہیں وہاں اب ریٹلرزسے وابسطہ کاروبار بھی تیزی سے بند ہو رہے ہیں. حال ہی میں کپڑوں کے مشہور امریکی ”جے کریو” نے دیوالیہ پن کے لئے درخواست دائر کی ہے. ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس ورکرز کی نوکریوں کو نگل رہا ہے وہاں ”یو ایس اسٹیل” اور ”جی ای ایوی ایشن” بھی ملازمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے. کوئی ایسا شعبہ ہائے زندگی نہیں بچا جہاں ملازمتوں میں کمی یا کاروبار کی بندش کا سامنا نہ ہو.
ٹرمپ انتظامیہ ان برے حالات میں کاروبار کو دوبارہ شروع کرنے جا رہی ہے اور لوگ بھی سماجی فاصلوں کو برقرار رکھنے کو تیار نہیں ایسے میں بیماریوں کے کنٹرول کے مراکز نے اپنی ایک رپورٹ میں جو حال ہی میں نیویارک ٹائمز میں چھپی ہے یہ تنبیہ کی ہے کہ اس نے پیش گوئی کی ہے کہ یکم جون تک امریکی یومیہ موت کی شرح 3،000 تک پہنچ جائے گی جب کہ یہ وائرس کم شہری علاقوں میں پھیلتا ہے جس پر پہلے صرف ہلکا اثر پڑا تھا. امریکی معیشت کی بدستور خرابی سے صحت کا بحران بڑھتا جارہا ہے.
3 کروڑ سے زائد امریکیوں نے بے روزگاری الاؤنس کے لیے خود کو رجسڑڈ کروایا ہے جبکہ لاکھوں ایسے افراد بھی ہیں جو کچھ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے خود کو رجسٹرڈ نہیں کروا سکے.
کپڑوں کے مشہور امریکی ”جے کریو” نے 4 مئی کو دیوالیہ پن کے قانون کے باب 11 کے تحت اپنا کیس فائل کیا ہے اور یہ پہلی امریکی ریٹلرزہے جو دیوالیہ پن کے لیے جا رہی ہے جبکہ مبینہ طور پر ”نییمن مارکس” اور ”جے سی پینی” نقد رقم اکٹھا کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر جے کریو کی مثالوں کی پیروی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
دریں اثنا ، امریکی اسٹیل نے جمعہ کے روز ایک فائلنگ میں کہا ہے کہ وہ 6،500 سے زیادہ ملازمین کی چھٹی کی تیاری کر رہی ہے ، حالانکہ اسے پہلے توقع تھی کہ اس کی موجودہ تعداد 27،500 میں سے تقریبا 2700 ملازمین ہی متاثر ہوں گے.
پیر کے روز ، جنرل الیکٹرک نے کہا کہ اس نے اپنے ہوابازی ڈویژن میں عالمی افرادی قوت کو 25 فیصد کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ، جس سے شاید 13،000 ملازمتوں پر اثر پڑے گا۔جی ای نے کہا کہ یہ کٹوتی مستقل رہی گی کیونکہ اسے ہوائی سفر میں طویل معاشی کساد بازاری کی توقع ہے۔
اس زبردست معاشی بحران کی وجہ سے ریاست اور مقامی حکومتیں زبردستی کٹوتی کے لئے تیاری کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں کیونکہ ٹیکس کی آمدنی میں کمی آرہی ہے۔
شہروں کی نیشنل لیگ کے ایک تخمینے کے مطابق ، سرکاری شعبے کے 300،000 سے 10 لاکھ کارکنوں کو نکالا جاسکتا ہے ، جس سے تعلیم ، صفائی ، عوامی تحفظ اور صحت جیسے شعبے متاثرہو سکتے ہیں.
ڈیٹرایٹ شہر نے پہلے ہی کام کرنے کے اوقات کو کم کردیا ہے یا پھر 3000 مزدوروں کو طویل رخصتی پر بھیج دیا ہے. شہر لاس اینجلس میں 2020-21 کا بجٹ میں یہ تجویزپیش کی گئی ہے جس میں 15،000 ملازمین کی طویل رخصتی پر بھیج دیا جائے.
چھوٹے کاروبار کے لئے معاون پلیٹ فارم گوسٹو کے تجزیہ سے پتا چلا کہ نوجوان اور کم اجرت والے مزدور معاشی بدحالی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں.
امریکی حکومت غریب اور کم اجرت کمانے والوں کو کسی بھی طرح کا ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہے اور اس کا سارا معاشی ریلیف پیکج امراء کی جبیں بھرنے تک ہی محدود ہے.
لاکھوں افراد ایسے بھی ہیں جنہیں ابھی تک یک وقتی 1200$ ریلیف کی مد میں بھی نہیں ملے اور وہ روز لمبی قطاروں میں لگ کر ناکام واپس آ جاتے ہیں. حکمران طبقہ بڑھتی ہوئی معاشی پریشانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے تاکہ مزدوروں کو کارخانوں سے نکال کر کارپوریشنوں کو منافع کمانے کا موقع مل سکے. کارکنوں کو ان غیر انسانی قدامات کی مخالفت کرنی چاہیئے.
حکومت کو چاہیئے کہ وہ سرمایہ داروں کے وسائل کو سرکاری قبضے میں لے کر کرونا وائرس وبا کو قابو پانے اور ورکرز کو ریلیف دینے کے لیے مختص کرے.

مظفر علی جنگ ایک سینئر صحافی، مورخ اور تجزیہ نگار ہیں. وہ عرصہ بیس سال سے اردو اور انگریزی اخبارات اور رسائل کے لیے لکھ رہے ہیں. ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
muzaffar56@gmail.com

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال

کور کماندرز کانفرنس ،جیواسٹریٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال امن کےلئے …

Skip to toolbar