Home / پاکستان / اخبارات کو آج سے ہی ادائیگیاں شروع کر رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات کا اعلان

اخبارات کو آج سے ہی ادائیگیاں شروع کر رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات کا اعلان

پالیسی کے تحت ریجنل کوٹہ پر عمل کریں گے، اخباری اداروں اور صحافیوں کے مسائل حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، سینیٹر شبلی فراز

جرائد و رسائل اور خبر رساں ایجنسیوں کے لئے فنڈز اور اشتہاراتی پیکیج دیا جائے، سی پی این ای عہدیداروں کا مطالبہ

عارف نظامی کی قیادت میں سی پی این ای کے عہدیداروں نے وفاقی وزیر اطلاعات سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات کی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اخبارات کو آج سے ہی ادائیگیاں شروع کر رہے ہیں جس سے میڈیا صنعت اور اس سے وابستہ افراد کو ریلیف ملے گا ، پالیسی کے تحت ریجنل کوٹہ پر عمل کریں گے۔

یہ اعلان وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے پیر کوکونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)کے عہدیداروں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات میں کیا۔ سی پی این ای کے وفد کی قیادت سی پی این ای کے صدر عارف نظامی نے کی جبکہ اس موقع پر وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات اکبر حسین درانی اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر شاہیرہ شاہد نے بھی خصوصی شرکت کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے سی پی این ای کو بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق پر کامل یقین رکھتی ہے ۔ حکومت صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے مسائل کا حل بھی ہماری اولین ترجیح ہے ۔ اخبارات و جرائد کے تمام مسائل سی پی این ای سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت اور اتفاق رائے کے ساتھ حل کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن (اے بی سی)کے معاملات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور اے بی سی کے سلسلے میں جاری شدہ حالیہ سرکلر صرف ریجنل نہیں بلکہ تمام اخبارات کے لئے ہے، ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے ذریعے جاری شدہ اشتہارات کی ادائیگیوں کے ضمن میں 85 فیصد براہ راست اخبارات کو جبکہ 15 فیصد ایجنسی کو ملنے چاہئیں، ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ ہم ایسا نظام وضع کرنا چاہتے ہیں جس سے آئندہ عدم ادائیگیوں کے مسائل پیدا نہ ہوں اور واجبات بھی اشتہارات کے اجرا کے ساتھ ساتھ ادا ہوتے جائیں مزید برآں واجبات کی ادائیگی کو صحافیوں اور دیگر میڈیا ورکرز کی تنخواہوں سے بھی منسلک کیا جائے۔ وفاقی وزیر نے خبر رساں ایجنسیوں کے لئے پارلیمنٹ سے منظور شدہ بجٹ کو بھی جلد جاری کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

قبل ازیں سی پی این ای کے صدر عارف نظامی نے وفاقی وزیر کو میڈیا سے متعلق مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو آزادہ صحافت سے متعلق شدید خطرات کا سامنا ہے۔ شدید مالی بحران نے ان خطرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ سرکاری اشتہارات کا کوانٹم بھی انتہائی کم ہو گیا ہے ۔ وفاقی وزیر شفقت محمود سے گزشتہ میٹنگ میں میڈیا کو فوری طور پر واجبات کی ادائیگیوں کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن پرنٹ میڈیا کو تاحال ادائیگیاں نہیں ہوئیں، مزید برآں یہ بھی طے پایا تھا کہ اخبارات و جرائد کو ہر ماہ ایک ارب روپے کے اشتہارات دیئے جائیں گے لیکن اس کے برعکس درمیانے اور ریجنل اخبارات کا پہلے سے مختص اشتہاراتی کوٹہ ہی ختم کر دیا گیا ہے۔

سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے اشتہارات کی تقسیم میں 25فیصد کوٹہ کے خاتمے اور درمیانے، چھوٹے اور علاقائی اخبارات کے لئے اشتہارات کی بندش پر بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی اور ریجنل اخبارات میڈیا سے متعلق انسانی وسائل کی ترقی کے لئے نرسری کی حیثیت رکھتے ہیں جس طرح چھوٹے اداروں، سمال و میڈیم انٹرپرائزز کی صنعت میں اہمیت ہوتی ہے اسی طرح میڈیا کے شعبے میں بھی چھوٹے ، درمیانے، مقامی اور ریجنل اخبارات کی کلیدی اہمیت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اشتہارات کی ہمہ گیر اور وسیع پیمانے پر تشہیر اور اشاعت سے عوام کے رائٹ ٹو انفارمیشن کے بنیادی حق کی نہ صرف تکمیل ہوتی ہے بلکہ ترقیاتی اور دیگر سرکاری منصوبوں کی افادیت سے عوام کو آگاہی بھی فراہم ہوتی ہے نیز شفافیت اور احتساب کے عمل کو بھی تقویت ملتی ہے، لہذا ریاست اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ علاقائی، مقامی، درمیانے اور چھوٹے اخبارات کی غیر معمولی حوصلہ افزائی کرے۔

نائب صدر سردار خان نیازی نے سرکاری اشتہارات کی منصفانہ اور عادلانہ تقسیم پر زور دیتے ہوئے اخبارات و جرائد کو براہ راست ادائیگیاں کرنے سے متعلق حکومتی نوٹی فکیشن پر من و عن عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔ نائب صدر اکرام سہگل نے تجویز دی کہ وزیر اعظم کے احساس پروگرام میں کم تنخواہوں والے صحافیوں اور میڈیا ملازمین کو بھی شامل کیا جائے۔نائب صدر انور ساجدی نے کہا کہ بلوچستان کے اخبارات کو انتہائی نظرانداز کیا جا رہا ہے جبکہ لاک ڈان کے سبب ٹرانسپورٹ کی بندش اور اخبارات کی ترسیل کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے اخباری صنعت جو پہلے سے شدید دبا میں تھی اب قریب المرگ ہو چلی ہے۔

سی پی این ای کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر محمود نے جرائد و رسائل کے مسائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ جرائد و رسائل پرنٹ میڈیا کا وہ اہم جزو ہیں جنہوں نے ملک میں جمہوریت کی بقا، ادب اور میڈیا لٹریسی میں اضافہ کے لئے انتہائی اہم کردار ادا کئے ہیں، موجودہ حالات میں جرائد و رسائل گزشتہ دو ماہ سے عدم اشاعت کی وجہ سے انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہیں جبکہ حکومتی اشتہاراتی کوٹہ میں 5فیصد جرائد و رسائل کے لئے مختص ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جرائد و رسائل کے لئے فوری طور پر اشتہارات جاری کرے اور خصوصی پیکیج کے ذریعے انہیں بندش سے بچایا جائے اور ملازمین کو بیروزگاری سے بچایا جا سکے۔

سابق سیکریٹری جنرل اعجازالحق نے حکومت کی جانب سے ریجنل اخبارات کی سرکولیشن کے ضمن میں جاری امتیازی کارروائی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تمام اخبارات کے لئے یکساں اصول وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔ جوائنٹ سیکریٹری طاہر فاروق نے خیبرپختونخوا کے علاقائی اخبارات وجرائد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس صنعت سے سینکڑوں افراد وابستہ ہیں اگر سرکاری اشتہارات بند کئے گئے تو میڈیا ملازمین سمیت ہزاروں صحافی بیروزگار ہو جائیں گے۔

جوائنٹ سیکریٹری شکیل احمد ترابی نے خبر رساں ایجنسیوں کے لئے پارلیمنٹ سے منظور شدہ بجٹ وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے نجی خبر رساں ایجنسیوں کو جاری نہ کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبر رساں ایجنسیوں کو فوری طور پر بجٹ ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

ملاقات میں ویڈیو لنک کے ذریعے سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک، نائب صدور سردار خان نیازی، اکرام سہگل، محمد حیدر امین، انور ساجدی، ڈاکٹر حافظ ثنا اللہ خان، سابق سیکریٹری جنرل اعجازالحق، چیئرمین پنجاب کمیٹی ارشاد احمد عارف، سابق انفارمیشن سیکریٹری کاظم خان، ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر محمود، فنانس سیکریٹری حامد حسین عابدی، انفارمیشن سیکریٹری عبدالرحمان منگریو، جوائنٹ سیکریٹری غلام نبی چانڈیو، طاہر فاروق، تنویر شوکت، شکیل احمد ترابی اور عارف بلوچ نے شرکت کی ۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

انسداد دہشتگردی عدالت نے موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزمان کو سزائے موت سنا دی .

لاہور: 20 مارچ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے موٹر …

Skip to toolbar