Breaking News
Home / پاکستان / آپریشن ردالفساد کے دوران 78 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، ڈی آئی ایس پی آر

آپریشن ردالفساد کے دوران 78 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں، ڈی آئی ایس پی آر

اسلام آباد:22 فروری ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاک فوج کےترجمان جنرل میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ آپریشن ردالفساد کے دوران 78 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور ان کے معاونین کے خلاف انٹیلیجنس کی بنیادوں پر ایکشن لیے گئے، طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا آپریشن رد الفساد کے 4 سال پورے ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپریشن 22 فروری 2017 کو شروع کیا گیا تھا، آپریشن کا مقصد دہشتگردوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر کرنا اور عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن ردالفساد کے تحت بڑے بڑے دہشتگرد نیٹ ورک ختم کیے گئے اور دہشتگردوں کو قومی دھارے میں شامل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ردالفساد کا دائرہ کار مختلف شعبوں بلکہ پورے ملک پر محیط تھا، آپریشن کے دوران بہت سے لوگ بے دخل ہوئے لیکن پیغام پاکستان نے شدت پسندی کے بیانیے کو بڑی حد تک شکست دی، عوام کی مدد سے سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کو شکست دی، اور مستقبل میں بھی عوام کے تعاون سے ہر چیلنج پر قابو پائیں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ امن کی کوششوں میں تمام علمائے کرام کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور عوام کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن نہیں تھی۔ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ یوم پاکستان پر بھرپور قومی جوش و جذبے کے ساتھ پریڈ کا انعقاد کیا جائے گا۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا دہشتگردی کے خاتمے سے معاشی اشاریے بھی بہتر ہوئے ہیں، کراچی میں امن و امان کی صورتحال واضح بہتری ہوئی ہے اور ٹیررازم سے ٹورازم تک کا یہ سفر انتہائی کٹھن اور صبر آزما تھا، آج کھیل کے میدان آباد ہیں۔

فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے حوالے سےمیجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ان کی آبزرویشن پر بہت کام کیا گیا، ایف سے ٹی ایف کے معاملے پر بہت پرامید ہیں۔افغانستان کی جانب سے سرحد پر دہشتگرد حملوں سے متعلق سوال پر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان سے جڑا ہے اور سابق فاٹا میں پوسٹنگ معمول پر آنے کے بعد دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئے گی۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا افغان امن عمل پاکستان کے لیے بہت اہم ہے لیکن اس عمل میں پاکستان کسی فریق کی حمایت نہیں کر رہا، افغان امن عمل میں پاکستان کی واحد دلچسپی افغانستان میں امن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف چلنے والے پروپیگنڈے کا بڑی حد تک خاتمہ کر چکے اور اس پر مزید کام بھی ہو رہا ہے۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

بھارت میں مشتعل کسانوں نے 8 مارچ کو پارلیمنٹ کے گھیراؤ کا اعلان کردیا۔

نئی دہلی : 22 فروری ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) بھارت میں زرعی قوانین …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Skip to toolbar