Breaking News
Home / بزنس / آئندہ مالی سال 2020-21میں مہنگائی 9.1 فیصد سے کم کر کے ساڑھے چھ فیصد تک لانے کی تجویز

آئندہ مالی سال 2020-21میں مہنگائی 9.1 فیصد سے کم کر کے ساڑھے چھ فیصد تک لانے کی تجویز

آئندہ مالی سال 2020-21میں مہنگائی 9.1 فیصد سے کم کر کے ساڑھے چھ فیصد تک لانے کی تجویز

آٹو، موٹر سائیکل رکشہ اور 200 سی سی کی موٹر سائیکل پر ایڈوانس ٹیکس نہیں لیا جائے گا،پاکستان میں موبائل فون بنانے کی اجازت ہوگی ، 50 ہزار سے 1 لاکھ کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا ہو گا، عام خریدار کے لیے شناختی کارڈ کی حد 1 لاکھ روپے ہے، سیمنٹ پر ڈیوٹی 75 اعشاریہ 1 فی کلو کم کرنے کی تجویز ہے، ٹیکس ادا کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے کے لیے ایپ متعارف کرائی گئی ہے، ٹیکس ناہندگان کے لیے اسکول فیس پر ٹیکس کی شرط برقرار ہے،2 لاکھ روپے سے زائد سالانہ فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو 100 فیصد زائد ٹیکس دینا پڑے گا،بجٹ تقریر

ماضی کی حکومتوں کے بھاری قرضوں کی وجہ سے 5 ہزار ارب کا سود ادا کیا گیا،اسٹیٹ بینک سے ادھار لینے کا سلسلہ بند کیا،طویل لاک ڈاﺅن اور کاروباری سرگرمیاں بند ہوئیں، سفری پابندیوں سے معیشت کو نقصان ہوا،کورونا کے تدارک کے لیے 12 سو ارب روپے سے زائد کے پیکیج کی منظوری دی گئی ہے،کورونا وائرس کی صورتِ حال میں خصوصی ترقیاتی بجٹ کی مد میں 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ،کفایت شعاری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کو یقینی بنایا جائے گا،وفاقی وزیر حماد اظہر کے تقریرکے اہم نکات

فنکاروں کی مالی امداد کےلئے آرٹسٹ پروٹیکشن فنڈ 25 کروڑ سے بڑھا کر 1 ارب کر دیا گیا

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئندہ مالی سال 2020-21میں مہنگائی 9.1 فیصد سے کم کر کے ساڑھے چھ فیصد تک لانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آٹو، موٹر سائیکل رکشہ اور 200 سی سی کی موٹر سائیکل پر ایڈوانس ٹیکس نہیں لیا جائے گا،پاکستان میں موبائل فون بنانے کی اجازت ہوگی ، 50 ہزار سے 1 لاکھ کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا ہو گا، عام خریدار کے لیے شناختی کارڈ کی حد 1 لاکھ روپے ہے، سیمنٹ پر ڈیوٹی 75 اعشاریہ 1 فی کلو کم کرنے کی تجویز ہے، ٹیکس ادا کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے کے لیے ایپ متعارف کرائی گئی ہے، ٹیکس ناہندگان کے لیے اسکول فیس پر ٹیکس کی شرط برقرار ہے،2 لاکھ روپے سے زائد سالانہ فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو 100 فیصد زائد ٹیکس دینا پڑے گاجبکہ وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کے بھاری قرضوں کی وجہ سے 5 ہزار ارب کا سود ادا کیا گیا،اسٹیٹ بینک سے ادھار لینے کا سلسلہ بند کیا،طویل لاک ڈاﺅن اور کاروباری سرگرمیاں بند ہوئیں، سفری پابندیوں سے معیشت کو نقصان ہوا،کورونا کے تدارک کے لیے 12 سو ارب روپے سے زائد کے پیکیج کی منظوری دی گئی ہے،کورونا وائرس کی صورتِ حال میں خصوصی ترقیاتی بجٹ کی مد میں 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ،کفایت شعاری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

جمعہ کو وفاقی وزیرِ صنعت و پیداوار حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں مالی سال 21-2020ءکا وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔وفاقی وزیر حماد اظہر نے بجٹ تقریر کے دوران پاک فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسی پر افواجِ پاکستان کے شکر گزار ہیں۔وفاقی وزیر حماداظہر نے بتایاکہ بجٹ میں حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے، مہنگائی 9 اعشاریہ 1 فیصد سے کم کرکے ساڑھے 6 فیصد تک لانےکی تجویز دی گئی ہے۔انہوںنے بتایا کہ پانی کے منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے، ایم ایل ون کے لیے 34 ارب مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ درآمدی سگریٹ، بیڑی اور سگار میں ایف ای ڈی میں اضافہ کیا گیا ہے، درآمدی سگریٹ پر ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑھا کر100 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔انہوںنے بتایاکہ آٹو، موٹر سائیکل رکشہ اور 200 سی سی کی موٹر سائیکل پر ایڈوانس ٹیکس نہیں لیا جائے گا،پاکستان میں موبائل فون بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے، پاکستان میں تیار کیے گئے موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کم کرنے کی تجویز پیش کی گئی،کیفین والے مشروبات پر ٹیکس 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی، مشکل سفر سے ابتدا کی، مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے عوام کا تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ معاشی بحران ورثے میں ملا، ملک دیوالیہ ہونے کےقریب تھا،گزشتہ حکومت میں بجٹ خسارہ 2300 ارب کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب کی انتہاپر پہنچ چکا تھا،ملکی قرض 31 ہزار ارب پر پہنچ چکا تھا، منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے ماضی میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا تھا۔ گزشتہ 5 برسوں میں برآمدات میں بھی کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا، 2 سال کے دوران کرپشن کا خاتمہ کیا، سود کی ادائیگیوں کے لیے 2 ہزار 946 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن کی ادائیگی کے لیے 470 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔انہوںنے بتایاکہ شرح نمو میں بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کیئے، ہمارا مقصد معیشت کی بحالی ہے۔انہوںنے کہاکہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم 650 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، نان ٹیکس ریونیو 1108 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 963 ارب روپے رکھا گیا ہے، ایف بی آر کے ریونیو میں 17 فیصد اضافہ ہوا، نجکاری سے آمدن کا تخمینہ 100 ارب روپے رکھا گیا ہے۔انہوںنے بتایا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم 650 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، نان ٹیکس ریونیو 1108 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، ایف بی آر کےلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 963 ارب روپے رکھا گیا ہے، کرپشن کا خاتمہ اور ادارواں کی بحالی پہلی ترجیح رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لے کر آئے، 16 سو ارب کی وصولیوں کا ہدف پورا کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ 5 ہزار ارب کا سود ادا کیا گیا، خزانے پر گزشتہ حکومتوں کے قرضوں کے سود کا بوجھ اتارا، تحریکِ انصاف سماجی انصاف پر یقین رکھتی ہے اور اس کے حصول پر کار بند ہے۔

انہوں نے کہاکہ رواں مالی سال کے پہلے 5 ما ہ میں بجٹ خسارہ 5 فیصد سے کم ہو کر 3 اعشاریہ 8 فیصد رہ گیا تھا۔ انہوںنے کہاکہ ماضی کی حکومتوں کے بھاری قرضوں کی وجہ سے 5 ہزار ارب کا سود ادا کیا گیا، پاکستان کی بہتر ہوتی معیشت دیکھ کر آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کے ایکسپینڈڈ فنڈز کی منظوری دی۔انہوںنے کہاکہ بلوم برگ نے دسمبر میں پاکستان کو دنیا کی بہترین معیشتوں میں سے ایک قرار دیا، موڈیز نے بھی ہماری ریٹنگ کو بہتر قرار دیا۔انہوںنے کہاکہ منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ کے خلاف اقدام نہ کرنے سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں گیا۔انہوںنے کہاکہ جون 2018ءکو پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں ڈالا گیا ، ہماری حکومت نیشنل ایف اے ٹی ایف کمیٹی بنا کر اس میں بہتری لائی۔انہوںنے کہاکہ ہم نے 2 سال میں نمایاں معاشی اعشاریے بہتر کیے۔انہوںنے کہاکہ تجارتی خسارے میں 31 فیصد کمی کی، بجٹ خسارہ بھی 3 فیصد تک لایا گیا۔انہوںنے کہاکہ اس مالی سال 1160 ارب کے مقابلے میں 1600 ارب ریونیو حاصل کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ ماضی کے بھاری قرضوں کی وجہ سے گزشتہ 2 سال میں بھاری سود ادا کیا۔انہوںنے کہاکہ 9 ماہ میں 17 ارب ڈالر غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر ہوگئے، 74 فیصد قرضہ جات کو طویل المدتی قرضوں میں تقسیم کیا، اسٹیٹ بینک سے ادھار لینے کا سلسلہ بند کیا۔انہوںنے کہاکہ کرنسی کا ریٹ مارکیٹ اورینٹل کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ تجارتی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا گیاانہوںنے کہاکہ سرکاری اداروں کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور شفاف نجکاری کی گئی۔انہوںنے کہاکہ میڈ اِن پاکستان کے ساتھ پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچائی گئیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت نے تمام صوبوں میں شفاف احتساب کے لیے اسٹرکچر اصلاحات کیں۔انہوںنے کہاکہ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019ءکا پہلی بار نفاذ کیا گیا ہے،پنشن کے نظام میں اصلاحات لائی گئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ڈاکٹرعشرت حسین کی سربراہی میں ٹیم بنائی گئی۔انہوںنے کہاکہ ٹیم نے 45 اداروں کی نجکاری، 14 اداروں کی صوبوں کو منتقلی کا پلان دیا۔

انہوں نے کہاکہ تجارتی خسارے میں 31 فیصد کمی کی گئی۔انہوںنے کہاکہ کورونا وائرس کی وباءسے پاکستان کی معیشت کو جھٹکا لگا، طویل لاک ڈاﺅن اور کاروباری سرگرمیاں بند ہوئیں، سفری پابندیوں سے معیشت کو نقصان ہوا، صنعتیں اور کاروبار بند ہونے سے جی ڈی پی میں 2100 ارب کی کمی ہوئی۔انہوںنے کہاکہ کورونا اخراجات، مالیاتی اخراجات کو بیلنس رکھنا بجٹ کی ترجیحات میں ہے،کورونا کے تدارک کے لیے 12 سو ارب روپے سے زائد کے پیکیج کی منظوری دی گئی ہے۔انہوںنےن کہاکہ کورونا وائرس کی صورتِ حال میں خصوصی ترقیاتی بجٹ کی مد میں 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کورونا وائرس کے باعث 73 فیصد جاری منصوبوں اور 27فیصد نئے فنڈز مختص کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کورونا سے بچاﺅ کے لئے خصوصی 70 ارب کا پروگرام مختص کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کورونا اور دیگر آفات سے نمٹنے کے لیے الگ 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ 100 ارب ایف بی آر کے لیے مختص تھے۔انہوںنے کہاکہ کسانوں کو 50 ارب کی رقم دی گئی۔انہوںنے کہاکہ وفاقی حکومت کے اخراجات میں مختلف پیکیجز سے اضافہ ہوا۔انہوںنے کہاکہ معیشت کی بہتری کے لیے کنسٹرکشن سیکٹر کو ریلیف دیا۔انہوںنے کہاکہ لاک ڈاﺅن کے برے اثرات کے ازالے کے لیے اسٹیٹ بینک نے بھی خصوصی ریلیف دیا۔

انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ بینک نے انفرادی قرضوں کے لیے بینکوں کو 800 ارب روپے دیے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ مال سال میں کوئی ضمنی گرانٹ نہیں دی گئی۔انہوںنے کہاکہ خصوصی علاقوں فاٹا اور گلگت بلتستان کے لیے خصوصی بجٹ رکھا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ کفایت شعاری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ بلین ٹری سونامی اور نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم کو بجٹ میں تحفظ دیا گیا ہے، نان ٹیکس ریونیو میں اضافے کی توقع ہے۔انہوںنے کہاکہ احساس پروگرام کو 187 سے بڑھا کر 208 ارب کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ توانائی اور خوراک سمیت 180 ارب کی رقم مختص کی ہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت اِن مشکل حالات میں کفایت شعاری کے اصولوں پر کاربند ہے۔انہوںنے کہاکہ دفاع کے لیے 12 کھرب 89 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مجموعی طور پر 875 ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ میں رکھی گئی۔انہوںنے کہاکہ طبی آلات کی خریداری کے لیے 71 ارب، غریب خاندانوں کے لیے 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایمرجنسی فنڈ کے لیے 100 ارب مختص کیے گئے ہیں، آزادجموں کشمیر کے لیے 55 ارب، گلگت بلتستان کے لیے 32 ارب مختص کیے ہیں، کے پی کے میں ضم اضلاع کے لیے 56 ارب بھی مختص کیے جا رہے ہیں، سندھ کے لیے 19 ارب، بلوچستان کے لیے 10 ارب کی خصوصی گرانٹ رکھی گئی ہے، توانائی اور خوراک کے شعبے میں 180 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ خصوصی علاقے آزاد کشمیر کے لیے 72 ارب مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ای گورننس کے ذریعے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تیار پلان کے لیے 1 ارب سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ فنکاروں کی مالی امداد کےلئے آرٹسٹ پروٹیکشن فنڈ 25 کروڑ سے بڑھا کر 1 ارب کر دیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ عوام کو سستی ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے لیے ریلوے کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پی ایس ڈی پی کے لیے 650 ارب روپے مختص کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ توانائی اور بجلی کے لیے 80 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، دیا میر بھاشا، مہمند اور داسو ڈیمز کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ سماجی شعبے کے لیے 250 ارب مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مواصلات کے دیگر منصوبوں کے لیے 37 ارب رکھے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ تعلیمی منصوبوں اور مدرسوں کا نصاب ضم کرنے اور ای اسکولز کے قیام کے لیے 5 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آبی وسائل کے لیے مجموعی طور پر 69 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف کم کر کے 3900 مقرر کر دیا ہے، لاہور وفاق اور کراچی کے ہسپتالوں کے لیے 13 ارب مختص کیے گئے ہیںانہوںنے کہاکہ زراعت ریلیف میں 10 ارب مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ پی ایس ڈی پی کے لیے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بجلی کا ترسیلی نظام بہتر بنانے کے لیے 80 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے لیے 6 ارب مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ قومی شناختی کارڈ سے متعلق شرط 50 ہزار سے بڑھا کر 1 لاکھ کر دی گئی۔انہوںنے کہاکہ ڈبل کیبن گاڑیوں پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی۔انہوںنے کہاکہ ایف اے ٹی ایف کے 14 نکات پر مکمل جبکہ 11 نکات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ اسٹیٹ بینک انفرادی قرضوں کے لیے 800 ارب روپے مختص کرے گا۔انہوںنے کہاکہ ٹیکس ادا کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے کے لیے ایپ متعارف کرائی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ افغانستان کی بحالی کی مد میں 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بلوچستان کو 10 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ دی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ ٹیکس دہندگان کے لیے اسکولوں فیس پر ٹیکس کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ ٹیکس ناہندگان کے لیے اسکول فیس پر ٹیکس کی شرط برقرار ہے۔انہوںنے کہاکہ ایکسائز ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کر دی گئی ہے، انرجی ڈرنکس پر ایکسائز ڈیوٹی 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی گئی۔انہوںنے کہاکہ الیکٹرانک سگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے، ڈبل کیبن پک اپ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہو گی، بھاری فیسیں لینے والے تعلیمی اداروں پر 100 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ 2 لاکھ روپے سے زائد سالانہ فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو 100 فیصد زائد ٹیکس دینا پڑے گا۔انہوںنے کہاکہ ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کو بھی بجٹ میں مدِنظر رکھا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ زراعت کے شعبے اور ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے 10ارب مختص کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ تعلیمی اداروں اور شادی ہالز کے ٹیکس پر کمی کی جا رہی ہے، 50 ہزار سے 1 لاکھ کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا ہو گا۔انہوںنے کہاکہ عام خریدار کے لیے شناختی کارڈ کی حد 1 لاکھ روپے ہے۔انہوںنے کہاکہ سیمنٹ پر ڈیوٹی 75 اعشاریہ 1 فی کلو کم کرنے کی تجویز ہے۔

User Rating: Be the first one !

About Daily Pakistan

Check Also

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین میں ایک بینک اکاؤنٹ نکل آیا. نیویارک ٹائمز

چین میں بینک اکاؤنٹ کے ذریعے مقامی ٹیکسوں کی مد میں ایک لاکھ 88 ہزار …

Skip to toolbar