Home / انٹر نیشنل / اسرائیل کو خرطوم میں سفارتخانہ کھولنے کی اجازت نہیں دی، سوڈانی وزیر خارجہ

اسرائیل کو خرطوم میں سفارتخانہ کھولنے کی اجازت نہیں دی، سوڈانی وزیر خارجہ

اسرائیل کو خرطوم میں سفارتخانہ کھولنے کی اجازت نہیں دی، سوڈانی وزیر خارجہ
خرطوم (ڈیلی پاکستان آن لائن) سواڈان اور اسرائیل کے مابین تعلقات معمول پر آنے کے باوجود سوڈانی حکومت نے خرطوم میں اسرائیل کو اپنا سفارتخانہ کھولنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوڈان کی وزیر خارجہ مریم الصادق المہدی نے دبئی سے نکلنے والے موخر انگریزی اخبار ”دی نیشنل” کو انٹرویودیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سوڈان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ کسی سرکاری سطح پر قسم کے مذاکرات نہیں کررہی اور نہ ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے کے کوئی آثار دکھائی دیتے ہیں۔ میں آپ کو وزیر خارجہ کی حیثیت سے یہ بتا رہی ہوں اسرائیل کے بائیکاٹ سے متعلق قانون کو ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم خرطوم میں اسرائیلی سفارت خانہ کھولنے پر غور کررہے ہیں۔ مریم الصادق المہدی سوڈان کے سابق وزیراعظم مرحوم الصادق المہدی کی صاحبزادی ہیں جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی سخت مخالف ہیں۔ 23اکتوبر 2020کو سوڈان کی حکومت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عرب اسرائیل منصوبے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کیا تھا۔اس اعلان کے بعد سوڈان متحدہ عرب امارات اور بحرین کے بعد تیسرا عرب ملک بن گیا جو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر نے پر تیار تھا۔ موجودہ سوڈانی کابینہ نے اپریل میں اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کا قانون منسوخ کر دیا تھا۔ سوڈان نے اس وقت کہا تھا کہ نارملائزیشن کے معاہدے کو اس کی پارلیمنٹ کی توثیق درکار ہے جو ابھی تک عبوری عمل کے تحت قائم نہیں ہو سکی ہے۔مریم الصادق کا کہنا تھا موجودہ پارلیمنٹ کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے قانونی کارروائی کرنا ہو گی۔ 26 ستمبر 2020 کو سوڈان کے وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک نے کہا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ سوڈان کا نام دہشتگردی کی لسٹ سے اسی صورت نکل سکتا ہے جب وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کریں گے ، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسی کوئی بھی شرط ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔ وزیرخارجہ مریم الصادق المہدی کا کہنا تھا کہ امریکہ اور مغرب سوڈان کو رعایت اسی صورت دینے کو تیار ہے جب اسرائیل کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات قائم ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم ڈبلیو ٹی او کے رکن بننے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی شرائط میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ رکن ممالک کے درمیان بائیکاٹ نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ آزادنہ تعلقات قائم کریں اور کاروباری شراکت داری کریں۔ سوڈان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور عوام اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے امریکی دبا کے سامنے اپنی حکومت کے ہتھیار ڈالنے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

ایک سال تک تین بھائی کمرے میں اپنے بھائی کی لاش کے ساتھ رہے، والدین گرفتار

ایک سال تک تین بھائی کمرے میں اپنے بھائی کی لاش کے ساتھ رہے، والدین …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar